Saturday, August 12, 2023

 ذو النورين کی سخاوت اور بچت کا ایک واقعہ

  ذو النورين حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ کی سخاوت اور بچت کا ایک واقعہ

اس نے ارادہ کیا کہ حاجت بیان کر دیکھوں۔ شاید میری کچھ امداد کرہی دیں۔دستک سن کر حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ باہر آئے۔ حاجت مند نے اپنی حاجت بیان کی اور لہجے میں زیادہ زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ضرورت کچھ زیادہ ہی ہے‘‘حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ نے اس شخص کا ہاتھ تھاما‘ بستی سے باہر لے گئے۔جہاں آپ کا سامانِ تجارت بڑی تعداد میں رکھا ہوا تھا فرمایا۔ ’’یہ سب تیری نذر ہے‘ کیا اس سے تمہاری ضرورت پوری ہوجائے گی؟‘‘ وہ شخص حیران‘ ہکا بکا دیکھتا رہ گیا چنانچہ اس نے عرض کیا۔ ’’حضرت یہ سب کچھ میری ضرورت سے زیادہ ہے۔‘

‘ امیر المومنین نے فرمایا:
’’مجھے خوشی ہے کہ یہتمہاری ضرورت سے کم نہیں۔‘‘ اس شخص نے کہا: ’’اے حضرت! ایک بات بتائیے‘ چراغ کی بتی قدرے موٹی ہو جانے پر آپ اپنی زوجہ محترمہ کو سرزنش کررہے تھے۔ حالانکہ چراغ اس قدر روشنی رکھنے میں شاید صرف ایک درہم کا تیل استعمال بھی استعمال نہ ہوتا۔ وہ تو آپ کو گوارہ نہ ہوا اوریہاں ہزاروں کا سامان مجھے بلا تامل دے رہے ہیں؟‘‘ تب آپ نے فرمایا: ’’بھائی چراغ میں تیل کا زیادہ اسراف ہے ۔ اور زیادہ اسراف اللہ کو پسند نہیں اور مجھے اللہ کے حضور اپنے اعمال کی فکر رہتی ہے۔ یہاں مجھے فکرِ اعمال لاحق ہے اس لیے میں نے سرزنش کی۔ سامان تمہیں اللہ کی خوشنودی کے لیے صدقہ دیا ہے اس پر اجر کی امید ہے اور وہاں پر حساب کا خوف ہے۔


رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...