الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر کوئی آدمی بھول کر ایک رکعت کم پڑھ لے یا اسے پھر یاد آجائے کہ میں نے ایک رکعت کم پڑھی ہے تو اسے پوری نماز دہرانے کی بجائے ایک رکعت ہی ادا کرنی چاہئے
جیسا کہ صحیح مسلم۲/۸۷ پر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصری کی نماز پڑھائی اور تین رکعت ادا کر کے سالم پھیر دیا پھر اپنے گھر چلے گئے پھر ایک شخص جسے خرباق کہا جاتا تھا اس نےر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا کر بتایا کہ نماز میں سہو واقع ہوا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں اپنی چادر کھینچے ہوئے لوگوں کے پاس آئے اور پوچھا :
((أصدق هذا قالوا نعم فصلى ركعة ثم سجد سجدتين ثم سلم))
'' کیا اس نے سچ کہا ہے صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نے کہا ہاں ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت نماز دا کی پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا ''۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی آدمی کی نماز ایک رکعت کم ہو گی اور اس نے تین رکعت ادا کر لی ہوں اگر چہ اس دوران کچھ باتیں بھی ہو چکی ہیوں تو وہ بقیہ ایک رکعت ہی ادا کر کے سلام پھیرے اور سجدہ سہو کرے۔
سجدہ سہو کے بارے میں دو قسم کی احادیث مروی ہیں ایک حدیث میں سلام سے قبل سجدہ سہو کا ذکر ہے اور ایک حدیث میں سلام کے بعد سجدہ سہو کا ذکر ہے جیسا کہ مسلم کی ایک روایت میں آتا ہے کہ :
(( ثم يسجد سجدتين قبل أن يسلم.))
'' کہ پھر سلام سے قبل دو سہو کے سجدہ کرے ''۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں تشہد درود اور دُعا کے بعد االلہ اکبر کہہ کر سجدے میں جائے پھر اٹھ کر بیٹھ جائے پھر سجدہ کرے سلام پھیر دے سلام سے قبل سجدہ سہو کا جو طریقہ ہے وہ متفق علیہ اور جودہ سہو سلام کے بعدمذکور ہے وہ متفق علیہ تو نہیں لیکن صحیح حدیث سے ثابت ہے اور جائز عمل ہے ۔
احناف کے ہاں جو سجدہ کا طریقہ معروف ہے کہ" التحیات عبدہ و رسوله" تک پڑھ کر ایک طرف سلام پھیرا جائے پھر پورا تشہد پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے ۔ یہ طرقیہ کسی صحیح حدیث میں موجود نہیں اسکی کوئی اصل نہیں ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصوا
سجدہ سہو کبھی سلام سے پہلے اور کبھی سلام کے بعد،اور سجدہ سہو کرنے کا طریقہ ۔
: دو مقام پر سجدہ سہو سلام سے پہلے ہوتا
(۱) نمبر ایک: نماز میں کوئی نقص (کمی) واقع ہو جانے پر،
مثلا: پہلا تشہد بھول جانے پر، رکوع میں "سبحان ربي الاعلی" اور سجدہ میں "سبحان ربي العظیم" بھول جانے پر اسی طرح رکوع سے اٹھتے ہوئے "سمع اللہ لمن حمدہ" بھول جانے پر، یہ اور اس جیسے دوسرے واجبات کے چھوٹ جانے پر سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا واجب ہے، اس لئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا تشہد بھول جانے پر سلام سے پہلے سجدہ سہو کیا تھا جیسا کہ بخاری اور مسلم کی حدیث وارد ہے.
(۲) نمبر دو: جب رکعت کی تعداد بھول جائے اور پتہ نہ ہو کہ کتنی رکعت پڑھا یعنی مشکوک رکعتوں میں ترجیح کی صورت نہ بن پائے تو کم کو بنیاد بنا کے اپنی نماز مکمل کرے، یعنی اگر شک ہو جائے کہ تین رکعت پڑھا ہے یا چار اور دونوں میں سے کسی پر دل مطمئن نہ ہو تو تین مان کر چوتھی رکعت مکمل کرے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے، کیونکہ صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اگر تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور معلوم نہ ہو کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار تو شک سے کنارہ کشی اختیار کرے اور یقین (تین) کو بنیاد بنا کے اپنی نماز مکمل کرے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے.
دو مقام پر سجدہ سہو سلام کے بعد ہوتا ہے:
نمبـــــر ایک: نماز میں کوئی زیادتی واقع ہونے پر، مثلا بھول کر ایک رکعت میں دو رکوع یا تین سجدے کر لے یا بھول کر نماز مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیر دے پھر نماز مکمل کرے وغیرہ جیسی غلطیوں پر سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا واجب ہے، کیونکہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر ظہر یا عصر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لی تو صحابہ کے یاد دلانے پر آپ سجدہ نے (سلام کے بعد) سجدہ سہو کیا اور پھر دوبارہ سلام پھیرا، اسی طرح ایک بار آپ نے بھول کر ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعت کے بعد ہی سلام پھیر دیا جب صحابہ نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو رکعت نماز پڑھ کے سلام پھیر دیا پھر سجدہ سہو کیا اور دوبارہ سلام پھیرا.
نمبـــــر دو: جب نماز کی رکعتوں میں شک ہو جائے لیکن نمازی اس پوزیشن میں ہو کہ کسی ایک عدد کو ترجیح دے سکے، (یعنی کسی ایک پر اس کا دل مطمئن ہو) تو راجح عدد کو بنیاد بنائے اور نماز مکمل کرے، پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور دوبارہ سلام پھیر دے.
یعنی اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار لیکن تین رکعت پر دل مطمئن ہو تو چوتھی رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے، اور دوبارہ سلام پھیر دے. اسی طرح اگر دو اور تین رکعت میں شک ہو جائے اور تین رکعت پر دل مطمئن ہو تو چوتھی رکعت پڑھ کے سلام پھیر دے پھر سجدہ سہو کرے اور دوبارہ سلام پھیر دے، کیونکہ بخاری مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جب تم میں سے کوئی نماز کے اندر شک میں پڑ جائے تو اسے چاہئے کہ صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کرے اور اسی کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرے.
نوٹ: سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا ہو تو التحیات، درود ابراھیم اور بعد کی دعا سے فارغ ہو کر دو سجدہ کریں اور بلا کچھ پڑھے فوراً سلام پھیر دے، اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا ہو تو صرف دو سجدہ کر کے سلام پھیر دیں پہلے اور بعد میں کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں
اسباب سجدہ سہو