Monday, May 30, 2022

رسول ﷺ نے فرمایا ان7 موقعوں پر دعا مانگو گے تو دعا رد نہیں ہو گی

رسول ﷺ نے فرمایا ان7 موقعوں پر دعا مانگو گے تو دعا رد نہیں ہو گی جانیں وہ کون سے موقعے ہیں

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو ( وقت کی ) دعائیں رد نہیں کی جاتیں ، یا کم ہی رد کی جاتی ہیں : ایک اذان کے بعد کی دعا ، دوسرے لڑائی کے وقت کی ، جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں “ ۔ موسیٰ کہتے ہیں : مجھ سے رزق بن سعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ ابوحازم سے روایت کرتے ہیں وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا : ” اور بارش کے وقت کی “ ۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏"‏ ثِنْتَانِ لاَ تُرَدَّانِ، أَوْ قَلَّمَا تُرَدَّانِ ‏:‏ الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُوسَى ‏:‏ وَحَدَّثَنِي رِزْقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ وَوَقْتَ الْمَطَرِ ‏.‏
  صحيح دون ووقت المطر   (الألباني) حكم   :
Reference : Sunan Abi Dawud 2540
In-book reference : Book 15, Hadith 64
English translation : Book 14, Hadith 2534


امام علی ؓ کی خدمت میں ایک شخص آکر کہنے لگا یا علی ایسا کونسا وقت ہے جب انسان دعا مانگے اور دعا رد نہ ہو بس یہ کہناتھا تو امام علی ؑ نے فرمایا میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ تین موقع ایسے ہیں جب اللہ دعا رد نہیں کرتا

وہ پوچھنے لگا یا علی وہ کونسے لمحے ہیں امام علی ؑ نے فرمایا جب انسان کا جسم کانپنے لگے اس وقت مانگی ہوئی دعا اللہ رد نہیں کرتا دوسرا جب دل میں اللہ کا ڈر ابھرنے لگے اے شخص اس وقت مانگی ہوئی دعا اللہ رد نہیں

کرتا اور تیسرا جب انسان کی آنکھیں نم ہوجائیں اس وقت مانگی ہوئی دعا اللہ کبھی رد نہیں کرتا یاد رکھنا ان تینوں حالتوں میں انسان کائنات کی جو چیز مانگے وہ اسے ملنے لگتی ہے چاہے وہ صفاء و مرویٰ جتنا سونا ہی کیوں نہ ہو۔ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ دعا مانگیں کہ اِس سے اُس کی رحمت جوش میں آتی ہے۔

دعا کے بارے میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہ ہدایت دی ہے، ان آیات مبارکہ سے دعا کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر186 میں ارشاد باری تعالی ہے: اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں، جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں

تو ان کو چاہیے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں۔اللہ کے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے دعاکی عظمت، اس کی بر کتیں، دعا کے آداب اور دعا کرنے کے بارے میں واضح ہدایات دی ہیں۔ ایسی بے شمار احادیث ہیں، جن میں دعا کا ذکر ہے اور دعا کی اہمیت و فضیلت کو واضح کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دعا کارآمد اور نفع مند ہوتی ہے اور ان حوادث میں بھی جو نازل ہو چکے ہیں اور ان میں بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئے، پس اے خدا کے بندو! دعا کا اہتمام کرو۔ ایک اور حدیث حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ اللہ کو یہ بات محبوب ہے کہ اس کے بندے اس سے دعا کریں اور مانگیں۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے امید رکھتے ہوئے اس بات کا انتظار کرنا کہ وہ بلا اور پریشانی کو اپنے کرم سے دور فر مائے گا اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔

 دعا اللہ اور بندے کے درمیان ایک ایسا مخصو ص تعلق اور منگتے اور اس کے خالق کے درمیان براہ راست رابطہ ہے جس میں بندہ اپنے معبود سے اپنے دل کا حال سیدھے سادہ طریقے سے بیان کر دیتا ہے۔ بندہ اپنے پر ور دگار سے دن یا رات کے کسی بھی حصے میں د عا مانگ سکتا ہے، کوئی خاص وقت اس مقصد کے لیے مقرر نہیں،تاہم احادیث مبارکہ سے دعا کے لیے درج ذیل خاص اوقات ثابت ہیں، ان وقتوں میں دعائیں بہت جلد قبول ہوتی ہیں : (1) رات کا آخری حصہ (یعنی پچھلی شب بیدار ہو کر نماز تہجد پڑھنے کے بعد کی دعا۔ (2) جمعہ کے دن میں بھی ایک قبولیت کی ساعت (گھڑی) ہے، اس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ (3) شب قدر میں مانگی جانے والی دعا۔ (4) اذان کے وقت کی دعا۔ (5)فرض نمازوں کے بعد کی دعا۔ (6) سجدے کی حالت میں مانگی جانے والی دعا۔ (7)قرآن مجید کی تلاوت اور ختم قرآن کے وقت مانگی جانے والی دعا۔ (8) رمضان شریف کے مہینے میں افطارکے وقت کی دعا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین


On the authority of Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) from the Prophet (ﷺ), who said:
A prayer performed by someone who has not recited the Essence of the Quran (1) during it is deficient (and he repeated the word three times), incomplete. Someone said to Abu Hurayrah: [Even though] we are behind the imam? (2) He said: Recite it to yourself, for I have heard the Prophet (may the blessings and peace of Allah be up on him) say: Allah (mighty and sublime be He), had said: I have divided prayer between Myself and My servant into two halves, and My servant shall have what he has asked for. When the servant says: Al-hamdu lillahi rabbi l-alamin (3), Allah (mighty and sublime be He) says: My servant has praised Me. And when he says: Ar-rahmani r-rahim (4), Allah (mighty and sublime be He) says: My servant has extolled Me, and when he says: Maliki yawmi d-din (5), Allah says: My servant has glorified Me - and on one occasion He said: My servant has submitted to My power. And when he says: Iyyaka na budu wa iyyaka nasta in (6), He says: This is between Me and My servant, and My servant shall have what he has asked for. And when he says: Ihdina s-sirata l- mustaqim, siratal ladhina an amta alayhim ghayril-maghdubi alayhim wa la d-dallin (7), He says: This is for My servant, and My servant shall have what he has asked for. (1) Surat al-Fatihah, the first surah (chapter) of the Qur'an. (2) i.e. standing behind the imam (leader) listening to him reciting al-Fatihah. (3) "Praise be to Allah, Lord of the Worlds." (4) "The Merciful, the Compassionate". (5) "Master of the Day of Judgement". (6) "It is You we worship and it is You we ask for help". (7) "Guide us to the straight path, the path of those upon whom You have bestowed favors, not of those against whom You are angry, nor of those who are astray". It was related by Muslim (also by Malik, at-Tirmidhi, Abu-Dawud, an-Nasa'i and Ibn Majah).
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ(1) ثَلَاثًا، غَيْرَ تَمَامٍ، فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنَّا نَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ:{ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ } قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ:{ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ } قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ:{ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ } قَالَ اللَّهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي - وَقَالَ مَرَّةً: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ:{ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ } قَالَ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ:{ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ } قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"

رواه مسلم (وكذلك مالك والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه)




Reference : Hadith 8, 40 Hadith Qudsi

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...