Thursday, March 20, 2025

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے


عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے جگاتے اور (عبادت میں) کوشش کرتے اور کمر کس لیتے۔    

[صحیح] - [متفق علیہ]

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:

«مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»   

[صحيح] - [متفق عليه] - [صحيح البخاري: 35

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

"جوایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے شب قدر میں قیام کرتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔    

[صحیح] - [متفق علیہ] - [صحيح البخاري - 35]

شرح

اللہ کے نبی ﷺ یہاں شب قدر کی فضیلت بیان کر رہے ہيں، جو ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوا کرتی ہے۔ اس رات کی فضیلت یہ ہے کہ جس نے اس رات کی فضیلت پر یقین رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل کرنے کی نیت سے اس میں جاگ کر نماز پڑھی، دعا کی، قرآن کی تلاوت کی، ذکر و اذکار میں مشغول رہا اور اپنے عمل کو ریاکاری اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک رکھا، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔    

 حدیث کے کچھ فوائد

شب قدر کی فضیلت اور اس میں قیام کی ترغیب۔ 

نیک اعمال اسی وقت قبولیت سے سرفراز ہوتے ہيں، جب انہیں نیک نیتی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ 

اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہی ہے کہ ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرنے والے کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ 

شرح

جب رمضان کی آخری دس راتیں آتیں تو نبی ﷺ ساری ساری رات مختلف قسم کی عبادتیں کرتے ہوئے گزارتے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کے لیے بیدار کرتے۔ معمول سے بڑھ کر عبادت میں محنت کرتے اور اس کے لیے یکسو ہو جاتے اور اپنی بیویوں سے دور رہتے۔  

عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: «تَحَرَّوْا ليلة القَدْر في الوِتْرِ من الْعَشْرِ الأوَاخِرِ».   

[صحيح] - [متفق عليه] 


ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شب قدر کو (رمضان کے) آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو“۔    

[صحیح] - [متفق علیہ]

شرح

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے شب قدر کو تلاش کرنے اور اس میں نیک اعمال اور قیام اللیل کرنے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ شب قدر کو اسی طرح سے تلاش کیا جائے گا، اور یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔

ن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما : أن رجالا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أرُوا ليلة القدر في المنام في السبع الأواخر. فقال النبي صلى الله عليه وسلم :« أرى رؤياكم قد تواطأت في السبع الأواخر، فمن كان مُتحرِّيها فليتحرّها في السبع الأواخر».   

[صحيح] - [متفق عليه] 

المزيــد ...


عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے کچھ صحابہ کو خواب میں دکھائی دیا کہ شبِ قدر (رمضان کی) آخری سات تاریخوں میں ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب آخری سات تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں۔اس لیے جسے اس (شب قدر) کی تلاش ہو وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے“    

[صحیح] - [متفق علیہ]


شرح

شب قدر عظمت، شرف ومنزلت والی رات ہے۔ اس میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور گناہ معاف ہوتے ہیں اور مختلف امور کے فیصلہ کیے جاتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب اس رات کی فضیلت اور اس کے علو مرتبت کا علم ہوا تو وہ اس کے وقت کو جاننے میں لگ گئے تاہم اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ اپنی حکمت و رحمت کی بدولت اسے ان سے مخفی رکھا تاکہ وہ راتوں میں اسے زیادہ سے زیادہ تلاش کریں اور یوں زیادہ سے زیادہ عبادت کر سکیں جس کا نفع بالآخر انہی کو ہی ہو گا۔ صحابہ کرام کو خواب میں یہ رات دکھائی دیا کرتی تھی اور ان کے خوابوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ یہ رمضان کے آخری سات راتوں میں ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے خواب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ رات آخری سات راتوں میں ہے، چنانچہ جو اسے تلاش کرنا چاہتا ہو وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے“۔ خاص طور پر آخری عشرہ کی طاق راتوں میں کیونکہ زیادہ امید یہی ہے کہ وہ انہی میں سے کوئی ہو گی۔ چنانچہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ رمضان مبارک (میں عبادت) کا اہتمام کرے، خصوصاً آخری عشرے میں اور ستائیسویں رات کا سب سے زیادہ اہتمام کرے۔



رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...