جس وقت ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں ،اس وقت اسلام میں نمازہ جنازہ شریعت کا حصہ نہ تھی ،
:
" وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَبْرِهَا. وَلَمْ يَكُنْ سُنَّتِ الصَّلاةُ عَلَى الْجَنَائِزِ يَوْمَئِذٍ "
یعنی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دفن کے وقت خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر میں اترے، اور اس وقت تک جنازہ کی نماز شریعت اسلامیہ میں مقرر نہ ہوئی تھی "
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ تھیں۔ آپ کا حضرت خدیجہ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کی زندگی کے دوران آپ نے دوسرا کوئی نکاح نہیں کیا تھا۔
آپ حضرت خدیجہ کے بارے میں فرماتے ہیں! ”کہ ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی۔” کہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب د-ش-م-ن-و-ں نے مجھ پر ظ-ل-م و س-ت-م کی
حد کر دی تھی۔ انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا اس کے علاوہ ان کے بدن سے مجھے اللہ تعالی نے اولاد کی نعمت سے سرفراز کیا۔ جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
بعد میں مدنی حیات مبارکہ میں ایک اور صاحبزادے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تھے جو کہ ماریہ رضی اللہ تعالی عنہا سے تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناہ محبت تھی۔ 10 رمضان المبارک ام المومنین
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یوم و-ف-ا-ت ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز جن-ازہ نہیں پڑھائی گئی تھی کیونکہ اس وقت نماز جنازہ سمیت پانچ وقت کی نماز بھی فرض نہیں ہوئی تھی۔ بالکل اسی طرح رمضان کا مہینہ ہونے
