الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نمازی نے جو رکعتیں امام کے ساتھ پائی ہیں کیا یہ اس کی پہلی شمار کی جائیں گی یا آخری ؟
"جب نماز کھڑی ہو جائے تو سکون و وقار کے ساتھ چلو جو ملے اسے پڑھ لو۔
اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو۔(متفق علیہ)
بنابریں چار رکعت والی نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں اور مغرب کی تیسری رکعت میں صرف سورۃ فاتحہ پر اکتفاء کرنا مستحب ہے جیسا کہ صحیحین میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت بھی پڑھتے تھے اور پہلی رکعت کی قرآءت دوسری کی بہ نسبت لمبی ہوتی تھی اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے۔
لیکن اگر کبھی کبھار ظہر کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت پڑھ لی جائے تو بھی درست ہے صحیح مسلم میں ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دورکعتوں میں الم تنزیل السجدہ کے بقدر اور آخری دورکعتوں میں اس کی آدھی مقدار نیز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے بقدر اور عصر کی آخری دورکعتوں میں اس کی آدھی مقدار تلاوت کرتے تھے۔
لیکن یہ حدیث اس بات پر محمول کی جائے گی کہ آپ ایسا کبھی کبھار کرتے تھے۔تاکہ دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق ہو جائے واللہ ولی التوفیق۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب
صحح البخاری باب القراءۃ فی الفجر کی ایک روایت میں آیا که هر نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کی جائے گی جن میں نبی صلی الله علیه وسلم نے همیں قرآن سنایا تها هم بهی تمهیں ان میں سنائیں گے اور جن نمازوں میں آپ نے آهسته قراءت کی هم بهی ان میں آهسته هی قراءت کریں گے اور اگر کوئی سورۃ فاتحه سے زیاده قراءت نه کرے تو وه کافی هوگی اور زیاده کر لے تو بهتر هے.
یه روایت حکم مرفوع هے. کما ذکر حافظ لابن حجر و مولف عمدۃ القاری
(صحیح البخاری ح ۷۷۲.)
لهذا اگر کوئی سورۃ فاتحه پر اکتفا کر لے تب بهی صحیح هے اور اگر کوئی سورۃ فاتحه کے ساتھ کپھ اور بهی پڑھ لے تب بهی بهتر هے
یه روایت حکم مرفوع هے. کما ذکر حافظ لابن حجر و مولف عمدۃ القاری
(صحیح البخاری ح ۷۷۲.)
لهذا اگر کوئی سورۃ فاتحه پر اکتفا کر لے تب بهی صحیح هے اور اگر کوئی سورۃ فاتحه کے ساتھ کپھ اور بهی پڑھ لے تب بهی بهتر هے
صحیح مسلم اور دیگر کتب میں واضح حدیث مبارکہ ہے :
عن أبي سعيد الخدري، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في صلاة الظهر في الركعتين الأوليين في كل ركعة قدر ثلاثين آية، وفي الأخريين قدر خمس عشرة آية أو قال نصف ذلك - وفي العصر في الركعتين الأوليين في كل ركعة قدر قراءة خمس عشرة آية وفي الأخريين قدر نصف ذلك "
ترجمہ:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں تیس آیتوں کے برابر قرأت کرتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں میں پندرہ آیتوں کے برابر یا یوں کہا اس کا آدھا۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور پچھلی دو رکعتوں میں اس کا آدھا۔ (صحیح مسلم ،باب القراءۃ فی الظھر والعصر )
اور مؤطا امام مالکؒ اور دیگر کئی کتب حدیث میں ثابت ہے کہ :
عن أبي عبد الله الصنابحي قال: قدمت المدينة في خلافة أبي بكر الصديق فصليت وراءه المغرب " فقرأ في الركعتين الأوليين بأم القرآن، وسورة: سورة من قصار المفصل، ثم قام في الثالثة، فدنوت منه حتى إن ثيابي لتكاد أن تمس ثيابه. فسمعته قرأ بأم القرآن وبهذه الآية {ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا، وهب لنا من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب} [آل عمران: 8] "
جناب ابو عبداللہ صنابحی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں اس وقتآیا جب سیدناابوبکررضی اللہ عنہ خلیفہ تھے مجھے ان کی امامت میں نماز مغرب پڑھنے کا شرف ملا ۔ تو پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک سورت مفصل کو چھوٹی سورتوں میں سے پڑھی پھر جب تیسری رکعت کے واسطے کھڑے ہوئے تو میں نزدیک ہو گیا ان کے یہاں تک کہ میرے کپڑے قریب تھے کہ چھو جائیں ان کے کپڑوں سے تو انہوں نے سورت فاتحہ اور اس آیت کو پڑھا (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ) 3۔ ال عمران : 8)
(موطا ،باب القراءة في المغرب والعشاء )
عن أبي سعيد الخدري، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في صلاة الظهر في الركعتين الأوليين في كل ركعة قدر ثلاثين آية، وفي الأخريين قدر خمس عشرة آية أو قال نصف ذلك - وفي العصر في الركعتين الأوليين في كل ركعة قدر قراءة خمس عشرة آية وفي الأخريين قدر نصف ذلك "
ترجمہ:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں تیس آیتوں کے برابر قرأت کرتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں میں پندرہ آیتوں کے برابر یا یوں کہا اس کا آدھا۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور پچھلی دو رکعتوں میں اس کا آدھا۔ (صحیح مسلم ،باب القراءۃ فی الظھر والعصر )
اور مؤطا امام مالکؒ اور دیگر کئی کتب حدیث میں ثابت ہے کہ :
عن أبي عبد الله الصنابحي قال: قدمت المدينة في خلافة أبي بكر الصديق فصليت وراءه المغرب " فقرأ في الركعتين الأوليين بأم القرآن، وسورة: سورة من قصار المفصل، ثم قام في الثالثة، فدنوت منه حتى إن ثيابي لتكاد أن تمس ثيابه. فسمعته قرأ بأم القرآن وبهذه الآية {ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا، وهب لنا من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب} [آل عمران: 8] "
جناب ابو عبداللہ صنابحی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ میں اس وقتآیا جب سیدناابوبکررضی اللہ عنہ خلیفہ تھے مجھے ان کی امامت میں نماز مغرب پڑھنے کا شرف ملا ۔ تو پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک سورت مفصل کو چھوٹی سورتوں میں سے پڑھی پھر جب تیسری رکعت کے واسطے کھڑے ہوئے تو میں نزدیک ہو گیا ان کے یہاں تک کہ میرے کپڑے قریب تھے کہ چھو جائیں ان کے کپڑوں سے تو انہوں نے سورت فاتحہ اور اس آیت کو پڑھا (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ) 3۔ ال عمران : 8)
(موطا ،باب القراءة في المغرب والعشاء )
