Sunday, June 26, 2022

قرآن مجید میں شعراء کے بارے ارشاد



قرآن مجید میں سورۃ الشعراء میں شعراء کے بارے ارشاد ہے:​
وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ۔ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ۔ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ۔ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا۔
ترجمہ: اور شعراء تو ان کی پیروی کرنے والے لوگ بھٹکے ہوئے ہیں، کیا آپ نے نہیں دیکھتے کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اور وہ جو کہتے ہیں، وہ کرتے نہیں ہیں۔ سوائے ان شعراء کے کہ جو ایمان لائے، جنہوں نے نیک عمل کیے، جنہوں نے کثرت سے اللہ کو یاد کیا، اور جنہوں نے ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیا۔
قرآن مجید کی ان آیات میں تمام شعراء کی مذمت کی گئی ہے البتہ چند کو ان سے مستثنی کر دیا گیا ہے۔ اب اہم ترین اور اصولی بات یہ ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ فنون لطیفہ موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی، شعر وشاعری اور فن تعمیر میں اصل ممانعت ہے البتہ ان سب میں کچھ استثناءات (exceptions) موجود ہیں۔ اور اس ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ تمام فنون انسان کے مقصد زندگی یعنی بندگی رب میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اور اس پر تفصیل سے ہم اپنے مضمون "اسلام اور فنون لطیفہ" میں کلام کریں گے۔
قرآن مجید نے جن شعراء کی مذمت کی ہے، ان کی تین صفات بیان فرمائی ہیں۔ جن شعراء میں یہ تین صفات ہوں تو وہ قابل مذمت شعراء ہیں۔ وہ شعراء کہ جن کے پیروکار، ان کے شارحین اور انہیں سراہنے والے نقاد، بھٹکے ہوئے لوگ ہوں۔ اور وہ شعراء کہ جن کی شاعری بے مقصد کی ہو کہ فن برائے فن ہو، ادب برائے ادب ہو، اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جو تصورات اور تخیلات کی ہر وادی میں گھومتے پھرتے ہوں۔ تیسرا وہ شعراء جو بے عمل ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نعمان بن عدی کو بصرہ میں امیر بنا کر بھیجا کہ انہوں نے کچھ اشعار ایسے کہے کہ جن میں شراب پینے پلانے کا ذکر تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انے صرف اسی بات پر معزول کر دیا۔
اور ان شعراء کو قرآن مجید نے مستثنی قرار دیا ہے کہ جن میں چار صفات ہوں۔ ان میں سے تین صفات تو شاعر کی ہیں اور دو اس کے کلام کی ہیں۔ شاعر کی تین صفات میں سے یہ ہیں کہ وہ شاعر ایمان والے ہوں، دوسرا عمل صالح کرنے والے ہوں، تیسرا اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے ہوں۔ اور ان کے کلام کی دو صفات میں سے یہ ہیں کہ ان کے کلام میں اللہ کا ذکر کثرت سے موجود ہو اور ان کا کلام ظلم کے خلاف ہو۔ پس وہ شاعری مذموم نہیں ہے کہ جس میں توحید کا بیان ہو، رسالت کا ذکر ہوں، آخرت کا تذکرہ ہو، اور وہ شاعری کہ جس میں ظلم کا بدلہ لیا جائے، ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔
جہاں تک یہ دعوی ہے کہ شاعری انسانی جذبات میں لطافت اور نزاکت پیدا کرتی ہے کہ جس کی بنا پر ایک شاعر کو قرآن مجید کی آیات کو سمجھتے ہوئے جو احساسات حاصل ہوتے ہیں، وہ غیر شاعر کو نہیں ہوتے ہیں۔ یہ قطعی طور غلط دعوی ہے۔ ایک غیر شاعر کے احساسات اور جذبات، ایک شاعر سے بہت بہتر ہو سکتے ہیں کیونکہ شاعری میں جن جذبات اور احساسات کو مخاطب کیا جاتا ہے، وہ غیر حقیقی ہوتے ہیں کہ جھوٹے تخیلات اور تصورات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایک دوست نے کہا کہ فلاں مفسر نے دیوان غالب سے قرآن مجید کی تفسیر کی ہے کہ دیوان غالب ہر وقت ان کے سرہانے ہوتی تھی۔ تو میں نے کہا: اسی لیے تو غلط تفسیر کی ہے اور یہ صرف میں نہیں کہہ رہا اور بھی بہت سے علماء کہہ رہے ہیں کہ غلط تفسیر کی ہے۔
اس کے برعکس ہمارا دین، جو دین فطرت ہے، وہ انسانی جذبات اور احساسات کی تربیت اور نشوونما جس حقیقی اصول پر کرتا ہے، وہ صلہ رحمی، مسلم اخوت، باہمی الفت اور ہمدردی کا رشتہ ہے کہ دنیا کے ایک کونے میں کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرے کونے میں موجود مسلمان بے چین ہو جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سارے جہاں کا درد اگر کسی دل میں ہو سکتا ہے، وہ سچے مومن کا دل ہے کہ جو انسانوں اور مسلمانوں بلکہ جانوروں تک سے اپنے تعلق میں سچا ہے کہ ان کی تکلیف محسوس کرتا ہے نہ کہ جھوٹے شاعر کا کہ جس کا کلام اور نہ سہی تو کم از کم مبالغہ آمیز محبت یا نفرت کے اظہار کی وجہ سے ہی جھوٹا ہے۔

مشرکین عرب کے نیک اعمال

مشرکین عرب نہ یہ کہ اللہ کو مانتے تھے بلکہ وہ دین ابراہیمی کے بعض اعمال بھی پوری تندہی سے بجالاتے تھے۔ گو وہ بھی اپنی اصل حالت پر نہ تھے لیکن ان کا منبع شریعت ابراہیمی ہی تھا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کیا اعمال کرتے تھے۔

مشرکین عرب نماز پڑھتے تھے

رسول اللہ ﷺ نے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔ اس کی وجہ آپ ﷺ نے یہ فرمائی:

ھی ساعۃ صلاۃ الکفار (سنن النسائی)

وہ کافروں کی نماز کا وقت ہے

مشرکین عرب زکوٰۃ دیتے تھے

{وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ} [الأنعام : 136]

6 )   اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

مشرکین عرب اعتکاف کرتے تھے

عن عمر قلت يا رسول الله اني كنت نذرت ان اعتكف ليلة في المسجد الحرام في الجاهلية قال اوف بنذرك (صحیح البخاری)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجدالحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔

مشرکین عرب خدمت حرم کرتے تھے

ء جعلتم سقاية الحاج وعمارة المسجد الحرام كمن آمن بالله واليوم الآخر وجاهد في سبيل الله لا يستوون عند الله۔ (التوبہ: 19)

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں لکھا ہے:

قال الله: لا يستوون عند الله والله لا يهدي القوم الظالمين ) يعني: الذين زعموا انهم اهل العمارة فسماهم الله " ظالمين " بشركهم ، فلم تغن عنهم العمارة شيئا .

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یعنی وہ لوگ جو یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ اہل حرم ہیں اللہ نے ان کو ظالمین کا لقب دیا جس کا سبب ان کا شرک تھا جس کی وجہ سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

حرم کی تعمیر اور اس کی خدمت بہت بڑی نیکی تھی لیکن ان کے شرک کی وجہ سے یہ نیکی اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں ٹھہری۔

مشرکین عرب حج کرتے تھے

حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین عرب حج بھی کرتے تھے۔

عن عائشة رضي الله عنها ، قالت كان قريش ومن دان دينها يقفون بالمزدلفة وكانوا يسمون الحمس(صحیح البخاری)

سیدۃ عائشہؓ بتاتی ہیں کہ قریش اور جو لوگ ان کے مذہب پر تھے وہ (حج کے دوران) مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور وہ (اپنے آپ کو) حمس (شجاع) کہتے تھے۔

صحیح بخاری کی روایت ہے کہ لوگ اسلام سے قبل برہنہ (کعبہ) کا طواف کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں سیدۃ عائشہؓ کی روایت ہے کہ انصار اسلام سے پہلے دو بتوں کے لیے تلبیہ پڑھتے تھے جس کے بعد وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے۔

مشرکین عرب عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے

حدیث شریف میں آتاہے:

عن عائشة قالت: كان يوم عاشوراء تصومه قريش في الجاهلية (صحیح البخاری)

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے۔

مشرکین عرب غلام آزاد کیا کرتے تھے

عاص ابن وائل جو اسلام قبول کیے بغیر ہی فوت ہوگیا اس نے مرنے سے پہلے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی اس کے بیٹے صحابی رسول ﷺ عمرو ابن عاص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا عاص کو اس سے کچھ فائدہ ہوسکتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لو كان مسلما فاعتقتم عنه او تصدقتم عنه او حججتم عنه بلغه ذلك (سنن ابی داؤد)

اگر (تمہارا باپ) مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے (غلام) آزاد کرتے یا صدقہ دیتے یا حج کرتے تو اسے ان کا ثواب پہنچتا

یہ شرک کی نحوست ہے کہ مشرک کو کسی نیک عمل کا ثواب بھی نہیں پہنچ سکتا۔

ان تمام مثالوں کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مکہ کے کفار مشرک اس لیے نہیں کہلائے کہ وہ نیک اعمال کا انکار کرتے تھے۔ ان کے کفر کا بنیادی سبب ان کا شرک تھا۔

مشرکین عرب کی آپ ﷺ کے بارے میں رائے

مشرکین عرب رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول نہ کرنے کا سبب آپ ﷺ کی ذات نہ تھی بلکہ وہ آپ ﷺ کے اخلاق کے گرویدہ تھے۔ ایک بار ابوجہل نے آپ ﷺ سے کہا:

قد نعلم يا محمد انك تصل الرحم ، وتصدق الحديث ، ولا نكذبك ، ولكن نكذب الذي جئت به۔ (سنن الترمذی)

ترجمہ: ہم جانتے ہیں کہ بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، اور باتیں بھی سچی کرتے ہیں، ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو آپ لے کر آئے ہیں۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب کو رسول اللہ ﷺ کی ذات سے عناد نہ تھا اور وہ آپ ﷺ کے اعلی اخلاق کو مانتے تھے۔

جب رسول اللہ ﷺ نے تمام کفار مکہ کو قبول اسلام کی دعوت دینے سے پہلے اپنے بارے میں رائے لی تو انہوں نے کہا:

ما جربنا عليك الا صدقا (صحیح البخاری)

ترجمہ: ہم نے آپ سے سچ ہی سنا ہے (یعنی آپ سچے ہیں)۔

لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے لاالہ الا اللہ کی دعوت دی تو یہی لوگ آپ ﷺ پر جھوٹا ہونے کا الزام لگانے لگا۔ ایک موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے اس کلمے کی دعوت یوں دی:

يا ايها الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا (صحیح ابن حبان)

ترجمہ: اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہو کامیاب ہوجاؤ گے

یہ سن کر ابولہب کہتا تھا:

انه صابی كاذب (مسند احمد)

ترجمہ: یقینا یہ بے دین جھوٹا ہے۔

مشرکین عرب کا شرک کیا تھا؟

اوپر بیان ہوا کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار نہیں کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو سچا جانتے تھے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ کس چیز کا انکار کرتے تھے کہ اللہ کا اقرار کرنے کے باوجود وہ مشرک قرار دیے گئے؟ اس کا ایک ہی سبب تھا جس کو قرآن پاک نے اس طرح بیان کیا ہے:

اجعل الآلهة الها واحدا ان هذا لشي ء عجاب (ص: 5)

ترجمہ: کیا اس نے اتنے الہوں کی جگہ ایک ہی الہ بنا دیا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

اس آیت سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب کا انکار صرف اللہ کو ایک الہ ماننےسے تھا۔

قرآن پاک نے اس کا جواب یوں دیا ہے:

لا تتخذوا الھین اثنین انما ھو الہ واحد (النحل: 51)

ترجمہ: تم دو الہ مت بناؤ الہ تو صرف ایک ہی ہے

لو كان فيهما آلهة الا الله لفسدتا فسبحان الله رب العرش عما يصفون (الانبیاء:22)

ترجمہ:اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین و آسمان درہم برہم ہوجاتے

یعنی ان کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کثرت الہ کے قائل تھے جب کہ لا الہ الا اللہ ایک الہ کا تقاضا کرتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہوا کہ یہ سمجھا جائے کہ الہ سے کیا مراد ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے وہ یہ کہ شرک صرف بت پرستی کا نام ہے۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ ہے کہ لوگ شرکیہ عقائد اور اعمال میں ملوث ہوکر بھی اپنے آپ کو توحید پر کاربند سمجھتے ہیں۔


تمہید

قرآن کریم نے جتنا زور توحید کے اثبات اور شریک کی تردید پر دیا ہے اتنا زور کسی دوسرے مسئلے پر نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے:

ان الشرک لظلم عظیم (لقمان: 13)

یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

قرآن پاک بتاتا ہے کہ تمام انبیا کی دعوت کا مرکزی نکتہ ایک ہی تھا: لا الہ الا اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی بھی الہ نہیں ہے۔

وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحي اليه انه لا اله الا انا فاعبدون (الانبیاء: 25)

اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی الہ نہیں تو میری ہی عبادت کرو

اللہ تعالیٰ کے قانون میں شرک کتنی بری چیز ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ سورۃ انعام میں اللہ تعالیٰ اٹھارہ انبیائے کرام علیہم السلام کے نام گنوانے کے بعد فرماتے ہیں:

ولو اشركوا لحبط عنهم ما كانوا يعملون (الانعام)

اور اگر وہ لوگ بھی شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہو جاتے

یعنی مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں ہو گا۔

اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات کے کسی کو شریک ٹھہرانا کس قدر ناپسند ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرے کے کہا جارہا ہے:

ولقد اوحي اليك والى الذين من قبلك لئن اشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرين (الزمر: 65)

اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہو چکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوجاؤ گے۔

گو کہ نبی سے شرک ہونا ناممکن ہے لیکن امت کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔

انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ و ماوہ النار وما للظٰلمین من انصار (المائدہ: 72)

یقینا جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سے ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ان تجعل للہ ندا و ھو خلقک (صحیح البخاری)

کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا ہے۔

حضرت ابوہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ایسی ہوتی ہے جس کو درجہ قبولیت حاصل ہوتا ہے اور ہرنبی نے ایسی دعا دنیا کے اندر ہی کر لی ہے لیکن میں نے وہ دعا ابھی تک نہیں کی وہ دعا میں نے اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھوڑ رکھی ہے۔ لیکن یہ دعا کس کے حق میں قبول ہو گی؟ پڑھیے:

فھی نائلۃ ان شاء اللہ من مات من امتی لایشرک باللہ شئیا (صحیح مسلم)

تو وہ دعا اللہ تعالیٰ کے حکم سے میری امت میں سے ہر اس شخص کو پہنچ سکتی ہے جس کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کے شرک میں ملوث ہوجانے کا خطرہ ہے۔

حضرت ابودرداءؓ فرماتے ہیں مجھے میرے محبوب ﷺ نے یہ وصیت کی ہے:

ان لاتشرک باللہ شیئا وان قطعت او حرقت (سنن ابن ماجہ)

کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا چاہے تم ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں یا قتل کردیے جاؤ۔

خلاصہ یہ کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے بغاوت ہے۔ مشرک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بنا رہے گا۔ اس کے باوجود لوگ شرکیہ عقائد اور اعمال میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ قلب کی گہرائیوں سے اپنے اعمال کو اسلام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس تمام تر گمراہی کی بنیادی وجہ ایک ہے وہ یہ کہ عام مسلمان سمجھتا ہے کہ شرک صرف بت پرستی کا نام ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام جن لوگوں میں آیا وہ بت پرست تھے۔ کیونکہ وہ بت پرست تھے اس لیے وہ تمام آیتیں اور حدیثیں جن میں شرک کی برائی آئی ہے ان سے بت پرستی والا شرک ہی مراد ہے۔

اس مضمون میں اس مغالطے کا جائزہ لے کر حقیقت بیان کی گئی ہے۔آیئے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ مشرکین عرب کا خود اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کیا عقیدہ تھا۔

مشرکین عرب کا عقیدہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں

کیا مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکاری تھے۔ یقینا نہیں! مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکاری نہیں تھے۔ وہ نہ صرف اس کے ہونے کے قائل تھے بلکہ بہت ساری چیزوں کو وہ صرف اسی کی طرف منسوب کرتے تھے مثلا مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمین کا خالق اور رازق، کائنات کے امور کو چلانے والا، اور ہر چیز کا اختیار رکھنے والا مانتے تھے۔ ملاحظہ کیجیے۔

خالق اللہ

ولئن سالتهم من خلقهم ليقولن الله فانى يؤفكون (الزخرف: 87)

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ اللہ نے۔ تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟

ولئن سالتهم من خلق السمٰوٰت والارض ليقولن الله (الزمر)

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہہ دیں گے کہ اللہ نے

رزق دینے والا اللہ، مالک اللہ، زندگی دینے والا اللہ، موت دینے والا اللہ،دنیا کے امور چلانے والا اللہ

قل من يرزقكم من السماء والارض ام من يملك السمع والابصار ومن يخرج الحي من الميت ويخرج الميت من الحي ومن يدبر الامر فسيقولون الله فقل افلا تتقون (یونس: 31)

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ اللہ۔ تو کہو کہ پھر تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں؟

زمین و آسمان کا مالک اللہ، ہر چیز کا مالک اللہ، بچانے والا اللہ، گھیرنے والا اللہ

قل لمن الارض ومن فيها ان كنتم تعلمون () سيقولون لله قل افلا تذكرون () قل من رب السمٰوٰت السبع ورب العرش العظيم() سيقولون لله قل افلا تتقون() قل من بيده ملكوت كل شيء وهو يجير ولا يجار عليه ان كنتم تعلمون() سيقولون لله قل فانى تسحرون (یونس: 84-89)

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے سب کس کا ہے؟ جھٹ بول اٹھیں گے کہ اللہ کا۔ کہو کہ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟ (ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا کون مالک ہے اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے؟) بےساختہ کہہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) اللہ ہی کی ہیں، کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟ کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ بچاتا ہے اور اس سے کوئی بچا نہیں سکتا، فورا کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) اللہ ہی کی ہے، تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑ جاتا ہے؟

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ یہیں سے یہ بات بھی سمجھ آجاتی ہے کہ وہ بتوں کو اللہ نہیں مانتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ بتوں کا اللہ نہیں مانتے تھے تو پھر وہ بتوں کی پوجا کیوں کرتے تھے؟ درحقیقت بتوں کو وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کا ذہن کسی پیکر محسوس کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے جڑنے کا طلبگار تھا۔ اسی لیے وہ کہتے تھے:

{أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ} [الزمر : 3]

 دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا

{وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ} [يونس : 18]


8 )   اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔


پیچھے جو کچھ بیان ہوا اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب نہ اللہ کا انکار کرتے تھے، نہ وہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا انکار ان ﷺ کی ذات کی وجہ سے کرتے تھے نہ ہی وہ اعمال سے بھاگتے تھے۔ مزید یہکہ وہ صرف بے جان پتھروں کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی سوچ اور فکر اس سلسلے میں یہ تھی کہ یہ بت اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ اور واسطہ ہیں۔ آیئے ذرا اس چیز کو مزید سمجھتے ہیں کہ بت پرستی کیا ہے؟ بت پرست کس چیز کی عبادت کرتے ہیں؟ اگر یہ بات سمجھ میں آجائے تو یقینا شرک کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے گی۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مشرکین عرب جن کو ہم بت پرست کہتے ہیں وہ درحقیقت مٹی کی مورت بنا کر اس کا ایک نام رکھ دیتے تھے اور اس کو اپنا معبود قرار دے دیتے تھے۔ اسی تراشے ہوئے پتھر کو سجدہ کرتے تھے۔اسی کے نام کا ذکر کرتے تھے۔ اس کا نام لے کر اپنی حاجتوں میں اس کو پکارتے تھے تو درحقیقت یہ انتہائی ناقص خیال ہے بلکہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ شرک صرف بت پرستی کا نام ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے لا الہ الا اللہ کہنے والا کیونکہ بتوں کی پوجا نہیں کرتا لہذا وہ مشرک نہیں ہو سکتا چاہے اس کے عقیدے اور اعمال کیسے ہی ہوں۔ اس سوچ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں قرآن پاک کیا بتاتا ہے۔

حضرت عیسیؑ اور ان کی ماں کو معبود بنایا گیا

واذ قال الله یٰعيسى ابن مريم ء انت قلت للناس اتخذوني وامي الهين من دون الله قال سبحانك ما يكون لي ان اقول ما ليس لي بحق ان كنت قلته فقد علمته تعلم ما في نفسي ولا اعلم ما في نفسك انك انت علام الغيوب (المائدۃ: 116)

ترجمہ:اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب اللہ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری والدہ کوالہ مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بے شک تو علام الغیوب ہےح ضرت عیسیؑ اور ان کی والدہ کو الہ بنایا گیا جب کہ نہ عیسیؑ اور نہ ہی مریمؑ بت تھے۔ اور عیسائی بت پرست نہیں بلکہ وہ درحقیقت حد سے بڑھی ہوئی شخصیت پرستی کا شکار ہیں جس کی بنیادی وجہ حضرت عیسیؑ کے معجزات ہیں۔ اس بے لگام شخصیت پرستی کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ان صفات کا حامل قرار دے دیا ہے جو ان میں نہیں تھیں۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے ماں کی گود ہی میں اعلان کردیا تھا:

اني عبد الله (مریم:30)

ترجمہ: میں اللہ کابندہ ہوں

لیکن عیسائی کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے بندے نہیں اس کے بیٹے ہیں۔ یہی بےلگام شخصیت پرستی شرک کا سبب بن جاتی ہے اور دین ناواقف اپنی طرف سے اللہ کے مقرب بندوں کو بندگی سے نکال کر الوہیت کا جامہ پہنا دیتے ہیں۔ ٹھیک یہی کام کلمہ گو مشرک بھی کرتے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ اور برزگان دین کے ساتھ وہ باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا انہوں خود دعوی نہیں کیا بلکہ انکار ہی کیا ہے۔

علما اور صوفیوں کو معبود بنایا گیا

اتخذوا احبارهم ورهبانهم اربابا من دون الله والمسيح ابن مريم وما امروا الا ليعبدوا الها واحدا لا اله الا هو سبحانه عما يشركون۔ (التوبہ: 31)

ترجمہ:انہوں (یہودی و نصاریٰ) نے اپنے علما اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا رب بنا لیا حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ایک الہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت عدیؓ بن حاتم، جو اسلام لانے سے پہلے عیسائی تھے، نے رسول ﷺ سے دریافت کیا کہ ہم نے تو کبھی علما اور صوفیا کی عبادت نہیں کی تو قرآن پاک نے ایسا کیوں کہا؟ آپ ﷺ نے جواب دیا علما اور صوفیوں نے جو چیزیں ازخود حلال و حرام کردی تھیں (یعنی محض اپنی طرف سے نہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے) تم اس کو حجت نہیں مانتے تھے؟ حضرت عدیؓ نے کہا ضرور سمجھتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

فذٰلک عبادتھم ایاھم (سنن الترمذی)

ترجمہ:یہی تو ان کی عبادت کرنا ہے

چونکہ حلال و حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ کا منصب ہے اس لیے اس میں کسی غیر کو شریک ٹھہرانا اس کی عبادت کرناہے۔ اس آیت میں علما اور صوفیا کا ذکر ہے کہ لوگوں نے ان کو رب بنایا او مشرک ہوئے۔ حالانکہ علما و صوفیا بت نہیں ہوتے، اور نہ ہی حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ بت تھے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے نیک بندوں کو اللہ کی کسی صفت میں شریک کرنا اس کو الہ بنانا ہے جو شرک ہے۔

نوٹ: یہاں احبار و رھبان سے مراد وہ علما و صوفیا ہیں جو محض اپنی رائے سے دین میں حلال و حرام قرار دیتے تھے۔ البتہ علمائے حق کسی مسئلے میں کوئی حکم بتاتے ہیں وہ اس میں داخل نہیں اس لیے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں حکم فرماتے ہیں۔

حضرت نوحؑ کی اولاد کو معبود بنایا گیا

وقالوا لا تذرن آلهتكم ولا تذرن ودا ولا سواعا ولا يغوث ويعوق ونسرا وقد اضلوا كثيرا ولا تزد الظالمين الا ضلالا(نوح: 23-24)

ترجمہ:اور وہ کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر یہ ان بتوں کے نام تھے جن کی قوم نوح عبادت کرتی تھی۔ ان بتوں کی حقیقت کیا تھی اس کی خبر صحیح بخاری کی اس روایت سے ملتی ہے:

اسماء رجال صالحين من قوم نوح فلما هلكوا اوحى الشيطان الى قومهم: ان انصبوا الى مجالسهم التي كانوا يجلسون انصابا وسموها باسمائهم ففعلوا فلم تعبد حتى اذا هلك اولئك ونسخ العلم عبدت

ترجمہ:یہ نام قوم نوح کے نیک لوگوں کے تھے، جن کی وفات کے بعد شیطان نے (اس قوم کے) لوگوں کوپٹی پڑھائی کہ ان (بزرگوں) کے بت بنا کر ان جگہوں پر رکھ دو جہاں یہ بزرگ بیٹھا کرتے تھے اور ان بتوں کے انہی بزرگوں پر نام بھی رکھ دو (تاکہ ان کی یاد آتی رہے)، لوگوں نے اسی طرح کیا لیکن ان مجسموں کی عبادت نہیں کی یہاں تک کہ وہ لوگ جنہوں نے یہ بت بنائے تھے مرگئے اور ان بتوں کا مقصد پس پردہ چلا گیا اور بعد میں آنے والے ان بتوں کی عبادت کرنے لگے۔

ان بتوں کی عربوں کے یہاں بھی عبادت ہوتی تھی۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ بت پرستی اصل میں بزرگ پرستی سے شروع ہوئی۔

نیک لوگوں کو معبود بنایا گیا

افرايتم اللات والعزى (النجم: 19)

ترجمہ:بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا

ترجمہ:لات اس بت کا نام تھا جس کی مشرکین عرب عبادت کرتے تھے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کہتے ہیں:

كان اللات رجلا يلت سويق الحاج (صحیح البخاری)

ترجمہ:لات ایک آدمی کا نام تھا جو حاجیوں کو ستو گھول کر پلاتا تھا۔

جب اس کی وفات ہوگئی تو لوگوں نے اس کی قبر پر ڈیرہ ڈال دیا اور اس کی عبادت ہونے لگی (ابن کثیر)۔ یہاں بھی وہی بات نظر آئے گی کہ بت پرستی اصل میں قبر پرستی ہے جس کی بنیاد شخصیت پرستی ہے۔ بت تو ایک ظاہری شکل ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بڑی شخصیت ہوتی ہے جس کی عظمت کم عقلوں کی عقلوں کو ماؤوف کردیتی ہے اور وہ اس عظمت کو اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ اس کو اللہ کے کاموں میں دخل انداز سمجھنے لگتے ہیں۔

فرشتوں کو معبود بنایا گیا

ويوم يحشرهم جميعا ثم يقول للملائكة اهؤلاء اياكم كانوا يعبدون () قالوا سبحانك انت ولينا من دونهم بل كانوا يعبدون الجن اكثرهم بهم مؤمنون (سبا: 40-41)

ترجمہ:اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے، وہ کہیں گے تو پاک ہے (شریکوں سے) تو ہی ہمارا دوست ہے ان کے سوا بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے ان پر ایمان رکھتے تھے۔

مشرکین عرب نے فرشتوں کو معبود بنا لیا تھا جن کو اپنی حاجتوں کے وقت پکارا کرتے تھے۔

جنوں کو معبود بنایا گیا

عزی جس کا ذکر سورۃ نجم آیت 19 میں آیا ہے اس کے متعلق آتا ہے کہ وہ جنی تھی جس کی عبادت کی جاتی تھی۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالدؓ بن ولیدکو عزی کا معبد ختم کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے جب اس کے مبعد کو منہدم کیا تو اس میں سے ایک عورت برآمد ہوئی جس کو حضرت خالدؓ نے قتل کرڈالا۔

اہل عرب کے دو مشہور بت تھے اساف اور نائلہ۔ایک روایت میں آتا ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو ایک ادھیڑ عمر کی ایک حبشی عورت واویلا کرتی اپنے رخسار نوچتی ہوئی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

تلک نائلۃ ایست ان تعبد ببلدکم ھذا ابدا (البدایۃ و النھایۃ)

ترجمہ:یہ نائلہ ہے یہ اس سے ناامید ہوچکی ہے کہ تمہارے اس شہر میں کسی وقت اس کی عبادت ہو۔

یہ نائلہ بھی عزی کی طرح کوئی پری یا جنی تھی جس کے بت کی مشرکین مکہ عبادت کرتے تھے۔

حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمعیلؑ کی عبادت کی گئی

مشرکین عرب نے کعبۃ اللہ کے اندر بھی بت رکھے ہوئے تھے۔ سنن ابوداؤد کی ایک روایت میں آتا ہے کہ فتح مکہ کےبعد جب رسول اللہ ﷺ نے کعبہ اللہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے حکم فرمایا:

فاخرج صورة ابراهيم وإسمعيل

ترجمہ: ابراہیمؑ اور اسمعیلؑ کی تصویروں کو باہر نکال دو۔

قبر کی عبادت کی گئی

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انھوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں تصویریں تھیں۔ انھوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے بھی کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی تصویریں بنا دیتے پس یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلوۃ)

اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت میں یہ دعا فرمائی:

اللھم لا تجعل قبری وثنا یعبد (مؤطا امام مالک)

ترجمہ:اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا جس کی عبادت کی جائے۔

قرآن پاک میں فرعون کے یہ الفاظ آئے ہیں:

وقال فرعون ياايها الملا ما علمت لكم من اله غيري (القصص: ۳۸)

ترجمہ:اور فرعون نے کہا کہ اے اہل دربار میں تمہارا، اپنے سوا کسی کو الہ نہیں جانتا

ایک اور انداز سے اس کو سمجھیں۔ قرآن پاک میں آتا ہے:

واتخذوا من دون الله آلهة لعلهم ينصرون (یس:74)

ترجمہ:اور ان (مشرکوں) نے اللہ کے سوا (اور) الہ بنا لیے ہیں کہ شاید (وہ) ان کی مدد پہنچیں

واتخذوا من دون الله آلهة ليكونوا لهم عزا (مریم: 81)

ترجمہ:اور ان (مشرکوں) نے اللہ کے سوا اور الہ بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں

یعنی اللہ کے علاوہ وہ جن کو بھی الہ مانتے تھے ان کو وہ اپنا مددگار سمجھتے تھے۔ پتھر کے بتوں میں ایسی کون سے قوت پوشیدہ تھی جس کی بنیاد پر مشرکین عرب ان سے مدد کی امید باندھتے تھے ان سے عزت کے طلب گار تھے؟ اس سوال کا جواب اس کے علاوہ کیا ہے کہ ان بتوں کے پیچھے شخصیات تھیں۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے ان اقوال کو غور سے پڑھیں:

ظاہر و باطن دونوں طرح کے شرک کو چھوڑنے والوں میں سے ہوجا۔ بتوں کی پرستش کرنا تو ظاہری شرک ہے اور مخلوق پر بھروسہ رکھنا اور نفع نقصان میں ان پر نگاہ ڈالنا ہے یہ باطن کا شرک ہے۔ (الفتح الربانی مجلس ۳۴)

فتوح الغیب میں فرماتےہیں:صرف بت پرستی ہی شرک نہیں بلکہ اپنی خواہش نفس کی پیروی کرنا اور خدائے عز وجل کے ساتھ دنیا اور آخرت اور وہاں کی کسی چیز کو اختیار کرنا بھی شرک ہے پس جو اللہ تعالیٰ کے سوا ہے وہ غیر اللہ ہے۔ بس جب تو اس کے سوا اس کے غیر کی طرف مائل ہوا تو بے شک تو نے غیر خدا کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا۔ ( فتوح الغیب وعظ ۷)

خلاصہ یہ ہے کہ بتوں کی اصل صاحب بت اور تصویروں کی اصل صاحب تصویر تھے۔ عقیدت پتھر کے بتوں یا کاغذی صنم (تصویر) سے نہیں ہوتی ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی شخصیت ہوتی ہے۔ مشرکین عرب بھی اصلا بتوں کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے پیچھے شخصیات تھیں جن کی عظمت کے آگے وہ جھکتے تھے جن کے متعلق یہ عقیدہ قائم کرلیا گیا تھا کہ یہ اللہ کے اس قدر قریب ہوگئے ہیں کہ ان کے واسطے سے ہم اپنی حاجتوں میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرسکتے ہیں۔ یہی سب کچھ آج بھی ہوتا ہے۔ یہ بات تو ایک معمولی سمجھ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ ایک ناتراشیدہ پتھر تو کچھ حیثیت نہ رکھے لیکن جب وہی پتھر تراش دیا جائے تو وہ معبود بن جائے جو سب کچھ کرسکتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ شرک کی ابتدفرد یا مکان کی عظمت سے شروع ہوتی ہے جو بے لگام ہوجائے تو عبادت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...