یہ حدیث ہمیں بتا رہی ہے کہ جو شخص
کسی مسلمان سے کسی مصیبت کو دور
کرتا ہے یا پھر اس کی کسی مشکل کو
آسان کرتا ہے یا پھر اس کی کسی لغزش یا
غلطی کی ستر پوشی کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے اس کے ان اعمال ہی کی جنس سے بدلہ دے گا جن سے اس نے دوسروں کو نفع پنہنچایا ہے اور یہ کہ جب بندہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی اس کے مشکل کاموں میں مدد کرتا ہے تو اللہ بھی دنیا و آخرت میں اپنی توفیق کے ذریعہ اس کی مدد کرتا ہے اور یہ کہ جو نیکی کی کسی حسی راہ پر چلتا ہے جیسے مجالسِ ذکر یا باعمل علماء و محققین کی مجلس کی طرف علم سیکھنے کے لیے جاتا ہے یا پھر معنوی طور پر ایسے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے جو اسے اس علم تک لے جاتا ہے جیسے اس کا یاد کرنا، مطالعہ کرنا، غور و فکر کرنا اور اسے جو نفع بخش علوم سکھائے جائیں ان کا سیکھنا وغیرہ، جو بھی شخص خالص نیت کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہوتا ہے اللہ تعالی اسے علم نافع کے حصول کی توفیق دے دیتا ہے جو اسے جنت تک لے جاتا ہے۔ اور یہ کہ جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں قرآن کریم کی تلاوت اور اسے پڑھنے پڑھانے کے لیے جمع ہوتے ہیں انہیں اللہ تعالی اطمئنان اور کلی رحمت سے نوازتا ہے، فرشتے ان کی مجلسوں میں حاضر ہوتے ہیں اور ملا اعلی میں اللہ کی طرف سے ان کی تعریف ہوتی ہے اور یہ کہ شرف کا دار و مدار صرف اور صرف نیک اعمال پر ہے نہ کہ حسب اور نسب پر۔ شرح
ہہ یہ حدیث ہمیں بتا رہی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان سے کسی مصیبت کو دور کرتا ہے یا پھر اس کی کسی مشکل کو آسان کرتا ہے یا پھر اس کی کسی لغزش یا غلطی کی ستر پوشی کرتا ہے تو اللي تعالی اسے اس کے ان اعمال ہی کی جنس سے بدلہ دے گا جن سے اس نے دوسروں کو نفع پنہنچایا ہے اور یہ کہ جب بندہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی اس کے مشکل کاموں میں مدد کرتا ہے تو الله بھی دنیا و آخرت میں اپنی توفیق کے ذریعہ اس کی مدد کرتا ہے اور یہ کہ جو نیکی کی کسی حسی راہ پر چلتا ہے جیسے مجالسِ ذکر یا باعمل علماء و محققین کی مجلس کی طرف علم سیکھنے کے لیے جاتا ہے یا پھر معنوی طور پر ایسے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے جو اسے اس علم تک لے جاتا ہے جیسے اس کا یاد کرنا، مطالعہ کرنا، غور و فکر کرنا اور اسے جو نفع بخش علوم سکھائے جائیں ان کا سیکھنا وغیرہ، جو بھی شخص خالص نیت کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہوتا ہے الله تعالی اسے علم نافع کے حصول کی توفیق دے دیتا ہے جو اسے جنت تک لے جاتا ہے۔ اور یہ کہ جو لوگ الله کے گھروں میں سے کسی گھر میں قرآن کریم کی تلاوت اور اسے پڑھنے پڑھانے کے لیے جمع ہوتے ہیں انہیں الله تعالی اطمئنان اور کلی رحمت سے نوازتا ہے، فرشتے ان کی مجلسوں میں حاضر ہوتے ہیں اور ملا اعلی میں الله کی طرف سے ان کی تعریف ہوتی ہے اور یہ کہ شرف کا دار و مدار صرف اور صرف نیک اعمال پر ہے نہ کہ حسب اور نسب پر۔
