Thursday, November 3, 2022

Verily, the most honorable of you with Allah is the one who has the most Taqwa

 As-Salamu `Alayka wa Rahmatullah

«السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ»

Imam Ahmad recorded a narration stating that Anas or someone else said that the Messenger of Allah asked for permission to enter upon Sa`d bin `Ubadah. He said:

«السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ»

(As-Salamu `Alayka wa Rahmatullah) Sa`d said, "Wa `Alaykas-Salam Wa Rahmatullah,'' but the Prophet did not hear the returned greeting until he had given the greeting three times and Sa`d had returned the greeting three times, but he did not let him hear him ﴿i.e., Sa`d responded in a low voice﴾. So the Prophet went back, and Sa`d followed him and said,"O Messenger of Allah, may my father and mother be ransomed for you! You did not give any greeting but I responded to you, but I did not let you hear me. I wanted to get more of your Salams and blessings.'' Then he admitted him to his house and offered him some raisins. The Prophet ate, and when he finished, he said,

«أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ»

(May the righteous eat your food, may the angels send blessings upon you and may those who are fasting break their fast with you.) It should also be known that the one who is seeking permission to enter should not stand directly in front of the door; he should have the door on his right or left, because of the Hadith recorded by Abu Dawud from `Abdullah bin Busr, who said, "When the Messenger of Allah came to someone's door, he would never stand directly in front of it, but to the right or left, and he would say,

«السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ»

(As-Salamu `Alaykum, As-Salamu `Alaykum.) That was because at that time the houses had no covers or curtains over their doorways.'' This report was recorded by Abu Dawud only. In the Two Sahihs, it is recorded that the Messenger of Allah said:

«لَوْ أَنَّ امْرَءًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ»

(If a person looks into your house without your permission, and you throw a stone at him and it puts his eye out, there will be no blame on you.) The Group recorded that Jabir said, "I came to the Prophet with something that was owed by my father and knocked at the door. He said,

«مَنْ ذَا؟»

(Who is that) I said, "I am!'' He said,

«أَنَا أَنَا»

(I I) as if he disliked it.'' He did not like it because this word tells you nothing about who is saying it, unless he clearly states his name or the name by which he is known, (nickname) otherwise everyone could call himself "Me'', and it does not fulfill the purpose of asking permission to enter, which is to put people at their ease, as commanded in the Ayah. Al-`Awfi narrated from Ibn `Abbas, "Putting people at ease means seeking permission to enter.'' This was also the view of others. Imam Ahmad recorded from Kaladah bin Al-Hanbal that at the time of the Conquest (of Makkah), Safwan bin Umayyah sent him with milk, a small gazelle, and small cucumbers when the Prophet was at the top of the valley. He said, "I entered upon the Prophet and I did not give the greeting of Salam nor ask for permission to enter. The Prophet said,

«ارْجِعْ فَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟»

(Go back and say: "As-Salamu `Alaykum, may I enter'') This was after Safwan had become Muslim.'' This was also recorded by Abu Dawud, At-Tirmidhi and An-Nasa'i. At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib.'' Ibn Jurayj said that he heard `Ata' bin Abi Rabah narrating that Ibn `Abbas, may Alah be pleased with him, said, "There are three Ayat whose rulings people neglect. Allah says,

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عَندَ اللَّهِ أَتْقَـكُمْ

(Verily, the most honorable of you with Allah is the one who has the most Taqwa) 49:13

نسل انسانی کا نکتہ آغاز
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ” اس نے تمام انسانوں کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے “۔ یعنی آدم علیہ السلام ہی سے ان کی بیوی صاحبہ حواء علیہا السلام کو پیدا کیا تھا اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی پھیلی۔ 

«شعوب» قبائل سے عام ہے مثال کے طور پر عرب تو «شعوب» میں داخل ہے پھر قریش غیر قریش پھر ان کی تقسیم میں یہ سب قبائل داخل ہے۔ 

بعض کہتے ہیں «شعوب» سے مراد عجمی لوگ اور قبائل سے مراد عرب جماعتیں۔ جیسے کہ بنی اسرائیل کو «اسباط» کہا گیا ہے میں نے ان تمام باتوں کو ایک علیحدہ مقدمہ میں لکھ دیا ہے جسے میں نے ابوعمر بن عبدالبر کی کتاب «الاشباہ» اور کتاب «القصد والامم فی معرفۃ انساب العرب والعجم» سے جمع کیا ہے۔ 

مقصد اس آیت مبارکہ کا یہ ہے کہ آدم علیہ السلام جو مٹی سے پیدا ہوئے تھے ان کی طرف سے نسبت میں تو کل جہان کے آدمی ہم مرتبہ ہیں اب جو کچھ فضیلت جس کسی کو حاصل ہو گی وہ امر دینی، اطاعت اللہ اور اتباع نبوی کی وجہ سے ہو گی۔ یہی راز ہے جو اس آیت کو غیبت کی ممانعت اور ایک دوسرے کی توہین و تذلیل سے روکنے کے بعد وارد کی کہ سب لوگ اپنی پیدائشی نسبت کے لحاظ سے بالکل یکساں ہیں، کنبے قبیلے برادریاں اور جماعتیں صرف پہچان کے لیے ہیں تاکہ جتھا بندی اور ہمدردی قائم رہے۔ فلاں بن فلاں قبیلے والا کہا جا سکے اور اس طرح ایک دوسرے کی پہچان آسان ہو جائے ورنہ بشریت کے اعتبار سے سب قومیں یکساں ہیں۔ 

سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں قبیلہ حمیر اپنے حلیفوں کی طرف منسوب ہوتا تھا اور حجازی عرب اپنے قبیلوں کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے۔


ترمذی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: نسب کا علم حاصل کرو تاکہ صلہ رحمی کر سکو صلہ رحمی سے لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے تمہارے مال اور تمہاری زندگی میں اللہ برکت دے گا ۔  [سنن ترمذي:1979،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ 

پھر فرمایا ” حسب نسب اللہ کے ہاں نہیں چلتا وہاں تو فضیلت، تقویٰ اور پرہیزگاری سے ملتی ہے “۔ 

صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے زیادہ بزرگ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔‏‏‏‏ لوگوں نے کہا: ہم یہ عام بات نہیں پوچھتے۔ فرمایا: پھر سب سے زیادہ بزرگ یوسف علیہ السلام ہیں جو خود نبی تھے نبی ذادے تھے دادا بھی نبی تھے پردادا تو خلیل اللہ علیہ السلام تھے، انہوں نے کہا: ہم یہ بھی نہیں پوچھتے۔ فرمایا: پھر عرب کے بارے میں پوچھتے ہو؟ سنو! ان کے جو لوگ جاہلیت کے زمانے میں ممتاز تھے وہی اب اسلام میں بھی پسندیدہ ہیں جب کہ وہ علم دین کی سمجھ حاصل کر لیں ۔  [صحیح مسلم:2378] ‏‏‏‏ 

صحیح مسلم میں ہے اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے ۔  [صحیح مسلم:2564] ‏‏‏‏


مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خیال رکھ کہ تو کسی سرخ و سیاہ پر کوئی فضیلت نہیں رکھتا ہاں تقویٰ میں بڑھ جا تو فضیلت ہے ۔  [مسند احمد:158/5:ضعیف] ‏‏‏‏ 

طبرانی میں ہے مسلمان سب آپس میں بھائی ہیں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے ساتھ ۔  [طبرانی کبیر:3547:ضعیف] ‏‏‏‏ 

مسند بزار میں ہے تم سب اولاد آدم ہو اور خود آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں، لوگو! اپنے باپ دادوں کے نام پر فخر کرنے سے باز آؤ ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ریت کے تودوں اور آبی پرندوں سے بھی زیادہ ہلکے ہو جاؤ گے ۔  [مسند بزار:2043:ضعیف] ‏‏‏‏ 

ابن ابی حاتم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر طواف کیا اور ارکان کو آپ اپنی چھڑی سے چھو لیتے تھے۔ پھر چونکہ مسجد میں اس کے بٹھانے کو جگہ نہ ملی تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھوں ہاتھ اتارا اور اونٹنی کو بطن مسیل میں لے جا کر بٹھایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں کو خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا بیان کر کے فرمایا: لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے اسباب اور جاہلیت کے باپ دادوں پر فخر کرنے کی رسم اب دور کر دی ہے پس انسان دو ہی قسم کے ہیں یا تو نیک پرہیزگار جو اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہیں یا بدکار غیر متقی جو اللہ کی نگاہوں میں ذلیل و خوار ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا: میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں ۔  [مسند عبد بن حمید:793:ضعیف] ‏‏‏‏ 

مسند احمد میں ہے کہ تمہارے نسب نامے دراصل کوئی کام دینے والے نہیں تم سب بالکل برابر کے آدم کے لڑکے ہو کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہاں فضیلت دین و تقویٰ سے ہے، انسان کو یہی برائی کافی ہے کہ وہ بدگو، بخیل، اور فحش کلام ہو ۔  [مسند احمد:145/4:ضعیف] ‏‏‏‏ 

ابن جریر کی اس روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے حسب نسب کو قیامت کے دن نہ پوچھے گا، تم سب میں سے زیادہ بزرگ اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں ۔ 

مسند احمد میں ہے کہ نبی علیہ السلام منبر پر تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ مہمان نواز، سب سے زیادہ پرہیزگار، سب سے زیادہ اچھی بات کا حکم دینے والا، سب سے زیادہ بری بات سے روکنے والا، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہے ۔  [مسند احمد:432/6:ضعیف] ‏‏‏‏


مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی کوئی چیز یا کوئی شخص کبھی بھلا نہیں لگتا تھا مگر تقوے والے انسان کے ۔  [مسند احمد:69/6:ضعیف] ‏‏‏‏ 

اللہ تمہیں جانتا ہے اور تمہارے کاموں سے بھی خبردار ہے، ہدایت کے لائق جو ہیں انہیں راہ راست دکھاتا ہے اور جو اس لائق نہیں وہ بے راہ ہو رہے ہیں۔ رحم اور عذاب اس کی مشیت پر موقوف ہیں، فضیلت اس کے ہاتھ ہے جسے چاہے جس پر چاہے بزرگی عطا فرمائے یہ تمام امور اس کے علم اور اس کی خبر پر مبنی ہیں۔ 

اس آیت کریمہ اور ان احادیث شریفہ سے استدلال کر کے علماء نے فرمایا ہے کہ نکاح میں قومیت اور حسب نسب کی شرط نہیں، سوائے دین کے اور کوئی شرط معتبر نہیں۔ 

دوسروں نے کہا ہے کہ ہم نسبی اور قومیت بھی شرط ہے اور ان کے دلائل ان کے سوا اور ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اور ہم بھی انہیں «کتاب الاحکام» میں ذکر کر چکے ہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»  

طبرانی میں عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ انہوں نے بنو ہاشم میں سے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ نسبت اور تمام لوگوں کے بہت زیادہ قریب ہوں۔ پس دوسرے نے کہا کہ تیری بہ نسبت میں آپ سے بہت زیادہ قریب ہوں اور مجھے آپ سے نسبت بھی ہے

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...