Wednesday, May 18, 2022

ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ

 

جس وقت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں ،اس وقت اسلام میں نمازہ جنازہ شریعت کا حصہ نہ تھی ،
:
" وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَبْرِهَا. وَلَمْ يَكُنْ سُنَّتِ الصَّلاةُ عَلَى الْجَنَائِزِ يَوْمَئِذٍ "
یعنی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دفن کے وقت خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر میں اترے، اور اس وقت تک جنازہ کی نماز شریعت اسلامیہ میں مقرر نہ ہوئی تھی "


حافظ ابن حجرؒ "الاصابۃ " میں فرماتے ہیں :
توفيت سنة عشر من البعثة بعد خروج بني هاشم من الشعب، ودفنت بالحجون، ونزل النبي اللَّه صلّى اللَّه عليه وسلّم في حفرتها، ولم تكن شرعت الصلاة على الجنائز.
یعنی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبوت کے دسویں سال ،بنی ہاشم کے شعب ابی طالب سے نکلنے کے بعد فوت ہوئیں ، 
خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر میں اترے ،اور اس وقت تک جنازہ کی نماز مشروع نہ تھی "

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ تھیں۔ آپ کا حضرت خدیجہ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کی زندگی کے دوران آپ نے دوسرا کوئی نکاح نہیں کیا تھا۔ 

آپ حضرت خدیجہ کے بارے میں فرماتے ہیں! ”کہ ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی۔” کہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب د-ش-م-ن-و-ں نے مجھ پر ظ-ل-م و س-ت-م کی

حد کر دی تھی۔ انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا اس کے علاوہ ان کے بدن سے مجھے اللہ تعالی نے اولاد کی نعمت سے سرفراز کیا۔ جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ 

بعد میں مدنی حیات مبارکہ میں ایک اور صاحبزادے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تھے جو کہ ماریہ رضی اللہ تعالی عنہا سے تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناہ محبت تھی۔ 10 رمضان المبارک ام المومنین 

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یوم و-ف-ا-ت ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز جن-ازہ نہیں پڑھائی گئی تھی کیونکہ اس وقت نماز جنازہ سمیت پانچ وقت کی نماز بھی فرض نہیں ہوئی تھی۔ بالکل اسی طرح رمضان کا مہینہ ہونے

کے باوجود کوئی فرد روزے سے بھی نہ تھا کیونکہ اس وقت روزے بھی فرض نہیں ہوئے تھے۔ اسی سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب چچا جناب ابو طالب کی بھی رحلت ہوئی تھی۔ ان دو ص-د-م-و-ں نے آپ کو بہت غ-م-گ-ی-ن کردیا ۔اسی لیے اس سال کو عام الح-زن یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے۔ حضرت خدیجہ کی و-ف-ا-ت مدینہ کی ہجرت اور نماز فرض ہونے سے پہلے اسی سال ہوئی تھی۔ جب حضرت ابو طالب کی وفات ہوئی۔


رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...