Abu Musa al-Ash‘ari reported the Prophet as saying, “There are three who will not enter paradise:
| Reference | : Mishkat al-Masabih 3656 |
| In-book reference | : Book 17, Hadith 92 |
جادو ایک ایسا شیطانی عمل ہے جس کی سزا اللہ تعالٰی کے ہاں بہت شدید ترین ہے اور احکام الٰہی کے مطابق جادو کرنے اور کروانے والا دونوں جہنمی ہیں۔ پہلے وقتوں میں اگر کوئی جادوگر کسی شخص پر جادو کرتا تو اس کا اثر نہ ہونے کے برابر ہوتا تھا کیونکہ اس وقت بہت سے مسلمان گھرانے صبح و شام اللہ کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہوئے دیکھے جاتے تھے لیکن اب بہت سے مسلمان گھرانے جادو ٹونے کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہیں اور کوئی ایسا گھر ہمیں دیکھنے کو نہیں ملے گا جو جادو ٹونے کا شکار نہ ہوا ہو۔ یہ شیطانی عملیات اس وقت انسان کے اوپر اپنا دباؤ بڑھانا شروع کر دیتے ہیں جب وہ اللہ تعالٰی کی حمد و تسبیح بیان کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ بظاہر ہمیں ان شیطانی عملیات سے بچنے کے لیے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات پر عمل پیرا ہونا بہت ضروری ہے۔
پاکستان کے تقریباً سب ہی چھوٹے بڑے شہروں میں دیواروں پر، اخباروں اور کتابوں میں ایسے اشتہار دیکھنے میں آتے ہیں جن میں سنگ دل محبوب کو قدموں میں گرانے، کسی دشمن کو زیر کرنے اور پسند کی شادی کرانے جیسی خواہشوں کو جادو کے ذریعے پوری کرنے والے پیروں اور عاملوں کا ذکر ملتا ہے۔
آئے دن ایسی خبریں بھی سامنے آتی ہیں کہ جن میں نہ صرف لوگ ایسے عاملوں کے ہاتھوں بھاری مالی نقصان برداشت کرتے ہیں بلکہ کئی واقعات میں تو سائلین کو جان کے لالے بھی پڑ چکے ہیں۔ ان تمام کاموں کو دین اسلام نے حرام قرار دے دیا ہے اور جادو ٹونے کرنے اور کروانے والے کی اسلام میں بہت سخت سزا ہے جس کے اوپر میں مختصراً روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا اور شاید یہ تحریر ان لوگوں کے لیے ذریعہ نجات بن جائے جو لوگ دوسرے مسلمان گھرانوں کے اوپر جادو ٹونے کرنے یا کروانے کے متعلق سوچ بچار میں مصروف ہیں۔
اللہ تعالٰی نے قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر: 102 میں ارشاد فرمایا کہ؛ ”اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے، جو شیاطین، سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان علیہ السلام نے کبھی کفر نہیں کیا، کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادو گری کی تعلیم دیتے تھے وہ پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں، ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی، حالانکہ وہ (فرشتے ) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے، تو پہلے صاف طور پر متنبہ کر دیا کرتے تھے کہ“ دیکھ، ہم محض ایک آزمائش ہیں، تو کفر میں مبتلا نہ ہو ”پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے، جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں ظاہر تھا کہ اللہ تعالٰی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی نقصان نہ پہنچا سکتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں، بلکہ نقصان دہ تھی اور انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، کاش انہیں معلوم ہوتا!“
پس ہمیں معلوم ہو گیا کہ جادو کرنے اور کروانے والا دونوں کافروں میں سے ہیں اور میاں، بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا کروانے والا بھی اللہ تعالٰی کے عذاب سے بچ نہیں پائے گا۔
اس کے علاوہ اللہ تعالٰی نے سورہ الاعراف کی آیات نمبر 113 سے 122 تک میں حضرت موسٰی علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان ہونے والے مقابلے کو بڑی تفصیل سے بیان کیا اور فرمایا کہ؛
” اور جادوگر فرعون کے پاس آئے اور انھوں نے (فرعون) سے کہا کہ یقیناً ہمارے لیے ضرور کچھ صلہ ہو گا، اگر ہم ہی غالب ہوئے۔ (فرعون) نے کہا ہاں! اور یقیناً تم ضرور مقرب لوگوں میں شامل ہوں گے۔ (جادوگروں ) نے کہا اے موسیٰ! یا تو توں پہلے پھینک یا ہم پہلے پھینکتے ہیں۔ (موسیٰ) نے کہا پہلے تم پھینکو اور جب انھوں نے پھینکا تو انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انھیں سخت خوف زدہ کر دیا اور وہ بہت بڑا جادو لے کر آئے۔
اور (اللہ) نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی پھینک اور (جب انہوں نے اپنی لاٹھی پھینکی) تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگی جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔ پس حق ثابت ہو گیا اور باطل ہار گیا جو کچھ وہ کر رہے تھے۔ تو اس موقع پر وہ (فرعون کے جادوگر) مغلوب ہو گئے اور ذلیل ہو کر واپس لوٹے۔ اور (فرعون) کے جادوگر سجدے میں گر گئے۔ انھوں نے کہا ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔“
پس ثابت ہوا کہ جادوگر کے مقدر میں اللہ تعالٰی نے شکست فاش لکھ دی ہے اور اس وقت تک اللہ تعالٰی اس کی بخشش نہیں فرمائے گا جب تک وہ صدق دل سے توبہ کر کے اللہ تعالٰی پر پختہ یقین نہ کر لے۔
جادوگروں کے متعلق احادیث رسول ﷺ میں بھی بہت سخت سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ؛ ”جادوگر کی سزا تلوار سے گردن اتارنا ہے۔ “ (سنن ترمذی) اور اسی حدیث کی روشنی میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی شہادت سے ایک سال قبل سرکاری فرمان جاری کیا تھا جس کے الفاظ یہ ہیں ؛ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک سال وفات سے قبل ان کا خط ہمیں موصول ہوا۔ انہوں نے فرمایا، ہر جادوگر مرد اور عورت کو قتل کر دو، چنانچہ ہم نے تین جادوگر عورتوں کو قتل کیا۔“ (مسند احمد)
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ؛ ”سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔ صحابہ نے پوچھا حضور وہ کیا ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک، جادو، ناحق اس جان کو ہلاک کرنا جو اللہ نے حرام کی، سود خوری، یتیم کا مال کھانا، جہاد کے دن پیٹھ دکھا دینا، پاکدامن مؤمن عورتوں پر بہتان لگانا۔“ (بخاری، مسلم)
میرے عزیز بھائیوں اور بہنوں! جادو بہت بڑا گناہ کبیرہ ہے اور یہ شرک اکبر میں شمار ہوتا ہے۔ شرک اکبر اللہ تعالٰی اس وقت معاف نہیں فرماتے جب تک بندہ سچے دل سے توبہ نہ کر لے اور آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو اور تمام مسلمانوں کو جادو ٹونے سے محفوظ رکھے اور ہم سب کو گناہ کبیرہ سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں کہ تین قسم کے لوگ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ ایسے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں جو فرد اور سماج کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں : پہلی قسم کے لوگ ہيں ہمیشہ شراب پینے والے، کیونکہ شراب عقل کو زائل کرتی، آدمی کی انسانیت کو مسخ کرتی اور اس کی مروت کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ ہیں رشتے داروں کے حقوق ادا نہ کرنے والے، کیونکہ اس سے پریوار کے افراد کے بیچ دشمنی اور تفرقہ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں کبھی کبھی انسان قریب کے لوگوں سے بھی الگ تھلگ پڑ جاتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ ہیں جادو کی تصدیق کرنے والے، کیوں کہ اس سے شعبدہ بازی، فریب کاری اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپنے کو بڑھاوا ملتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جو وعید بیان کی گئی ہے، اس کے اندر جادوگروں کی بتائی ہوئی علم غیب سے متعلق باتوں کی تصدیق کرنے والا بھی آتا ہے۔ جہاں تک اس بات کو ماننے کی بات ہے کہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، تو ایسا ماننے والا اس وعید کے اندر نہیں آتا، کیونکہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی اگر یہ مانے کہ جادو سے چیزوں کی ماہیت بدل جاتی ہے، مثال کے طور پر یہ مانے کہ جادو لکڑی کو سونا بنادیتا ہے یا اس طرح کى کسی اور بات کو مانے، تو اس کے اس وعید میں داخل ہونے میں کوئی شک نہيں ہے، کیوں کہ یہ کام اللہ عز وجل کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا

