Tuesday, May 3, 2022

حکم نبی اور جدید تحقیق میں داڑھی کا فائدہ

 


*جدید تحقیق میں داڑھی کا ایسا فائدہ بتا دیا گیا کہ آپ  بھی  سبحان اللہ پکار اٹھیں گے*

*ہر مرد کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک جدید سائنسی تحقیق میں بھی اب داڑھی کا ایسا فائدہ بتا دیا گیا ہے کہ آپ دین فطرت کے اس حکم پر سبحان اللہ پکار اٹھیں گے۔ دی سن کے مطابق برطانیہ کے ڈاکٹر کرن راجن نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اس تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ داڑھی مردوں کی صحت کے لیے بہت مفید ہوتی ہے۔*

*ڈاکٹر کرن راجن بتاتے ہیں کہ داڑھی مردوں کے چہروں کو خطرناک بیکٹیریا سے بچاتی ہے۔ اس حوالے سے ایک ہسپتال کے ورکرز پر تحقیق کی گئی ہے جس میں معلوم ہوا کہ جن ورکرز کے چہرے پر داڑھی تھی ان کے چہرے پر ’ایم آر ایس اے‘ (MRSA)نامی مہلک بیکٹیرئیل سپر بگ تین گنا کم موجود تھا۔ یہ ایسا خطرناک بیکٹیریا ہے جس پر کئی اینٹی بائیوٹکس بھی بے اثر ہوتی ہیں اور اس کا علاج لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے۔ *

*ڈاکٹر کرن کا کہنا تھا کہ بغیر داڑھی والے ہسپتال کے مرد ورکرز کے چہرے پر یہ بیکٹیریا تین گنا زیادہ پایا گیا۔ اس کے علاوہ داڑھی والے مردوں کے چہروں پر دیگر جراثیم اور بیکٹیریا بھی بغیر داڑھی والے مردوں کی نسبت کئی گنا کم پائے گئے۔لہٰذاماہرین کی طرف سے اس تحقیق کی روشنی میں تمام مردوں کو داڑھی رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔*

*مجھ سے محمد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا ہمیں عبدہ نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ بن عمر نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مونچھیں خوب کتروایا لیا کرو اورداڑھی کو بڑھاؤ ۔*

*Narrated Ibn `Umar:*

*Allah's Messenger (ﷺ) said, "Cut the moustaches short and leave the beard (as it is).*

*حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ انْهَكُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى*‏

Referenc : Sahih al-Bukhari 5893In-book reference : Book 77, Hadith 110USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 72, Hadith 781

داڑھی اسلام کے شعائر میں سے ہے، متعدد احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے اس کی تاکید فرمائی ہے۔ موجودہ دور میں جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنتِ طبعی تھی اور عربوں کے رواج کے مطابق آپ ﷺ نے داڑھی رکھ لی تھی، غیر درست بات اور ان کا مغالطہ ہے، اس لیے کہ داڑھی کے وجوب کے سلسلے میں کثرت سے روایات وارد ہوئی ہیں۔ہم داڑھی کی شرعی حیثیت پر کسی اور موقع پر تفصیل سے گفتگو کریں گے، ان شاء اللہ۔اس وقت ہم اس سنتِ نبویﷺ کے بعض طبی فوائد پر عرض کرنا چاہیں گے ہاں اتنا جان لیں کہ رسول اللہ ﷺ نے داڑھی کی بہت تاکید فرمائی ہے، اسی لیے داڑھی کا رکھنا واجب اور مونڈنا حرام ہے۔ مالکیہ اور حنابلہ نے داڑھی منڈانے کو حرام اور حنفیہ اور شوافع نے مکروہِ تحریمی یعنی حرام کے قریب قرار دیا ہے۔ 
(الفقہ الاسلامی وادلتہ: 3؍569)

فقہاء نے اعفائِ لحیہ (داڑھی بڑھاؤ) والی حدیث کے پیش نظر داڑھی منڈانا حرام قرار دیا ہے، کیوں کہ حکم اصلاً وجوب پر دلالت کرتا ہے اور خالص طور سے یہ حکم تو کفار کی مخالفت کی علت کے ساتھ ہے اور ان کی مخالفت (مذہب میں) واجب ہے۔ نیز سلف میں سے کسی کا اس واجب کو ترک کرنا ثابت نہیں ہے۔ 
(اسلام میں حلال وحرام: 127)

داڑھی منڈانے کے نقصانات میڈیکل کی روشنی میں
داڑھی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے اور سنت سے اجتناب دراصل صحت سے اجتناب ہے۔ داڑھی کے فوائد ومحاسن شرعی لحاظ سے اظہر من الشمس ہیں۔ ذیل میں سائنسی لحاظ سے داڑھی منڈانے کے نقصانات بیان کیے جارہے ہیں۔مردوں کا یہ زیور ان کی صحت کے لئے بھی انتہائی مفید ہے۔یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔داڑھی عام طور پر مسلمانوں یا انتہائی مذہبی رجحان کا نشان سمجھی جاتی ہے مگر درحقیقت مَردوں کا یہ زیور ان کی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔سدرن کوئنزلینڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق داڑھی رکھنے سے مردوں کو ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ سورج سے خارج ہونے والی مضر شعاعوں سے محفوظ رہتے ہیں۔تحقیق کے مطابق سورج کی شعاعوں سے بالوں سے آزاد چہرے کے مقابلے میں داڑھی کا حصہ ایک تہائی کم متاثر ہوتا ہے۔اسی طرح ایک اور الگ تحقیق جو برمنگھم ٹرائیکلوجی سینٹر نےکی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ وہ مرد جو پولن الرجی کے باعث دمہ کا شکار ہوجاتے ہیں، ان کو اس چیز سے بچانے کے لیے داڑھی اور مونچھیں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔جلدی ماہر ڈاکٹر لوئے کی ایک تحقیق کے مطابق چہرے پر موجود بال جلد کو جوان اور اچھی حالت پر رکھتے ہیں جس سے عمر بریدگی کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر لوئے کے مطابق داڑھی سے منہ دھونے کے بعد بھی جلد پر نمی برقرار رہتی ہے جو ہوا سے چہرے کو خشک ہونے سے بچاتی ہے اور جلد سکیڑنے سے بچتی ہے۔اسی طرح کیرول واکر نامی برطانوی ماہر کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گھنی داڑھی تھوڑی کے نیچے بڑھے تو اس سے گلے کا درجہ حرارت بڑھتا ہے اور یہ چیز لوگوں کو ٹھنڈ یا دوسرے معنوں میں فلو اور کھانسی وغیرہ سے بچاتی ہے۔کیرول کے مطابق بال آپ کو گرم رکھتے ہیں، لمبی اور گھنی داڑھی سرد ہوا کو روک کر گلے کا درجہ حرارت بڑھاتی ہے اس طرح سرد موسم میں آپ موسمی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ برلن یونیورسٹی کے ڈاکٹر مور نے شیو، بلیڈ اور صابن پر برسوں تجربات کے بعد جو نتائج اخذ کیے ہیں، ان کو ماہنامہ صحت (دہلی) نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

جلدی امراض
شیو سے جتنا زیادہ نقصان جلد کو پہنچتا ہے شاید جسم کے کسی اور حصے کو نہیں پہنچتا۔ دراصل شیو کا نشتر جلد کو مسلسل رگڑتا رہتا ہے اور ہر آدمی کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ چہرے پر ایک بھی موجود نہ ہو، تاکہ چہرے کے حسن اور نکھار میں کمی واقع نہ ہو، اس کے لیے بار بار ایک تیز استرے یا بلیڈ سے جلد کو چھیلا جاتا ہے، جس سے چہرے کی جلد حساس (Sensitive) ہوجاتی ہے اور طرح طرح کے امراض کو قبول اور حصول کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہے۔
کُند استرا یا بلیڈ چہرے پر پھیرنے میں زیادہ طاقت استعمال کرنی پڑتی ہے، جس سے جلد مجروح ہوتی ہے، یہ زخم آنکھوں سے نظر نہیں آتے، لیکن ان کی جلن کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جب جلد پر کوئی خراش آجائے تو جراثیم کو داخلے کا راستہ مل جاتا ہے۔ اس طرح داڑھی مونڈنے والا طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔چہرے پر پہلے معمولی پھنسیاں نکل سکتی ہیں، پھر(Impeigo) کے علاوہ ایک خصوصی جلدی سوزش جسے حجام کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، یعنی Sycosis bardacجیسی خطرناک جلدی امراض لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ایسے خطرناک چھوتی امراض چہرے پر اور پھر اس کے ذریعہ پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ 
وہ امراض مندرجہ ذیل ہیں:
(1) چہرے کے مہاسے
(2) چہرے کی جلد کی خشکی
(3) کیل اور چھائیاں
(4) ناک پر دانے ؍کیل
(5) عام پھوڑے پھنسیاں
(6) ایزیما 
(7) الرجی وغیرہ۔

الٹراوائیلٹ شعاعوں کا نقصان
الٹراوائیلٹ شعاعیں حساس جلد کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ کیونکہ یہ شعاعیں دھوپ میں ہوتی ہیں اور دھوپ سے بچنا ممکن نہیں، اس لیے یہ فوری جلد پر برے اثرات ڈالتی ہیں۔ جس سے جلد کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے، جلد کے روغی غدود کا نظام بہت متاثر ہوتا ہے اور طرح طرح کے امراض گھیر لیتے ہیں۔

ایک خاص اثر
شیو کا مسلسل استعمال غدود ونخامیہ پر برے اثرات ڈالتا ہے۔ بلکہ اس گلینڈ کی وجہ سے اعصابی نظام اور جنسی نظام بہت متاثر ہوتے ہیں۔ مشاہدات اور تجربات کی رو سے ایسے مریض دیکھے گئے ہیں، جنھوں نے جب اس عمل کو ترک کیا تو وہ مذکورہ امراض سے بچ گئے یا پھر وہ امراض کم ہوگئے۔ 

داڑھی کے طبی فوائد
میڈیکل سائنس کی رو سے داڑھی کی سنت ادا کرنے سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں، من جملہ ان کے یہ ہیں:
(1) بار بار ٹھوڑی اور گالوں پر استرا پھرانا بصارت کو نقصان دیتا ہے اور اس دائمی عمل سے آہستہ آہستہ نظر کمزور ہوجاتی ہے، جب کہ داڑھی والے اکثر اس سے محفوظ رہتے ہیں۔

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...