نکاح،قرآن مجید کی روشنی میں
پاکدامن عورتوں کا نکاح پاکدامن مردوں سے اور بدکار عورتوں کا نکاح بدکار مردوں سے کرنے کا حکم ہے۔
{ اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ}(26:24)
نکاح کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں1نکاح مسنون 2 نکاح شغار 3 نکاح حلالہ 4 نکاح متعہ ۔
ا) أَلنِّکَاحُ الْمَسْنُوْنِ
اپنے شوہر کے علاوہ دوسرے مردوں سے اختلاط کی تمام قسمیں حرام ہیں۔
عورت کے لئے بیک وقت ایک سے زائد مردوں سے نکاح کرنے کا طریقہ اسلام نے حرام قرار دیاہے۔
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ ا قَالَتْ: اِنَّ النِّکَاحَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ کَانَ عَلٰی أَرْبَعَۃٍ اَنْحَائٍ : فَنکِاَحُ مِنْہَا نِکَاحُ النَّاسِ الْیَوْمَ یَخْطُبُ الرَّجُلُ اِلَی الرَّجُلِ وَلِیَّتَہٗ اَوِ ابْنَتَہٗ فَیُصْدِقُہَا ثُمَّ یُنْکِحُہَا وَ نِکَاحٌ آخَرُ : کَانَ الرَّجُلُ یَقُوْلُ لِإِمْرَأَتِہٖ : اِذَا طَہُرَتْ مِنْ طَمْثِہَا اَرْسِلِیْ اِلٰی فُلاَنٍ فَاسْتَبْضِعِیْ مِنْہُ وَ یَعْتَزِلُہَا زَوْجُہَا وَ لاَ یَمَسُّہَا اَبَدًا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ حَمْلُہَا مِنْ ذٰلِکَ الرَّجُلِ الَّذِیْ تَسْتَبْضِعُ مِنْہُ فَاِذَا تَبَیَّنَ حَمْلُہَا اَصَابَہَا زَوْجُہَا اِذَا اَحَبَّ وَ اِنَّمَا یَفْعَلُ ذٰلِکَ رَغْبَۃً فِیْ نَجَابَۃِ الْوَلَدِ ، فَکَانَ ہٰذَا النِّکَاحُ نِکَاحُ الْاِسْتِبْضَاعِ وَ نِکَاحٌ آخَرُ : یَجْتَمِعُ الرَّہْطُ مَا دُوْنَ الْعَشَرَۃِ فَیَدْخُلُوْنَ الْمَرْأَۃَ کُلُّہُمْ یُصِیْبُہَا فَإِذَا حَمَلَتْ وَ وَضَعَتْ وَ مَرَّ لِیَالٍ بَعْدَ اَنْ تَضَعَ حَمْلَہَا اَرْسَلَتْ اِلَیْہِمْ فَلَمْ یَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْہُمْ اَنْ یَمْتَنِعَ حَتّٰی یَجْتَمِعُوْہَا عِنْدَہَا ، تَقُوْلُ لَہُمْ : قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِیْ کَانَ مِنْ اَمْرِکُمْ وَ قَدْ وَلَدْتُ فَہُوْ اِبْنُکَ یَا فُلاَنُ ، تُسَمّٰی مَنْ اَحَبَّتْ بِاِسْمِہٖ فَیَلْحَقُ بِہٖ وَلَدُہَا ، لاَ یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَمْتَنِعَ بِہِ الرَّجُلُ ، وَ نِکَاحُ الرَّابِعُ : یَجْتَمِعُ النَّاسُ الْکَثِیْرُ فَیَدْخُلُوْنَ عَلَی الْمَرْأَۃِ لاَ تَمْنَعَ مَنْ جَائَ ہَا ، وَ ہُنَّ الْبَغَایَا کُنَّ یَنْصِبْنَ عَلٰی أَبْوَابِہِنَّ رَاْیَاتٍ تَکُوْنُ عَلَمًا لِمَنْ اَرَادَہُنَّ دَخَلَ عَلَیْہِنَّ فَاِذَا حَمَلَتْ اِحْدَاہُنَّ وَ وَضَعَتْ حَمْلَہَا جُمِعُوْا لَہَا وَ دَعَوْا لَہُمُ الْقَافَۃَ ثُمَّ الْحَقُوْا وَلَدَہَا بِالَّذِیْ یَرَوْنَ فَالْتَاطَتْہُ بِہٖ وَ دُعِیَ اِبْنُہٗ لاَ یَمْتَنِعُ مِنْ ذٰلِکَ ، فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌا بِالْحَقِّ ہَدَمَ نِکَاحَ الْجَاہِلِیَّۃِ کُلَّہٗ اِلاَّ نِکَاحَ النَّاسِ الْیَوْمَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
حضرت عائشہ رَضِیَ الله عَنْہَا
روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں چار طرح سے نکاح کئے جاتے تھے ۔پہلا طریقہ وہی ہے جس طریقہ سے آج بھی لوگ کرتے ہیں ایک مرد، دوسرے مرد يعني (ولی )کی طرف اس کی بیٹی یا رشتہ دار عورت کے لئے نکاح کا پیغام بھیجتا ،وہ (ولی )مہر مقرر کرتا اور (اپنی بیٹی یا اپنی رشتہ دار عورت سے )نکاح کردیتا ۔دوسرا طریقہ یہ تھا کہ عورت جب حیض سے پاک ہوجاتی تو شوہر اسے کہتا کہ فلاں (خوبصورت ،بہادر اور خاندانی )مرد کو بلا کر اس سے زنا کروا ۔اس کے بعد جب تک حمل کا پتہ نہ چل جاتا عورت کا شوہر اس سے الگ رہتا حمل واضح ہونے کے بعد اگر شوہر چاہتا تو خود بھی اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ۔یہ اس لئے کیاجاتا کہ اعلی خاندان کی خوبصورت اولاد پیدا ہو ۔اس نکاح کو نکاح استبضاع کہا جاتا ہے ۔تیسرا طریقہ یہ تھا کہ دس کی تعداد سے کم آدمی مل کر ایک ہی عورت سے بدکاری کرتے ۔حمل کے بعد جب وہ بچہ جنتی تو چند دنوں کے بعد وہ عورت ان سب مردوں کو بلا بھیجتی اور کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ آنے سے انکار کرے جب وہ سارے مرد اکٹھے ہوجاتے تو عورت ان سے کہتی ’’جو کچھ تم نے کیا وہ خوب جانتے ہو اب میں نے یہ بچہ جناہے اور اے فلاں ! یہ تمہارا بیٹاہے ۔‘‘عورت جس کا چاہتی نام لے دیتی اور بچہ (قانونی طور پر )اسی مرد کا ہوجاتا جس کا عورت نام لیتی اور مرد کے لئے مجال انکار نہ ہوتی ۔نکاح کا چوتھا طریقہ یہ تھا کہ ایک عورت کے پاس بہت سے آدمی آتے جاتے ہر ایک اس سے بدکاری کرتا اور وہ عورت کسی کو منع نہ کرتی یہ طوائفیں ہوتیں جو (علامت کے طور پر) اپنے گھروں پر جھنڈے لگادیتیں جو چاہتا ان کے پاس (بدکاری کے لئے )آتا جاتا ۔جب ایسی عورت حاملہ ہو جاتی اور بچہ جن لیتی تو سارے مرد جو اس کے ساتھ بدکاری کرتے رہے تھے کس قیافہ شناس کو اس کے پاس بھیجتے وہ (اپنے علم قیافہ کی رو سے )جس مرد کو اس بچے کا باپ بتاتا بچہ اسی کا بیٹا قرار پاتا اور وہ مرد انکار نہ کرسکتا ۔جب حضرت محمد ﷺ دین اسلام لے کر آئے تو آپ ﷺ نے جاہلیت کے سارے نکاح حرام قرار دے دیئے صرف وہی نکاح باقی رکھا جو اب بھی رائج ہے ۔اسے بخاری نے روایت کیاہے۔اپنی بیٹی یا بہن اس شرط پر کسی کے نکاح میں دینا کہ اس کے بدلہ میں وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن اس کے نکاح میں دے گا یا کسی کی بیٹی کو اس شرط پر اپنی بہو بنانا کہ وہ بھی اس کی بیٹی کو اپنی بہو بنائے گا،یہ نکاح شغار (وٹہ سٹہ )کہلاتا ہے ایسا نکاح کرنا منع ہے۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا نَہٰی عَنِ الشِّغَارِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
اصغر اپنی بیوی اصغری کو طلاق دینے کے بعد دوبارہ اس (یعنی اصغری) سے نکاح کرنے کے لئے اکبر سے اس شرط پر نکاح کروا دے کہ اکبر ایک یا دو دن بعد اسے (یعنی اصغری کو)طلاق دے دے گا اور اصغر دوبارہ اپنی اور اکبر کی مطلقہ (اصغری )سے شادی کرے گا اس نکاح کو نکاح حلالہ کہتے ہیں ،یہ نکاح قطعی حرام ہے ۔
حلالہ نکلوانے والا (اصغر )اور حلالہ نکالنے والا (اکبر )دونوں ملعون ہیں۔
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ : لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا أَلْمُحَلِّلَ وَ الْمُحَلَّلَ لَہٗ ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ(صحیح)
طلاق دینے کی نیت سے مختصر وقت (خواہ چند گھنٹے ہوں چند دن ہوں یا چند ہفتے ہوں یا چند مہینے) کے لئے کسی عورت سے مہر طے کر کے نکاح کرنا ،نکاح متعہ کہلاتا ہے جو کہ حرام ہے۔
عَنِ الرَّبِیْعِ ابْنِ سَبْرَۃَ الْجُہْنِیِّ ص اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہٗ أَنَّہٗ کَانَ مَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا فَقَالَ ((یَا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ قَدْ کُنْتُ آذِنْتُ لَکُمْ فِی الْاِسْتَمْتَاعِ مِنَ النِّسَائِ وَ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ ذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَمَنْ کَانَ عِنْدَہٗ مِنْہُنَّ شَیْئٌ فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَہَا وَ لاَ تَأْخُذُوْا مِمَّا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
وضاحت : یاد رہے فتح مکہ سے پہلے تک نکاح متعہ جائز تھا جسے فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم ﷺ نے حرام قرار دے دیا بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جنہیں رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کا علم نہ ہو سکا وہ اسے جائز سمجھتے تھے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں جب سختی سے اس قانون پر عمل کروایا تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اس کی حرمت کا علم ہو گیا اور اس کے بعد کسی نے اسے جائز نہیں سمجھا۔
(ب) نِکَاحُ الشِّغَار
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ا نَہٰی عَنِ الشِّغَارِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ
ج) نِکَاحُ الْحَلاَ لَۃِ
اصغر اپنی بیوی اصغری کو طلاق دینے کے بعد دوبارہ اس (یعنی اصغری) سے نکاح کرنے کے لئے اکبر سے اس شرط پر نکاح کروا دے کہ اکبر ایک یا دو دن بعد اسے (یعنی اصغری کو)طلاق دے دے گا اور اصغر دوبارہ اپنی اور اکبر کی مطلقہ (اصغری )سے شادی کرے گا اس نکاح کو نکاح حلالہ کہتے ہیں ،یہ نکاح قطعی حرام ہے ۔
حلالہ نکلوانے والا (اصغر )اور حلالہ نکالنے والا (اکبر )دونوں ملعون ہیں۔
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ : لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا أَلْمُحَلِّلَ وَ الْمُحَلَّلَ لَہٗ ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ(صحیح)
د) نِکَاحُ الْمُتْعَۃِ
طلاق دینے کی نیت سے مختصر وقت (خواہ چند گھنٹے ہوں چند دن ہوں یا چند ہفتے ہوں یا چند مہینے) کے لئے کسی عورت سے مہر طے کر کے نکاح کرنا ،نکاح متعہ کہلاتا ہے جو کہ حرام ہے۔
عَنِ الرَّبِیْعِ ابْنِ سَبْرَۃَ الْجُہْنِیِّ ص اَنَّ اَبَاہُ حَدَّثَہٗ أَنَّہٗ کَانَ مَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ا فَقَالَ ((یَا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ قَدْ کُنْتُ آذِنْتُ لَکُمْ فِی الْاِسْتَمْتَاعِ مِنَ النِّسَائِ وَ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ ذٰلِکَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَمَنْ کَانَ عِنْدَہٗ مِنْہُنَّ شَیْئٌ فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَہَا وَ لاَ تَأْخُذُوْا مِمَّا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ
وضاحت : یاد رہے فتح مکہ سے پہلے تک نکاح متعہ جائز تھا جسے فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم ﷺ نے حرام قرار دے دیا بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جنہیں رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کا علم نہ ہو سکا وہ اسے جائز سمجھتے تھے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں جب سختی سے اس قانون پر عمل کروایا تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اس کی حرمت کا علم ہو گیا اور اس کے بعد کسی نے اسے جائز نہیں سمجھا۔
عورتوں کی وراثت زبردستی حاصل کرنا منع ہے ۔
شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے سے روکنا منع ہے۔
عورت کی ناپسندیدہ شکل و صورت یا گفتگو یا عادات وغیرہ کو دیکھ کر فورا علیحدگی کا فیصلہ کرنے کی بجائے حتی الامکان صبر و تحمل اور در گزر سے کام لے کر تعلق ازدواج نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
{ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَائَ کَرْہًا وَ لاَ تَعْضُلُوْہُنَّ لِتَذْہَبُوْا بِبَعْضٍ مَا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اِلاَّ اَنْ یَّاتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ وَ عَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَاِنْ کَرِہْتُمُوْہُنَّ فَعَسٰی اَنْ تَکْرَہُوْاشَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا }(19:4)
خاندان کے نظم میں مرد سربراہ اور عورت ماتحت ،مرد حاکم اور عورت محکوم ،مرد مطاع اور عورت مطیع کا درجہ رکھتے ہیں۔
مرد گھر کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے اپنے اہل و عیال کی تمام ضروریات زندگی مہیا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
شوہر کی اطاعت گزاری اور وفاشعاری ،نیک خواتین کی صفات ہیں۔
مردوں کی عدم موجودگی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرنا مثالی بیویوں کی صفت ہے۔
سرکش عورتوں کو راہ راست پر لانے کے لئے پہلا اقدام انہیں سمجھانا بجھانا ہے۔دوسرا اقدام خواب گاہوں کے اندر ان کے بستر الگ کر دینا ہے اگر پھر بھی شوہر کی بات نہ مانیں تو آخری چارہ کار کے طور پر ہلکی مار مارنے کی اجازت ہے۔
عورت شوہر کی اطاعت گزار بن جائے تو پھر اس پر کسی قسم کی زیادتی کرنا منع ہے۔
{ اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ ط فَالصّٰلِحَاتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ط وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نَشُوْزَہُنَّ فَعِظُوْہُنَّ وَاہْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْہُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُوْا عَلَیْہِنَّ سَبِیْلاً ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا }(34:فف4
شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنے سے روکنا منع ہے۔
عورت کی ناپسندیدہ شکل و صورت یا گفتگو یا عادات وغیرہ کو دیکھ کر فورا علیحدگی کا فیصلہ کرنے کی بجائے حتی الامکان صبر و تحمل اور در گزر سے کام لے کر تعلق ازدواج نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
{ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَائَ کَرْہًا وَ لاَ تَعْضُلُوْہُنَّ لِتَذْہَبُوْا بِبَعْضٍ مَا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اِلاَّ اَنْ یَّاتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ وَ عَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَاِنْ کَرِہْتُمُوْہُنَّ فَعَسٰی اَنْ تَکْرَہُوْاشَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا }(19:4)
خاندان کے نظم میں مرد سربراہ اور عورت ماتحت ،مرد حاکم اور عورت محکوم ،مرد مطاع اور عورت مطیع کا درجہ رکھتے ہیں۔
مرد گھر کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے اپنے اہل و عیال کی تمام ضروریات زندگی مہیا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
شوہر کی اطاعت گزاری اور وفاشعاری ،نیک خواتین کی صفات ہیں۔
مردوں کی عدم موجودگی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرنا مثالی بیویوں کی صفت ہے۔
سرکش عورتوں کو راہ راست پر لانے کے لئے پہلا اقدام انہیں سمجھانا بجھانا ہے۔دوسرا اقدام خواب گاہوں کے اندر ان کے بستر الگ کر دینا ہے اگر پھر بھی شوہر کی بات نہ مانیں تو آخری چارہ کار کے طور پر ہلکی مار مارنے کی اجازت ہے۔
عورت شوہر کی اطاعت گزار بن جائے تو پھر اس پر کسی قسم کی زیادتی کرنا منع ہے۔
{ اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ ط فَالصّٰلِحَاتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ط وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نَشُوْزَہُنَّ فَعِظُوْہُنَّ وَاہْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْہُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُوْا عَلَیْہِنَّ سَبِیْلاً ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا }(34:فف4

