Sunday, June 25, 2023

اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه ، قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في أضْحَى أو فِطْر إلى المُصَلَّى، فَمَرَّ على النساء، فقال: «يا مَعْشَرَ النساء تَصَدَّقْنَ فإني أُرِيتُكُنَّ أكثر أهْل النار». فقُلن: وبِمَ يا رسول الله؟ قال: «تُكْثِرْن اللَّعن، وتَكْفُرْن العَشِير، ما رَأَيْت من ناقِصَات عَقْل ودِين أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُل الحَازم من إحدَاكُن».قُلْن: وما نُقصَان دِينِنَا وعَقْلِنَا يا رسول الله؟ قال: «ألَيْس شهادة المرأة مثل نِصف شَهادة الرَّجُل». قُلْن: بَلَى، قال: «فذَلِك من نُقصان عقْلِها، ألَيْس إذا حَاضَت لم تُصَلِّ ولم تَصُم». قُلْن: بَلَى،قال: «فذَلِك من نُقصان دِينِها». 

صحيح] - [متفق عليه] 
المزيــد ... 

  • ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ (وہاں) آپ ﷺ عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند اور تجربہ کار آدمی کے عقل کو ماؤف کردینے والا نہیں دیکھا۔ عورتوں نے عرض کيا کہ ہمارے دین اور ہماری عقل کی کمی کیا ہے اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نھیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پس یہی اس کی عقل کی کمی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟ عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:یہی اس کے دین کی کمی ہے۔ 

    شرح

    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بيان فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی یا عید الفطر کے دن عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ مرد و خواتین تمام لوگوں کو عمومى خطبہ دینے کے بعد آپ ﷺ کا گزر جب عورتوں کے پاس سے ہوا تو آپ ﷺ نے بطور خاص انہیں وعظ و نصیحت کرنے اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دينے کے ليے ايک خطبہ ارشاد فرمايا۔ کیونکہ صدقہ رب کے غضب کو بجھا ديتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے“ یعنی زیادہ سے زیادہ صدقہ دو تاکہ تم اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچا سکو کیونکہ ميں نے جہنم ميں جھانک کر دیکھا اور اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کیا تو مجھے اس میں اکثریت عورتوں کی نظر آئی۔ انہوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ یعنی کس وجہ سے جہنم میں ہماری اکثریت ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو۔ یعنی اس وجہ سے کہ تم لوگوں کو لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور یہ کسی انسان کے لیے کی جانے والی بدترین دعا ہے کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شخص اللہ کی رحمت سے دھتکار دیا جائے اور دنیا و آخرت کی بھلائی سے اسے دور کر دیا جائے اور کوئی شک نہیں کہ اس میں اللہ کی کشادگئ رحمت کے سلب کئے جانے کا سوال ہے جو اس کے غضب پر سبقت لے چکی ہے۔ ”اور تم شوہروں کی نافرمانی کرتی ہو“ یعنی تم شوہر کے احسان کو چھپاتی ہو، اس کے فضل کا انکار کرديتی ہو اور اس کے اچھے سلوک کو نظر انداز کرديتی ہو اور اس کے احسان کو بھول جاتی ہو۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ کہا گيا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ ﷺ نےفرمایا: ”وہ شوہروں کی نا شکری کرتی ہیں اور ان کی احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تم سارا زمانہ ان میں سے کسی سے اچھا سلوک کرتے رہو اور پھر تمہاری طرف سے اسے کوئی (خلاف مزاج) بات پیش آجائے تو کہہ دیتی ہے کہ میں نے تو تم سے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں“۔ ”باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے تم سے زیادہ کسی ہوش مند آدمی کی عقل مار دینے والا میں نے کوئی نہیں دیکھا“ یعنی مرد کی مت مار دینے پر عورت سے زیادہ قدرت رکھنے والا کوئی نہیں، اگرچہ آدمی احتیاط ودوراندیشی اور عزم وقوت والا ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا عورت کی جذباتی اثر انگیزی کی طاقت، اس کی خوبصورتی کے جادو، ناز وادا اور فریفتہ کرلینے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ عورتوں کے بارے میں اس طرح کے وصف کا بيان بطور مبالغہ ہے کیونکہ جب اپنے معاملات میں پختہ کار اور محتاط و دوراندیش شخص ان کا تابع دار بن جاتا ہے تو پھر دوسرے لوگ تو بطریق اولیٰ ان کا شکار ہو جائیں گے۔ ”انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دین اور ہماری عقل کی کمی کیا ہے؟“ گویا کہ یہ بات ان سے اوجھل تھی اس لیے انہوں نے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ ”آپ ﷺ نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نھیں ہے؟“ یہ آپ ﷺ کی طرف سے استفہام تقریری تھا، اس بات کا اقرار کرانے کے لئے کہ عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر ہوتی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: کیوں نھیں۔ یعنی معاملہ ایسے ہی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”يہی اس کی عقل کی کمی ہے“ یعنی عقلی طور پر وہ عورت اس لیے ناقص ہے کہ اس کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف ہوتی ہے۔ اس میں اللہ تعالی کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ﴾ ”پھر اپنے مردوں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اسے یاد دلا دے“۔ دوسری عورت سے مدد لینے میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی قوتِ حافظہ کم ہوتی ہے اور اس سے اس کی عقل کی کمی کا پتہ چلتا ہے۔ ”کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟“ یہ بھی نبی ﷺ کی طرف سے استفہام تقریری ہے جس کا مقصد اس بات کا اقرار کرانا ہے کہ عورت مدت حیض میں نماز و روزہ چھوڑ دیتی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، یعنی معاملہ ایسے ہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی ان کے دین کی کمی ہے“ جب عورت نماز اور روزہ چھوڑ دیتی ہے جو ارکانِ اسلام میں سے ہیں بلکہ اہم ترین ارکان ميں سے ہیں تو یہ اس کے دین میں کمی ہوئی کیونکہ وہ نہ تو (ان دنوں میں) نماز پڑھتی ہے اور نہ ہی اس کی قضا کرتی ہے اور رمضان میں روزوں کے دوران اگر اسے حیض آ جائے تو وہ دیگر اہل ایمان کے ساتھ نیک اعمال میں شریک ہونے سے محروم رہتی ہے۔ تاہم اس میں ان کا کوئی دوش نہیں ہے اور نہ اس پر ان کا مواخذہ ہی ہوگا، کیونکہ یہ ان کی اصلی خلقت میں ہے۔ ليکن نبی ﷺ نے ان کے فتنے میں پڑنے سے بچانے کے لیے اس پر متنبہ فرمایا۔ اسی لیے عذاب کو (شوہروں کی) مذکورہ ناشکری واحسان فراموشی کا نتیجہ قرار دیا ہے نہ کہ ان کے اندر پائے جانے والے نقص و کمی کا، کیونکہ اس میں ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کسی صورت میں اس سے بچ سکتی ہیں۔


اکثر مرد وں کو یہ زعم ہے کہ ہما ری عورتوں کا کردار بہت پختہ ہے، دوپٹہ یا حجاب ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا

* * *

 قرآنِ مجید میں پردے کے احکام


عورت کے پردے کے بارے میں اکثر لوگ یہ خلط ِ مبحث کرتے ہیں کہ وہ ستر اور حجاب میں فرق نہیں کرتے، جب کہ شریعت ِاسلامیہ میں ان دونوں کے الگ الگ احکام ہیں ۔ عورت کا ستر یہ ہے کہ وہ اپنے  دونوں ہتھیلیوں کے سوا اپنا پورا جسم چھپائے گی جس کا کوئی حصہ بھی وہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور کے سامنے کھول نہیں سکتی۔ ستر کا یہ پردہ ان افراد سے ہے جن کو شریعت نے مَحرمقرار دیا ہے اور ان محرم افرادکی پوری تفصیل قرآنِ مجید کی سورۂ نور کی آیت: ۳۱ میں موجود ہے اوران میں عورت کا باپ، اس کا بیٹا، اس کا بھائی، اس کا بھانجا اور اس کابھتیجا وغیرہ شامل ہیں ۔ ان محرم افراد سے عورت کے چہرے اور اس کے ہاتھوں کا پردہ نہیں ہے، البتہ ان کے سامنے عورت اپنے سر اور سینے کواوڑھنی یا دوپٹہ وغیرہ سے ڈھانپے گی۔ ستر(i) کے یہ احکام سورۂ نور میں اسی طرح بیان ہوئے ہیں :
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَـٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَـٰرِ‌هِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُ‌وجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ‌ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِ‌بْنَ بِخُمُرِ‌هِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ ءَابَآئِهِنَّ أَوْ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَآئِهِنَّ أَوْ أَبْنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَ‌ٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ إِخْوَ‌ٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ أَخَوَ‌ٰتِهِنَّ أَوْ نِسَآئِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّـٰبِعِينَ غَيْرِ‌ أُولِى ٱلْإِرْ‌بَةِ مِنَ ٱلرِّ‌جَالِ أَوِ ٱلطِّفْلِ ٱلَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُ‌وا عَلَىٰ عَوْرَ‌ٰ‌تِ ٱلنِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِ‌بْنَ بِأَرْ‌جُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوٓاإِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١﴾...سورۃ النور
''اے نبیؐ! آپ مؤمن عورتوں سے کہیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اپنے ستر کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے خود بخود ظاہر ہوجائے او راپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں ۔ اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں کے سامنے، یا اپنے باپ کے، یا اپنے سسر کے، یا اپنے بیٹوں کے، یا اپنے شوہر کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں کے، یااپنے بھائیوں کے بیٹوں کے، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے، یا اپنی عورتوں کے، یا اپنے لونڈی غلام کے، یا زیردست مردوں کے جو کچھ غرض نہیں رکھتے، یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے ابھی ناواقف ہوں ۔ اس کے علاوہ وہ اپنے پاؤں زور سے نہ ماریں کہ ان کی مخفی زینت معلوم ہوجائے اور اے ایمان والو! تم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔''

گھر میں محرم مردوں کے سامنے عورت کے لئے پردے کی یہی صورت ہے۔ مگر عورت کا حجاب اس کے ستر سے بالکل مختلف ہے اوریہ وہ پردہ ہے، جب عورت گھر سے باہر کسی ضرورت کے لئے نکلتی ہے یا گھر کے اندر غیر محرم مردوں سے سامنا ہوتا ہے(ii)۔ اس صورت میں شریعت کے وہ احکام ہیں جو اجنبی مردوں سے عورت کے پردے سے متعلق ہیں ۔ حجاب کے یہ احکام قرآنِ مجید کی سورۂ احزاب کی دو آیات (59 اور54) میں بیان ہوئے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت عورت جِلباب یعنی بڑی چادراوڑھے گی تاکہ اس کا پورا جسم ڈھک جائے، ایسے ہی چہرے پر بھی چادرکا ایک پلو ڈالے گی۔ اب وہ صرف اپنی آنکھ کھلی رکھ سکتی ہے، باقی پورا جسم چھپائے گی۔ یہ چہرے پر نقاب کا حکم ہے، اجنبی مردوں سے عورت کا یہ پردہ ہے جسے 'حجاب' کہا جاتا ہے۔ اُردو زبان میں اسے 'گھونگھٹ نکالنا' بھی کہتے ہیں ۔ اس کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے کہ
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَ‌ٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّ ۚ ذَ‌ٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَ‌فْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ...﴿٥٩﴾...سورۃ الاحزاب
''اے نبیؐ! اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں ۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور اُنہیں کوئی نہ ستائے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔''

سب سے پہلے اس آیت کے اصل الفاظ پر غورکیجئے۔ اس میں ( یُدنین )کا لفظ آیا، جس کا مصدر اِدنائ ہے اور عربی زبان میں اس کے معنی 'قریب کرنے' اور 'لپیٹ لینے' کے ہیں مگر جب ا س کے ساتھ عَلی کا صلہ آجائے تو پھر اس میں اِرخاء کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے کہ 'اوپر سے لٹکا لینا'۔ دوسرا اہم لفظ جَلَابِیْبِھِنَّ ہے۔جَلابیب جمع ہے جلبابکی جس کے معنی رِدَاءیعنی 'بڑی چادر ' کے ہیں اور ا س کے ساتھ مِنْکا حرف آیا ہے جو یہاں تبعیض ہی کے لئے ہوسکتا ہے، یعنی چادر کا ایک حصہ۔ مطلب یہ ہے کہ عورتیں جب کسی ضرورت کے لئے گھر سے باہرنکلیں تو اپنی بڑی چادریں اچھی طرح اوڑھ لپیٹ لیں اور ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر لٹکا لیاکریں ۔ اُردو زبان میں اسے گھونگھٹ نکالنا کہا جاتاہے۔ اِدْنَاءعَلی کے الفاظ کااستعمال عربی زبان میں اسی مفہوم کے لئے ہے۔ جب کسی عورت کے چہرے پر سے کپڑا سرک جائے تو اسے دوبارہ چہرے پر لٹکا لینے کے لئے عربی زبان میں یوں کہا جائے گا:
اَدْنِيْ ثَوْبَکِ عَلیٰ وَجْھِکِ

''اپنا کپڑا اپنے چہرے پر لٹکا لو۔''

اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عورت کے لئے چہرے کے پردے اور کپڑا لٹکانے کا یہ حکم اجنبی مردوں سے متعلق ہے تو یہ مفہوم لینے کا واضح قرینہ اسی آیت کے ان الفاظ میں موجود ہے کہ

ذَ‌ٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَ‌فْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ...﴿٥٩﴾...سورۃ الاحزاب

یعنی جب عورتیں اپنے چہرے کا پردہ کریں اور چادر اوڑھیں گی تو اجنبی لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ شریف زادیاں ہیں ۔ اس طرح کسی بدباطن کو یہ جرأت نہ ہوگی کہ وہ ان کو چھیڑے یا ستائے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح پہچاننے کی اور چھیڑنے ستانے کی صورت گھر سے باہر کے ماحول ہی میں پیش آسکتی ہے۔

دوسرے یہ کہ بڑی چادر لینے کی ضرورت بھی عموماًگھر سے باہر ہوسکتی ہے، کیونکہ گھر میں اجنبی مردوں کی آمد شاذ ونادر ہی ہوتی ہے۔ گھر میں چونکہ اکثر محرم مردوں سے ہی سامنا ہوتا ہے، لہٰذا اس کے لیے عورت کے پردے کے بارے میں الگ سے حکم موجود ہے جو سورۂ نور کی آیت 31 میں اس طرح آیا ہے:{وَلْيَضْرِ‌بْنَ بِخُمُرِ‌هِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ}''اور عورتوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں ۔ '' گویا گھر کے اندر عورت کو چادر پہننے کی ضرورت نہیں ، صرف اوڑھنی کافی ہوسکتی ہے،کیونکہ گھر میں اجنبی مردوں سے بہت کم سامنا ہوتا ہے اورجب وہ گھر سے باہر نکلے گی تو بڑی چادر اوڑھے گی جس کا ایک حصہ اپنے چہرے پر بھی ڈال لے گی۔(iii)

اُمت ِمسلمہ کے تمام جلیل ُالقدر مفسرین نے سورۂ احزاب کی اس آیت کا یہی مفہوم بیان کیا ہے :
1 حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے، اسے حافظ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اس طرح نقل کیا ہے کہ
أمراﷲ نساء المؤمنین إذا خرجن من بیوتھن في حاجة أن یغطین وجوھھن من فوق رؤسھن بالجلابیب ویبدین عینا واحدة
''اللہ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے گھروں سے نکلیں تو اپنی چادروں کے پلو اوپر سے ڈال کر اپنا منہ چھپالیں اور صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں ۔''
2 ابن جریر رحمة اللہ علیہ اور ابن منذر رحمة اللہ علیہ کی روایت ہے کہ محمد بن سیرین رحمة اللہ علیہ نے حضرت عبیدہ سلمانی سے اس آیت کا مطلب پوچھا۔( یہ حضرت عبیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہوچکے تھے مگر حاضر خدمت نہ ہوسکے تھے۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں مدینہ آئے اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ اُنہیں فقہ اور قضا میں قاضی شریح ؓکے ہم پلہ مانا جاتا تھا۔)اُنہوں نے جواب میں کچھ کہنے کی بجائے اپنی چادر اٹھائی اور اسے اس طرح اوڑھاکہ پورا سر او رپیشانی اور پورا منہ ڈھانک کر صرف ایک آنکھ کھلی رکھی۔
3 امام ابن جریر طبری رحمة اللہ علیہ نے اپنی تفسیر جامع البیان (ج22؍33) پر اسی آیت کے تحت لکھا ہے کہ
''شریف عورتیں اپنے لباس میں لونڈیوں سے مشابہ بن کر گھر سے نہ نکلیں کہ ان کے چہرے اور سر کے بال کھلے ہوئے ہوں ، بلکہ اُنہیں چاہئے کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں تاکہ کوئی فاسق ان کو چھیڑنے کی جرأت نہ کرے۔''

عورت کا نا محرموں اور اجنبیوں سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھنا اور اپنے ستر کو چھپا کر رکھنا حجاب ہے ۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مختلف سورتوں میں اس کا باقاعدہ حکم د یا ہے۔ سورہ نور کی آیت 31 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
     ’’مسلما ن عورتوں سے کہوکہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظا ہرنہ کر یں سو ا ئے اس کے جو ظا ہر ہے اور اپنے گر یبا نوں پر اپنی اوڑھنیا ں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کوکسی کے سا منے ظا ہر نہ کریں۔‘‘
    سورہ احزاب کی آیت نمبر 59میں اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں :
    ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی بیویوں اور صا حبزادیوں سے اور مسلما نوں کی عورتوں سے کہہ دوکہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستا ئی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
    ہمارا دین ہمیں اچھی اور پاکیزہ زندگی جینے کی مکمل رہنما ئی دے رہا ہے۔ انسان اس کے ظا ہری حلیے کی وجہ سے پہچا نا جاتا ہے۔ انسان کے علاقائی، ذہنی اور اخلاقی رجحا نات اسکے ظاہری حلیے سے ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں۔ انسا ن کا حلیہ ہی اس کے ظاہر اور باطن کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ حلیہ ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے اور بحیثیت ایک مسلمان خا تون ہمیں اپنے لباس میں اس چیز کا بہت خیال رکھنا چا ہئے کہ ہم ایک مسلمان با وقار خا تون دکھا ئی دیں۔
    حجاب یقینا خوا تین کا وقار ہے اور اس کا تعلق براہ راست شرم وحیا سے ہے ۔زیادہ پرانی بات نہیں، ہمارے معاشرے میں دوپٹے اور حجاب کے بغیر باہر نکلنا ایک معیوب بات سمجھی جاتی تھی اور خواتین پردے کا خاص خیال رکھتی تھیں اور بچیوں کو بھی اس بات کی تربیت دی جاتی تھی کہ اپنے پردے کا خیا ل رکھولیکن جوں جوں معا شرہ  ترقی کرتا گیا اور فیشن آتا گیا تو اس ترقی یافتہ دور کے بہت سے نقصا نات بھی سامنے آئے ہیں اور اس فیشن انڈسٹری نے دوپٹے کو عورت کے لباس سے گھٹا دیا ہے اوراس دوپٹے کو خیر آباد کہنے سے بطور خاص ہمارے مسلم معاشرے میںاس کے بہت سے نقصانات سامنے آرہے ہیں
    مسلمان معاشرے میں ہر خاتون اس کی ایک رکن ہے، خواہ وہ مغرب میں رہتی ہو ،ایشیا میں یا عرب میں۔ کچھ سال پہلے ان تمام معا شروں میں ایک مسلمان خا تون باوقار طریقے سے رہتی تھی کیونکہ اس کا حجاب اس کے لئے بہت اہمیت رکھتا تھا لیکن آجکل مادہ پرستی اور فیشن کی جدت نے عورت کو اپنے حجاب سے بے نیاز کر دیا ہے۔ آج کل کی ما ئیں اور بیٹیاں سب اس بات پر مضطرب نظر آتی ہیں کہ دوپٹہ اوڑھنے کی چیز ہے یا سا ئیڈ پر لٹکا نے کی چیز ہے۔ اس پر اکبر الٰہ آبادی کا ایک شعر یاد آیا:
 بے پردہ کل نظر جو آئیں چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑھ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا؟
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
    یہ تو وہی بات ہوئی کہ آج کل ہمارے اکثر مرد وں کو یہ زعم ہوتا ہے کہ ہما ری عورتوں کا کردار بہت پختہ ہے، دوپٹہ یا حجاب ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ سب ان کا بھولا پن یا عقل پر پردہ ہی تو ہے ۔
    بھڑکیلا لباس پہن کر بن سنور کر جب عورت باہر نکلتی ہے تو ہر قسم کی نظریں ان پر پڑتی ہیں۔ اس کی ایک مثال میں اپنی زندگی کے ایک واقعے سے دیتی ہوں۔    کچھ سال پہلے جب میرے شوہر پاکستان میں ایک ٹر یننگ میں مصروف تھے تو گھر اور باہر کی تمام ذمہ داریاں سب مجھے سنبھالنی پڑتی تھیں۔بچو ں کے لئے خریداری، گھر کا سودا سلف، بل جمع کرانا وغیرہ وغیرہ سب میرے ذمے تھا۔ میری ہمسا ئی جوکہ ایک بہت ہی ماڈرن اور جدید فیشن کی رسیا خاتون تھیں،انھوں نے مجھ سے ایک دن پوچھا کہ یہ سب کیسے اکیلے کر لیتی ہیں، یہاں کا ماحول تو بہت خراب ہے۔ میں تو جب بھی کسی کام سے باہر جاتی ہوں سب لوگ مجھے عجیب عجیب نظروں سے گھورتے ہیں اور بعض اوقات تو کچھ لڑکے مجھ پر آوازیں بھی کستے ہیں، تو میں نے مسکرا کر جواب دیا کہ بغیر حجاب کیے اور اپنی ستر کو ڈھا نپے بنا آپ با ہر جائیں گی تو ان باتوں کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا۔ اس کے برعکس میں نے انھیں اپنی بات بتائی کہ میں حجاب اوڑھ کر با ہر جاتی ہوں تو اکثر بھیڑ میں لوگ مجھے راستہ دے دیتے ہیں۔جب بل جمع کرانے بینک جاتی ہوں تو مرد کنارے ہو کر مجھے آگے بڑھنے کو کہتے ہیں، کوئی بھی بات کرتا ہے تو نظریں جھکا کر بات کرتا ہے۔یہ سب میرے حجاب کا وقار ہے جس نے مجھے باوقار بنا دیا ہے ۔
    اللہ تعالیٰ نے نفسانی خواہشات سے بچانے کے لئے عورت کو حجاب میں رکھا ہے۔ حجاب عورت کی عفت اور پاکدامنی کا پاسبان ہے۔ اس سے عورت کی شرم وحیا کا اظہار ہوتا ہے ۔حجاب عورت کو حیا کا پیکر بناتا ہے ۔
    ہمارے معاشرے میں بے راہ روی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ خواتین کی بے پردگی ہے۔آج بھی اس نسل نو میں اپنے تشخص اور پہچا ن کیلئے بیداری کی لہر اٹھ گئی ہے اورپورا مغرب حجاب سے خوف زدہ نظر آرہا ہے۔فرانس اور دیگر ممالک میں حجاب پر پا بندی لگائی جا رہی ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگا نے سے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ ہم مسلم خوا تین کے تشخص کو نہیں ما نتے، کیو نکہ حجاب مسلمان خواتین کے تشخص کی علامت ہے جبکہ دیگر سب تہذیبوں کو مانا جا رہا ہے۔جب ایک مسلمان عورت اپنے سر کو ڈھانپتی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اپنی پہچا ن کا احساس ہے اور وہ اسلامی تہذیب اورثقافت کیلئے سر اٹھا کر کھڑی ہے اوراس سے مغرب خوفزدہ نظر آ رہا ہے ۔
     ہم مسلمان خواتین کو سوچنا چاہیے کہ نمودو نمائش کے دور میں آگے بڑھ کر کبھی بھی اپنے لئے کامیابی اور ترقی نہیں پا سکتے بلکہ ہمیں ایک باوقار عورت کے روپ میں معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ حجاب سے ہی ہم ایک مسلمان عورت کے طور پر پہچا نے جا تے ہیں اوردنیا کی عورتوں سے منفرد اور با عزت نظر آتے ہیں ۔
    خانہ کعبہ پر بھی غلاف ہے۔ تقدس کی چیزو ںکو ڈھا نپ کر رکھا جاتا ہے اس لئے عورت کا تقدس اس کے حجاب میں ہے۔حجاب عورت کے تشخص کی علامت ہے،عورت کی شرافت کا آئینہ دار ہے، آپکی نسلوں کی بہترین تر بیت وہی عورت کر سکتی ہے جو با حیا اور باوقار ہو۔
    حضرت خدیجہ  ؓکو عرب سوسائٹی میں بہت عزت اور وقار سے پہچانا جا تا تھا۔ ان کا کاروبار پورے عرب میں پھیلا ہوا تھا۔ آ پ طاہرہ کے نام سے پکا ری جاتی تھیں۔ اسی طرح حضرت عا ئشہؓ  کی زندگی پر نظر ڈالیس۔ ہمیں ازواج مطہرات کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہیے اور اپنی زندگی کو ان کے نقش قدم پر چلانے کی کوششں کرنی چاہئے، اور جتنا ہو سکے اپنی ستر کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے اور ہمیں چاہئے کہ باہر نکلتے وقت شرعی پردے میں باہر نکلیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں تو عورت محفوظ بھی رہتی ہے اور بہترطور پر معاشرہ میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے اور باوقا طریقے سے پہچانی جاتی ہے اور کسی اجنبی کی ہمت بھی نہیں ہوتی کہ اس پر نگاہ ڈالے ۔
    اللہ ہم سب مائوں، بہنوں اور بیٹیوں پر رحم فرما ئے اور اپنے دین پرمکمل عمل کرنے کی تو فیق عطا فرماے کیونکہ یہی بہترین عمل ہے جو ہم نے اپنی آنے والی نسل کو دینا ہے۔

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...