Sunday, March 6, 2022

جنسی مسائل اور کیا بغیر غسل کے دوبارہ جماع کیا جاسکتا ہے


دین اسلام انسانی زندگی کے تمام تقاضے بحسن وخوبی پورا کرتا ہے بلکہ زندگی کے تمام امور کےلئےپاکیزہ اصول اور فطری نظام پیش کرتا ہے ۔ اللہ تعالی حق بات کہنے سے نہیں شرماتا، اس نے ہمیں اپنے پیغمبر کے ذریعہ زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بتلادی ۔ نکاح اور بیوی سےجماع شرمگاہ کی حفاظت کے ساتھ افزائش نسل کا سبب ہے پھر اللہ اتنی بڑی بات کیسے نہیں بتلاتا، یہ بھی ہمیں بتلادیا۔آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں برائی فیشن اوربے حیائی عام سی بات ہوگئی ہے ۔اللہ نے ہمیں کفر وضلالت سے نجات دے کر ایمان وہدایت کی توفیق بخشی ہے، ہمیں ہمیشہ اپنا قدم بڑھانے سے پہلے سوچنا ہےکہ کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہورہی ہے ، ہرہرقدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہے۔
انس بن مالک نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن اور رات کے ایک ہی وقت میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور یہ گیارہ تھیں ۔ ( نو منکوحہ اور دو لونڈیاں ) راوی نے کہا ، میں نے انس سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت رکھتے تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کے برابر طاقت دی گئی ہے اور سعید نے کہا قتادہ کے واسطہ سے کہ ہم کہتے تھے کہ انس نے ان سے نو ازواج کا ذکر کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لأَنَسٍ أَوَكَانَ يُطِيقُهُ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلاَثِينَ‏.‏ 

وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ تِسْعُ نِسْوَةٍ‏.‏


Sahih al-Bukhari 268



پیدائش کے بعد جب کوئی جوانی کی دہلیز پہ قدم
 رکھتا ہے تو اسے فطری سکون حاصل کرنے کے لئے شریک حیات کی ضرورت پیش آتی ہے، اسلام نے شریک حیات بنانے کےلئے نکاح کا پاکیزہ نظام پیش کیا ہے ۔ نکاح سے انفرادی اور سماجی دونوں سطح پہ فساد وبگاڑ کا عنصر ختم ہوجاتا ہے اور گھر سے لیکر سماج تک ایک صالح معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے ۔
نکاح کرکے دو اجنبی آپسی پیار ومحبت میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں جہاں اجنبیت عنقا اور اپنائیت قدیم رشتہ نظر آتا ہے۔میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بن جاتےہیں ، پاکیزہ تعلق یعنی عقد نکاح کے بعد آپس کی ساری اجنبیت اور سارا پردہ اٹھ جاتا ہے گویا دونوں ایک جاں دو قالب ہوجاتے ہیں ۔ یہ اللہ کا بندوں پر بڑا احسان ہے ۔ میاں بیوی کے جنسی ملاپ کو عربی میں جماع اور اردو میں ہمبستری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ جس طرح اسلام نے نکاح کاپاکیزہ نظام دیا ہے اسی طرح جماع کےبھی صاف ستھرےرہنما اصول دئے ہیں ، ان اصولوں کی جانکاری ہر مسلم مردوخاتون پر ضروری ہے ۔سطور ذیل میں جماع کا طریقہ اور اس سے متعلق آداب ومسائل بیان کررہاہوں۔  
یہودیوں کا خیال تھا کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کرنے سے لڑکا بھینگا پیدا ہوگا ، اللہ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ(البقرة:223)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جس طرح سے چاہیں جماع کرسکتے ہیں ، شوہر کے لئے بیوی کی اگلی شرمگاہ ہی حلال ہے اور پچھلی شرمگاہ میں وطی کرنا حرام ہے چنانچہ اس بات کو اللہ نے اس آیت سے پہلے بیان کیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة:222)
ترجمہ:آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ ، ہاں جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
یہاں پر اللہ حکم دے رہا ہے کہ حیض کی حالت میں بیوی سے جماع نہ کرو اور جب حیض سے پاک ہوکر غسل کرلے تواس کے ساتھ اس جگہ سے جماع کرو جس جگہ جماع کرنے کی اجازت دی ہے ۔ حیض اگلی شرمگاہ سے آتا ہے، حیض کا خون آنے تک جماع ممنوع ہےا ور جب حیض بند ہوجائے تو اسی جگہ جماع کرنا ہےجہاں سے خون آرہا تھا۔
" نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ" کی تفسیر صحیح احادیث سے بھی ملاحظہ فرمالیں تاکہ بات مزید واضح ہوجائے۔راوی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی :(نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ)أي مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ ومُستَلقِياتٍ يعني بذلِكَ مَوضعَ الولَدِ(صحيح أبي داود:2164)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو یعنی خواہ آگے سے خواہ پیچھے سے خواہ لٹا کر یعنی اولاد والی جگہ سے ۔
ایک دوسری روایت میں ابن عباس ہی سے مروی ہے ۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ أقبِلْ وأدبِرْ، واتَّقِ الدُّبرَ والحَيضةَ(صحيح الترمذي:2980)
ترجمہ:تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو خواہ بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرومگر پچھلی شرمگاہ سے بچو اور حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بچو۔
آج کے پرفتن دور میں میاں بیوی کو اسلام کی یہ بات جاننی چاہئے اور اسے ہی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہئے ، جولوگ فحش ویڈیوز دیکھ کر غلط طریقے سے منی خارج کرتے ہیں اس کی زندگی سے حیا نکل جاتی ہے ،لمحہ بہ لمحہ بے حیائی کی راہ چلنے لگتا ہے۔یاد رکھیں ، بیوی سے اسلامی طریقے سے جماع کرنا بھی باعث ثواب ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
وفي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قالوا: يا رَسولَ اللهِ، أَيَأتي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكونُ له فِيهَا أَجْرٌ؟ قالَ: أَرَأَيْتُمْ لو وَضَعَهَا في حَرَامٍ أَكانَ عليه فِيهَا وِزْرٌ؟ فَكَذلكَ إذَا وَضَعَهَا في الحَلَالِ كانَ له أَجْرٌ.(صحيح مسلم:1006)
ترجمہ: اور(بیوی سے جماع کرتے ہوئے) تمہارے عضو میں صدقہ ہے۔صحابہ کرام ﷺ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ﷺ !ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:بتاؤاگر وہ یہ(خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔
اب نیچے جماع کے چندآداب و مسائل ذکر کئے جاتے ہیں ۔
(1) بیوی سے جماع عفت وعصمت کی حفاظت ، افزائش نسل اور حرام کام سے بچنے کی نیت سے ہو، ایسی صورت میں اللہ نہ صرف جماع پہ اجر دےگا بلکہ نیک اولاد سے بھی نوازے گااوردنیاوی واخروی برکتوں سے نوازے گا۔  
(2) جماع شہوت رانی نہیں ہے بلکہ زوجین کے لئے سکون قلب اور راحت جاں ہے ،اس لئے قبل از جماع شوہر بیوی سے خوش طبعی کی بات کرے اور جماع کے لئے ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر راضی کرے ۔
(3) جماع سے قبل یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : بسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وجَنِّبِ الشَّيْطَانَ ما رَزَقْتَنَا(صحيح البخاري:3271)
ترجمہ:اے اللہ!ہمیں شیطان سے علیحدہ رکھ اور تو جو اولاد ہمیں عنایت فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔ "پھر اگر انھیں بچہ دیا گیا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
(4) جماع کی جگہ آواز سننے والا اور دیکھنے والا کوئی نہ ہو یعنی ڈھکی چھپی جگہ ہواور جماع کی حد تک شرمگاہ کھولنا کافی ہے تاہم ایک دوسرے کو دیکھنا اور مکمل برہنہ ہونا آپس میں جائز ہے ، جس حدیث میں مذکور ہے کہ جماع کے وقت بیوی کی شرمگاہ دیکھنے سے اندھے پن کی بیماری لاحق ہوتی ہے اسے شیخ البانی نےموضوع حدیث قراردیاہے۔ اوراسی طرح وہ ساری احادیث بھی ضعیف ہیں جن میں مذکور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک دوسرے کی شرمگاہ نہیں دیکھیں۔
(5) بحالت احرام اور بحالت روزہ جماع ممنوع ہے ،باقی دن ورات کے کسی حصے میں جماع کرسکتے ہیں ۔حالت حیض اور حالت نفاس میں صرف جماع کرنا منع ہےمگر جماع کے علاوہ بیوی سے لذت اندوز ہونا جائز ہے۔ اگر کسی نے حیض کی حالت میں جماع کرلیا تو ایک دینا ر یا نصف دینا صدقہ کرنا ہوگا ساتھ ہی اللہ سے سچی توبہ کرے تاکہ آئندہ اللہ کا حکم توڑ کر معصیت کا ارتکاب نہ کرے ۔یہی حکم نفاس کی حالت میں جماع کا ہے البتہ صحیح قول کی روشنی میں مستحاضہ سے جماع کرنا جائز ہے۔
(6)دوران حمل بیوی سے جماع کرنا جائز ہے تاہم شوہر کو اس کنڈیشن میں ہمیشہ بیوی کی نفسیات ، صحت اور آرام کا خیال رکھنا چاہئے ۔ حمل کی مشقت بہت سخت ہے ، قرآن نے اسے دکھ پر دکھ کہا ہے ۔اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر اس دوران جماع کرنے سے شوہر کومنع کرتے ہیں لہذا اس سلسلے میں طبی مشورے پر عمل کیا جائےخصوصا حمل کے آخری ایام کافی دشوار گزار ہوتے ہیں ان دنوں جماع کرنا پرخطر ثابت ہوسکتا ہے ۔
(7)مطلقہ رجعیہ کی عدت میں جماع کرنا رجعت ہے کہ نہیں اس پہ اہل علم میں مختلف اقوال ہیں ، ان میں قول مختار یہ ہے کہ اگر شوہر نے رجوع کی نیت سے جماع کیا ہے تو رجوع ثابت ہوگا اور اگر بغیر رجوع کی نیت سے جماع کرلیا تو اس سے رجوع نہیں ہوگا مثلا شہوت ابھر جانے سے عدت میں جماع کرلینا۔
(8)لوگ جماع کے دوران شہوت کی باتیں کرنے سے متعلق سوال کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، نہ ہی عیب کی بات ہے ، ہاں فحش اور بے ہودہ باتیں جس طرح عام حالات میں ممنوع ہیں اسی طرح دوران جماع بھی ممنوع ہوں گی ۔
(9)جماع سے قبل شہوت بھڑکانے کے لئے جنسی قوت والی ادویات کا استعمال جسم کے لئے نقصان دہ ہے لہذا اس چیز سے اجتناب کریں ،ہاں کسی آدمی میں جنسی کمزوری ہو تو ماہر طبیب سے اس کا علاج کرائیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ 
(10) بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جماع کرنا حیض ونفاس سے پاکی کی حالت میں جائز ہے اورجماع کرنے کے لئے بیوی سے بوس وکنار ہونا، خوش طبعی کرنا، جماع کے لئے تیار کرنے کے واسطے اعضائے بدن بشمول شرمگاہ چھونا یا دیکھنا جائز وحلال ہے ۔ پھر اگلی شرمگاہ میں جماع کے لئے جو کیفیت وہیئت اختیار کی جائے تمام کیفیات جائز ہیں ۔ یاد رہے جماع کی خواہش بیدار ہونے اور اس کا مطالبہ کرنے پر نہ شوہربیوی سے انکار کرے اور نہ ہی بیوی شوہر سے انکار کرے ۔
(11) شوہر کے لئے بیوی کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اسے چومنا بے حیائی ہے۔ اسی طرح بیوی کے لئے مرد کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اسے چومنا اور منہ میں داخل کرنا بے حیائی ہے ۔ ان دو باتوں کا ایک جملے میں خلاصہ یہ ہے کہ عورت کی شرمگاہ چومنا اور منہ سے سیکس(اورل سیکس) کرنا سراپابے حیائی ہے اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے خلاف ہے ۔
(12) میاں بیوی کا ایک دوسرے سے غیرفطری طریقے سے منی خارج کروانا بھی متعددجسمانی نقصانات کے ساتھ بے حیا لوگوں کا راستہ اختیار کرنا ہے ، مومن ہر کام میں حیا کا پہلو مدنظر رکھتا ہے ۔ عموما شوہر اپنی بیوی کو غیرفطری طریقہ مباشرت اپنانے اور بے حیائی کا اسلوب اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے ایسی عورت کے سامنے عہد رسول کی اس انصاری عورت کا واقعہ ہونا چاہئے جس کے قریشی یعنی مہاجرشوہر نے اس سے اپنے یہاں کے طریقہ سے مباشرت کرنا چاہاجوانصاری کے یہاں معروف نہ تھا تو اسکی بیوی نے اس بات سے انکار کیا اور کہا ہم صرف ایک ہی انداز سے جماع کے قائل ہیں لہذا وہی طریقہ اپناؤ یا مجھ سے دور رہو ۔یہاں تک کہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی اور اس وقت قرآن کی آیت (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ) نازل ہوئی جس کی تفسیر اوپر گزرچکی ہے۔ واقعہ کی تفصیل دیکھیں: (صحيح أبي داود:2164)
(13) نبی ﷺکا فرمان ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کی دبر میں آتاہے،وہ ملعون ہے(صحیح ابی داؤد:2162)۔لہذا کوئی مسلمان لعنتی کام کرکے خود کوقہر الہی کا سزاوار نہ بنائے ۔ کسی سے ایسا گھناؤنا کام سرزد ہوگیا ہو تو وہ فورا رب کی طرف التفات کرے اور اللہ سے توبہ کرکے گناہ معاف کرالے۔جہاں تک لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنے سے نکاح باطل ہوجاتا ہے سو ایسی بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
(14) ایک ہی رات میں دوبارہ جماع کرنے سے پہلے اگر میسر ہو تو غسل کرلیا جائے، یا وضو کرلیا جائے ۔ بغیر وضو کے بھی دوبارہ جماع کرسکتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک غسل سے کئی ازواج سے مباشرت فرماتے تھے ۔
(15) مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہونے سے عورت ومرد دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے منی کا انزال ہو یا نہ ہو۔ حالت جنابت میں سویا جاسکتا ہے تاہم فجر سے پہلےیا جو وقت ہواس نماز کے واسطے غسل کر لےتاکہ بلاتاخیر وقت پہ نماز پڑھ سکے ۔ حالت جنابت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتے مگرذکرو اذکار، دعاوسلام، کام کاج ، بات چیت،کھاناپینا سب جائز ہیں حتی کہ سحری بھی کھاسکتے ہیں۔
(16)جب جماع کی حالت میں اذان ہونے لگے یا اقامت کی آواز سنائی دے تو اس عمل کو جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس سے جلد فراغت حاصل کرکے اور غسل کرکے نمازادا کریں۔یاد رہے اذان سننے کے بعد بھی قصدا بستر پر لیٹے رہنا حتی کہ اقامت ہونے لگے تب جماع کرنا ہماری کوتاہی اور نماز سے غفلت ہے۔جہاں تک اذان کے جواب کا مسئلہ ہے تو یہ سب پر واجب نہیں بلکہ فرض کفایہ اوربڑے اجر وثواب کا حامل ہے اس لئے میاں بیوی سے بات چیت یابوس وکنار کے دوران جواب دینا چاہیں تو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جماع کے وقت اذان کا جواب دینے سے علماء نے منع کیا ہے ،جب اس عمل سے فارغ ہوجائیں تو بقیہ کلمات کا جواب دے سکتے ہیں ۔
(17) اولاد کے درمیان ضرورت کے تحت وقفہ کرنے کی نیت سے جماع کرتے ہوئے منی شرمگاہ کے باہر خارج کرنا جائز ہے ، شوقیہ ایسا کرنے سے بہرصورت بچنا چاہئے کیونکہ نکاح کا اہم مقصد افزائش نسل ہے۔
(18) میاں بیوی کی خلوت اور جماع کی باتیں لوگوں میں بیان کرنا بے حیا ئی کی علامت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس عمل سے امت کو منع فرمایا ہے ۔ اس بات سے ان بے حیاؤں کو نصیحت لینا چاہئے جو جماع کی تصویر یا ویڈیو بناتے ہیں پھراسے لوگوں میں پھیلاتے ہیں ۔ نعوذباللہ کتنے ملعون ہیں فحش ویڈیوز بنانے ، پھیلانےاوردیکھنے والے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
كلُّ أمَّتي مُعافًى إلَّا المُجاهِرينَ ، وإنَّ منَ المُجاهرةِ أن يعمَلَ الرَّجلُ باللَّيلِ عملًا ، ثُمَّ يصبِحَ وقد سترَه اللَّهُ ، فيقولَ : يا فلانُ ، عمِلتُ البارحةَ كذا وَكذا ، وقد باتَ يسترُه ربُّهُ ، ويصبِحُ يَكشِفُ سترَ اللَّهِ عنهُ( صحيح البخاري:6069)
ترجمہ:میری تمام امت و معاف کردیا جائے گا مگر جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔ علانیہ گناہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے لیکن صبح ہوتے ہی وہ کہنے لگتا ہے: اے فلاں! میں نے رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپا رکھا تھا جب صبح ہوئی تو وہ خود پر دیےگئے اللہ کے پردے کھو لنے لگا۔
اللہ تعالی ہمارے اندر اسلامی غیرت وحمیت پیدا کردے، حیا کی دولت سے مالامال کردے، بے حیائی سے کوسوں میل دور کردے اور مرتے دم تک اسلام کی پاکیزہ تعلیمات پہ اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہنے کی توفیق بخشے ۔آمین

••᪥✵✪ ﷽ ✪✵᪥••


✳اَلسَّلَامُ عَلَیکُم وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتہ✳


✍️ *قصر نماز کیلئے باجماعت نماز چھوڑنا۔۔۔؟*

🎤 الحمد للہ رب العالمین۔۔۔۔

والصلاة والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد ۔۔۔۔۔۔

📝 ایک بھائی سوال کرتے ہیں....... ہمارے مہمان پندرہ دن کے لئے آئے ہیں گھر کے باہر مسجد ہے گھر میں نماز پڑھتے ہیں ان کا مؤقف یہ ہے کہ ﷲ نے آسانی دی ہے مسجد میں جا کر پوری نماز کیوں پڑھیں ..... 

❓سوال یہ ہے کہ کیا قصر نماز سے فائدہ اٹھانے کے لئے با جماعت نماز چھوڑنا یہ درست ہے۔۔۔۔؟؟ ❗تو گزارش یہ ہے کہ مسلمان پر واجب ہے کہ مسجد میں جا کر با جماعت نماز ادا کریں اور اس سلسلے میں ہمیں قرآن و حدیث سے بہت سے دلائل ملتے ہیں ﷲ تبارک و تعالیٰ خوف کی حالت میں ادا کی جانے والی نماز کے بارے میں کہتے ہیں ......

«« وَاِذَا كُنْتَ فِيْـهِـمْ فَاَقَمْتَ لَـهُـمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَـآئِفَةٌ مِّنْـهُـمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوٓا اَسْلِحَتَـهُـمْۖ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُـوْنُـوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْۖ وَلْتَاْتِ طَـآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ »»

اس آیت میں جو سورہ نساء کی آیت ہے......

 ﷲ تبارک و تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ جب خوف کی حالت ہو , دشمن کا خوف ہو , جنگ کی حالت ہو تب نماز کیسے ادا کی جائیگی..... چنانچہﷲ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ مسلمانوں کے جیش کو , مسلمانوں کےلشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے .....ایک حصہ نبی علیہ الصلاة وآلسلام کی امامت میں نماز ادا کرے اور پھر وہ چلا جائے اور پھر دوسرا گروپ آئےاور وہ بھی نبی علیہ الصلاة والسلام کی امامت میں نماز ادا کرے .....یہاں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی کتنی اہمیت ہے اور وہ اسلئے کہ ﷲ تبارک و تعالیٰ نے خوف کی حالت میں بھی اس بات کی اجازت نہیں دی کہ مسلمان فوجی الگ الگ نماز پڑھیں بلکہ یہ کہا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں ۔۔۔۔

‼️ دوسرے نمبر پر یہ حکم دیا جارہا ہے کہ مسلمان فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ایک حصہ امام کی امامت میں نماز پڑھے پھر دوسرا حصہ آئے وہ بھی امام کی امامت میں نماز پڑھے شریعت نے یہ نہیں کہا کہ چونکہ ایک حصے نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لی ہے اور جماعت ادا ہوچکی ہے تو باقی لوگ الگ الگ نماز پڑھ سکتے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا کتنا ضروری ہے اور یہ کہ یہ عمل فرض کفایا نہیں بلکہ فرض عین ہے.... یعنی کہ ہر مرد پر جو عاقل ہے , بالغ ہے  , یہ واجب ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے ۔۔۔۔امام بخاری ، امام مسلم رحمہ ﷲ اور امام ابو داؤد  ، ابن ماجہ ,جناب ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی علیہ الصلاة والسلام کے پاس ایک نابینا آئے اور کہنے لگے ﷲ کے رسول ﷺ  میں نابینا  ہوں اور کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو مجھے مسجد میں لا سکے مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دیں۔۔، نبی علیہ الصلاة و السلام نے اس نابینا صحابی کو گھ میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی اور جب وہ واپس جانے لگے..... آپ نے پوچھا .....

«« هل تسمع النداء بالصلاة »»

کہ جب ازان ہوتی ہے تو تمہیں ازان کی آواز سنائی دیتی ہے وہ کہنے لگے جی ہاں ۔۔۔۔!!! تو آپ نے فرمایا 

«« فأجب »»

پھر مؤزن کی دعوت کو قبول کرو اور مسجد میں آکر جماعت کے ساتھ نماز پڑھو یہاں سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسجد میں آکر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا کس قدر ضروری ہے......

 اس لئے اگر کوئی آدمی مسافر ہے لیکن کسی شہر میں چند دن کے لئے  اقامت اختیار کئے ہوئے ہے •ایک دن کے لئے ....

• دو دنوں  کے لئے.....

• تین دنوں کے لئے.....

• چار دنوں کے لئے....

• پانچ دنوں کے لئے....

• دس دنوں کے لئے ۔۔اس پر واجب ہے کہ قریبی مسجد میں جا کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے الا یہ کہ مسجد اس کی  اقامت گاہ سے بہت دور ہو تو الگ بات ہے لیکن اگر مسجداس کے قریب ہے تو اسے چاہئیے کہ مسجد میں نماز ادا کرے اور اگر مسجد میں امام مقیم ہے اور پوری نماز پڑھا رہا ہے تو یہ اس کےساتھ پوری نماز پڑھے گا ......یہی نبی علیہ الصلاة والسلام کی سنت ہے   ۔۔۔۔

امام مسلم اور امام احمد روایت کرتے ہیں کہ جناب عبدﷲ ابن عباس رضی ﷲ عنہما سے سوال ہوا کہ مسافر جب تنہا ہو تو دو رکعتیں ادا کرتا ہے اور جب کسی مقیم امام کی امامت میں نماز ادا کرے تو چار رکعتیں ادا کرتا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ۔۔۔۔؟؟؟ انہوں نے فرمایا تھا کہ یہی سنت طریقہ ہے یعنی کہ یہی نبی علیہ الصلاة والسلام کی سنت ہے..... اس لئے وہ لوگ جو آپ کے گھر میں رہ رہے ہیں , پندرہ دنوں کے لئے ٹھہرے ہوئے ہیں اور گھر میں نماز اس لئے پڑھتے ہیں تاکہ ہم قصر نماز کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں ۔۔۔ان پر واجب ہے کہ وہ قریبی مسجد میں جائیں اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں ہاں اگر کبھی جماعت چھوٹ جائے تو پھر وہ تنہا نماز ادا کریں تو پھر وہ دو رکعتیں ادا کر سکتے ہیں۔۔۔قصر کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔

وﷲ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔

☜︎︎︎ یہاں پر یہ بات بھی زہن میں رہے کہ جب وہ اپنے آپ کو مسافر سمجھتے ہیں تو وہ محلے کی مسجد میں با جماعت نماز ادا کریں تو انہیں سنتیں معاف ہیں کہ اس حالت میں سنتیں نہ ادا کرنا نبی علیہ الصلاة والسلام کی سنت ہے ..... سوائے فجر کی سنتوں کے کہ وہ آپ ترک نہیں کرتے تھے..... نہ سفر میں..... نہ حضر میں ۔۔۔دیگر جو نوافل ہیں وہ ادا کئے جائیں گے انہیں ادا کرنا نبی علیہ الصلاة والسلام کا طریقہ ہے ......

وﷲ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔⚠


🔅💠🔅💠🔅💠🔅

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...