Thursday, September 21, 2023

کن حالات میں سجدہ سہو ضروری ہے

 

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اگر کوئی آدمی بھول کر ایک رکعت کم پڑھ لے یا اسے پھر یاد آجائے کہ میں نے ایک رکعت کم پڑھی ہے تو اسے پوری نماز دہرانے کی بجائے ایک رکعت ہی ادا کرنی چاہئے 
جیسا کہ صحیح مسلم۲/۸۷ پر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصری کی نماز پڑھائی اور تین رکعت ادا کر کے سالم پھیر دیا پھر اپنے گھر چلے گئے پھر ایک شخص جسے خرباق کہا جاتا تھا اس نےر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا کر بتایا کہ نماز میں سہو واقع ہوا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں اپنی چادر کھینچے ہوئے لوگوں کے پاس آئے اور پوچھا :
((أصدق هذا قالوا نعم فصلى ركعة ثم سجد سجدتين ثم سلم))
'' کیا اس نے سچ کہا ہے صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نے کہا ہاں ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت نماز دا کی پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا ''۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی آدمی کی نماز ایک رکعت کم ہو گی اور اس نے تین رکعت ادا کر لی ہوں اگر چہ اس دوران کچھ باتیں بھی ہو چکی ہیوں تو وہ بقیہ ایک رکعت ہی ادا کر کے سلام پھیرے اور سجدہ سہو کرے۔ 
سجدہ سہو کے بارے میں دو قسم کی احادیث مروی ہیں ایک حدیث میں سلام سے قبل سجدہ سہو کا ذکر ہے اور ایک حدیث میں سلام کے بعد سجدہ سہو کا ذکر ہے جیسا کہ مسلم کی ایک روایت میں آتا ہے کہ :
(( ثم يسجد سجدتين قبل أن يسلم.))
'' کہ پھر سلام سے قبل دو سہو کے سجدہ کرے ''۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدہ میں تشہد درود اور دُعا کے بعد االلہ اکبر کہہ کر سجدے میں جائے پھر اٹھ کر بیٹھ جائے پھر سجدہ کرے سلام پھیر دے سلام سے قبل سجدہ سہو کا جو طریقہ ہے وہ متفق علیہ اور جودہ سہو سلام کے بعدمذکور ہے وہ متفق علیہ تو نہیں لیکن صحیح حدیث سے ثابت ہے اور جائز عمل ہے ۔ 
احناف کے ہاں جو سجدہ کا طریقہ معروف ہے کہ" التحیات عبدہ و رسوله" تک پڑھ کر ایک طرف سلام پھیرا جائے پھر پورا تشہد پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے ۔ یہ طرقیہ کسی صحیح حدیث میں موجود نہیں اسکی کوئی اصل نہیں ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصوا


سجدہ سہو کبھی سلام سے پہلے اور کبھی سلام کے بعد،اور سجدہ سہو کرنے کا طریقہ ۔

: دو مقام پر سجدہ سہو سلام سے پہلے ہوتا

(۱) نمبر ایک: نماز میں کوئی نقص (کمی) واقع ہو جانے پر،
مثلا: پہلا تشہد بھول جانے پر، رکوع میں "سبحان ربي الاعلی" اور سجدہ میں "سبحان ربي العظیم" بھول جانے پر اسی طرح رکوع سے اٹھتے ہوئے "سمع اللہ لمن حمدہ" بھول جانے پر، یہ اور اس جیسے دوسرے واجبات کے چھوٹ جانے پر سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا واجب ہے، اس لئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا تشہد بھول جانے پر سلام سے پہلے سجدہ سہو کیا تھا جیسا کہ بخاری اور مسلم کی حدیث وارد ہے.

(۲) نمبر دو: جب رکعت کی تعداد بھول جائے اور پتہ نہ ہو کہ کتنی رکعت پڑھا یعنی مشکوک رکعتوں میں ترجیح کی صورت نہ بن پائے تو کم کو بنیاد بنا کے اپنی نماز مکمل کرے، یعنی اگر شک ہو جائے کہ تین رکعت پڑھا ہے یا چار اور دونوں میں سے کسی پر دل مطمئن نہ ہو تو تین مان کر چوتھی رکعت مکمل کرے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے، کیونکہ صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اگر تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور معلوم نہ ہو کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار تو شک سے کنارہ کشی اختیار کرے اور یقین (تین) کو بنیاد بنا کے اپنی نماز مکمل کرے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے.


دو مقام پر سجدہ سہو سلام کے بعد ہوتا ہے:
نمبـــــر ایک: نماز میں کوئی زیادتی واقع ہونے پر، مثلا بھول کر ایک رکعت میں دو رکوع یا تین سجدے کر لے یا بھول کر نماز مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیر دے پھر نماز مکمل کرے وغیرہ جیسی غلطیوں پر سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا واجب ہے، کیونکہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر ظہر یا عصر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لی تو صحابہ کے یاد دلانے پر آپ سجدہ نے (سلام کے بعد) سجدہ سہو کیا اور پھر دوبارہ سلام پھیرا، اسی طرح ایک بار آپ نے بھول کر ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعت کے بعد ہی سلام پھیر دیا جب صحابہ نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو رکعت نماز پڑھ کے سلام پھیر دیا پھر سجدہ سہو کیا اور دوبارہ سلام پھیرا.

نمبـــــر دو: جب نماز کی رکعتوں میں شک ہو جائے لیکن نمازی اس پوزیشن میں ہو کہ کسی ایک عدد کو ترجیح دے سکے، (یعنی کسی ایک پر اس کا دل مطمئن ہو) تو راجح عدد کو بنیاد بنائے اور نماز مکمل کرے، پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور دوبارہ سلام پھیر دے.
یعنی اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار لیکن تین رکعت پر دل مطمئن ہو تو چوتھی رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے، اور دوبارہ سلام پھیر دے. اسی طرح اگر دو اور تین رکعت میں شک ہو جائے اور تین رکعت پر دل مطمئن ہو تو چوتھی رکعت پڑھ کے سلام پھیر دے پھر سجدہ سہو کرے اور دوبارہ سلام پھیر دے، کیونکہ بخاری مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جب تم میں سے کوئی نماز کے اندر شک میں پڑ جائے تو اسے چاہئے کہ صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کرے اور اسی کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرے.

نوٹ: سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا ہو تو التحیات، درود ابراھیم  اور بعد کی دعا سے فارغ ہو کر دو سجدہ کریں اور بلا کچھ پڑھے فوراً سلام پھیر دے، اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا ہو تو صرف دو سجدہ کر کے سلام پھیر دیں پہلے اور بعد میں کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں

 اسباب سجدہ سہو

: کیا سجدہ سہو کبھی سلام سے پہلے اور کبھی سلام کے بعد؟ اور سجدہ سہو کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب: دو مقام پر سجدہ سہو سلام سے پہلے ہوتا ہے:

(۱) نمبر ایک: نماز میں کوئی نقص (کمی) واقع ہو جانے پر،
مثلا: پہلا تشہد بھول جانے پر، رکوع میں "سبحان ربي الاعلی" اور سجدہ میں "سبحان ربي العظیم" بھول جانے پر اسی طرح رکوع سے اٹھتے ہوئے "سمع اللہ لمن حمدہ" بھول جانے پر، یہ اور اس جیسے دوسرے واجبات کے چھوٹ جانے پر سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا واجب ہے، اس لئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا تشہد بھول جانے پر سلام سے پہلے سجدہ سہو کیا تھا جیسا کہ بخاری اور مسلم کی حدیث وارد ہے.

(۲) نمبر دو: جب رکعت کی تعداد بھول جائے اور پتہ نہ ہو کہ کتنی رکعت پڑھا یعنی مشکوک رکعتوں میں ترجیح کی صورت نہ بن پائے تو کم کو بنیاد بنا کے اپنی نماز مکمل کرے، یعنی اگر شک ہو جائے کہ تین رکعت پڑھا ہے یا چار اور دونوں میں سے کسی پر دل مطمئن نہ ہو تو تین مان کر چوتھی رکعت مکمل کرے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے، کیونکہ صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اگر تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور معلوم نہ ہو کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار تو شک سے کنارہ کشی اختیار کرے اور یقین (تین) کو بنیاد بنا کے اپنی نماز مکمل کرے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے.


دو مقام پر سجدہ سہو سلام کے بعد ہوتا ہے:
نمبـــــر ایک: نماز میں کوئی زیادتی واقع ہونے پر، مثلا بھول کر ایک رکعت میں دو رکوع یا تین سجدے کر لے یا بھول کر نماز مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیر دے پھر نماز مکمل کرے وغیرہ جیسی غلطیوں پر سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا واجب ہے، کیونکہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر ظہر یا عصر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لی تو صحابہ کے یاد دلانے پر آپ سجدہ نے (سلام کے بعد) سجدہ سہو کیا اور پھر دوبارہ سلام پھیرا، اسی طرح ایک بار آپ نے بھول کر ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعت کے بعد ہی سلام پھیر دیا جب صحابہ نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو رکعت نماز پڑھ کے سلام پھیر دیا پھر سجدہ سہو کیا اور دوبارہ سلام پھیرا.

نمبـــــر دو: جب نماز کی رکعتوں میں شک ہو جائے لیکن نمازی اس پوزیشن میں ہو کہ کسی ایک عدد کو ترجیح دے سکے، (یعنی کسی ایک پر اس کا دل مطمئن ہو) تو راجح عدد کو بنیاد بنائے اور نماز مکمل کرے، پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور دوبارہ سلام پھیر دے.
یعنی اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار لیکن تین رکعت پر دل مطمئن ہو تو چوتھی رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے، اور دوبارہ سلام پھیر دے. اسی طرح اگر دو اور تین رکعت میں شک ہو جائے اور تین رکعت پر دل مطمئن ہو تو چوتھی رکعت پڑھ کے سلام پھیر دے پھر سجدہ سہو کرے اور دوبارہ سلام پھیر دے، کیونکہ بخاری مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جب تم میں سے کوئی نماز کے اندر شک میں پڑ جائے تو اسے چاہئے کہ صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کرے اور اسی کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرے.

نوٹ: سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا ہو تو التحیات، درود اور درود کے بعد کی دعا سے فارغ ہو کر دو سجدہ کریں اور بلا کچھ پڑھے فوراً سلام پھیر دے، اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا ہو تو صرف دو سجدہ کر کے سلام پھیر دیں پہلے اور بعد میں کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں.

اسحاق سلفی

اسحاق سلفی

فعال رکن
 
رکن انتظامیہ
سجدہ سہو کے اسباب کا بیان


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سوال :

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سجدہ سہو کن اسباب کی وجہ سے کیا جاتا ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نماز میں سجدہ سہو کے عموماً درج ذیل تین اسباب ہیں:

(۱) نماز میں اضافہ کا صدورہوجانا۔

(۲) یا نمازکمی کا وقوع ہو جانا

(۳) یانمازی کاشک میں مبتلا ہو جانا

اضافے کی مثال یہ ہے کہ انسان نماز میں رکوع یا سجدہ یا قیام یا قعدہ کا اضافہ کر دے۔ اور کمی کی مثال یہ ہے کہ نماز کے کسی رکن کو کم کر دے یا واجبات میں کسی واجب کی ادائیگی میں نقص واقع ہوجائے۔ اور شک کی مثال یہ ہے کہ نمازی اس شک میں مبتلا ہو جائے آیا اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر نماز میں رکوع یا سجدہ یا قیام یا قعدہ کا اضافہ کر دے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی کیونکہ اس نے نماز کو اس طرح ادا نہیں کیا جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ)) صحيح مسلم، الاقضية باب نقض الاحکام الباطلة ح:۱۷۱۸، ۱۸۔

’’جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا امر نہ ہو تو وہ مردود ہے۔‘‘

اگر بھول کر اضافہ ہو جائے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوگی، البتہ سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا ہوگا اس کی دلیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ظہر یا عصر کی نماز میںـ ایک بار دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تھا اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر ااور سلام پھیرنے کے بعد دوسجدے کیے۔ صحیح البخاری، الصلاۃ، باب تشبیک الاصابع فی المسجد وغیرہ، حدیث: ۴۸۲۔

اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو عرض کیا گیا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ کیسے؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں کو موڑا، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے۔ صحیح البخاری، الصلاۃ، باب باب ماجاء فی القبلۃ ومن لم یر الاعادۃ… حدیث: ۴۰۴۔

اگر کمی کا تعلق نماز کے ارکان میں سے کسی رکن سے ہو تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

(۱) اسے یہ بات دوسری رکعت میں اس مقام پر پہنچنے سے پہلے یاد آئے تو اس صورت میں لازم ہوگا کہ وہ اس رکن کو ادا کرنے کے بعد باقی نماز کو ادا کرے۔

(۲) اگر اسے یہ بات دوسری رکعت میں اس مقام پر پہنچنے کے وقت یاد آئے تو یہ رکعت اس رکعت کے قائم مقام ہوگی جس میں اس نے رکن کو ترک کر دیا تھا اور اس دوسری رکعت کے بدلے میں اور رکعت پڑھنی چاہیے اور ان دونوں حالتوں میں اسے سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا چاہیے۔

پہلی صورت اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص پہلی رکعت میں پہلے سجدہ کے بعد ہی اٹھ کھڑا ہو اور نہ بیٹھا ہو نہ اس نے دوسرا سجدہ کیا ہو اب جب اس نے قراء ت شروع کی تو اسے یاد آیا کہ اس نے سجدہ نہیں کیا ہے اور نہ وہ دو سجدوں کے درمیان بیٹھا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ لوٹ کر دو سجدوں کے درمیان بیٹھے، پھر سجدہ کرے اور پھر کھڑے ہو کر باقی نماز ادا کرے اور سلام کے بعد سجدئہ سہو کرے۔

دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص پہلی رکعت میں پہلا سجدہ کرنے کے بعد اٹھ کھڑا ہو اور اس نے دوسرا سجدہ نہ کیا ہو اور نہ وہ دونوں سجدوں کے درمیان میں بیٹھا ہو اس کے بعد پھر اسے یہ بات اس وقت یاد آئی ہو۔ جب وہ دوسری رکعت میں دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھا ہو، اس حال میں اس کی یہ دوسری رکعت پہلی رکعت ہوگی اور اسے ایک رکعت اور پڑھنا ہوگی اور پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا ہوگا۔

جب کسی واجب میں کمی رہ جائے اور وہ اس کی جگہ دوسری جگہ منتقل ہو جائے، مثلاً: وہ سجدہ میں ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘ پڑھنا بھول گیا اور سجدے سے سر اٹھانے کے بعد اسے یاد آیا کہ اس نے اسے نہیں پڑھا۔ اس نے بھول کر واجبات نماز میں سے ایک واجب کو ترک کر دیا ہے، تو اسے نماز کو جاری رکھنا چاہیے اور سلام سے قبل سجدہ سہو کر لینا چاہیے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد اول کو بھول گئے تھے تو آپ نے نماز کو جاری رکھا تھا، واپس نہیں آئے تھے اور آپ نے سلام سے پہلے سجدہ سہو کر لیا تھا۔

شک کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی کو کمی اور بیشی میں تردد ہوتا ہے، مثلاً: یہ کہ اسے تردد ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اس کی دو حالتیں ہو سکتی ہیں:

(۱) کمی یا بیشی میں سے کوئی ایک صورت اس کے نزدیک راجح ہو تو جو صورت راجح ہو اسے اختیار کرکے نماز پوری کر لے اور سلام کے بعد سجدہ سہو کر لے اور اگر کوئی ایک صورت راجح نہ ہو تو پھر یقین پر انحصار کرے اور وہ کم تعداد ہے، اس کے بعد باقی نماز کو پورا کرنے کے بعد سلام سے پہلے سجدہ سہو کر لے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ وہ اس شک میں مبتلا ہوگیا کہ وہ تیسری رکعت پڑھ رہا ہے یا چوتھی؟ اسے یہ بات راجح معلوم ہوئی کہ یہ اس کی تیسری رکعت ہے، اس صورت میں وہ ایک رکعت اور پڑھ کر سلام پھیر دے اور پھر سجدہ سہو کر لے۔

دونوں صورتوں میں برابری کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو نماز ظہر ادا کرتے ہوئے یہ شک ہوا کہ یہ اس کی تیسری رکعت ہے یا چوتھی اور اس کے نزدیک یہ بات راجح نہ تھی کہ یہ تیسری رکعت ہے اور نہ ہی یہ بات راجح تھی کہ یہ چوتھی رکعت ہے تو اس صورت میں اسے یقین پر انحصار کرنا ہوگا اور ظاہر ہے کہ وہ کم تعداد ہے، لہٰذا وہ اسے تیسری رکعت قرار دے، پھر ایک رکعت اور پڑھے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ سجدہ سہو قبل از سلام اس وقت ہوگا، جب نمازی واجبات نماز میں سے کسی واجب کو ترک کر دے یا نماز کی رکعات کی تعداد میں اسے شک ہو جائے اور کوئی ایک پہلو اس کے نزدیک راجح نہ ہو۔ اور جب نماز میں اضافہ ہو جائے یا شک کی صورت میں کوئی ایک پہلو اس کے نزدیک راجح ہو تو پھر سجدہ سہو بعد از سلام ہوگا۔
  • سجدہ سہو وشکر وتلاوت
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات 
    مسئلہ سجدہ سہو کا

سوال: کیا سجدہ سہو کبھی سلام سے پہلے اور کبھی سلام کے بعد؟ اور سجدہ سہو کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب: دو مقام پر سجدہ سہو سلام سے پہلے ہوتا ہے:

(۱) نمبر ایک: نماز میں کوئی نقص (کمی) واقع ہو جانے پر،
مثلا: پہلا تشہد بھول جانے پر، رکوع میں "سبحان ربي الاعلی" اور سجدہ میں "سبحان ربي العظیم" بھول جانے پر اسی طرح رکوع سے اٹھتے ہوئے "سمع اللہ لمن حمدہ" بھول جانے پر، یہ اور اس جیسے دوسرے واجبات کے چھوٹ جانے پر سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا واجب ہے، اس لئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا تشہد بھول جانے پر سلام سے پہلے سجدہ سہو کیا تھا جیسا کہ بخاری اور مسلم کی حدیث وارد ہے.

(۲) نمبر دو: جب رکعت کی تعداد بھول جائے اور پتہ نہ ہو کہ کتنی رکعت پڑھا یعنی مشکوک رکعتوں میں ترجیح کی صورت نہ بن پائے تو کم کو بنیاد بنا کے اپنی نماز مکمل کرے، یعنی اگر شک ہو جائے کہ تین رکعت پڑھا ہے یا چار اور دونوں میں سے کسی پر دل مطمئن نہ ہو تو تین مان کر چوتھی رکعت مکمل کرے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے، کیونکہ صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اگر تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور معلوم نہ ہو کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار تو شک سے کنارہ کشی اختیار کرے اور یقین (تین) کو بنیاد بنا کے اپنی نماز مکمل کرے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے.


دو مقام پر سجدہ سہو سلام کے بعد ہوتا ہے:
نمبـــــر ایک: نماز میں کوئی زیادتی واقع ہونے پر، مثلا بھول کر ایک رکعت میں دو رکوع یا تین سجدے کر لے یا بھول کر نماز مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیر دے پھر نماز مکمل کرے وغیرہ جیسی غلطیوں پر سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا واجب ہے، کیونکہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر ظہر یا عصر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لی تو صحابہ کے یاد دلانے پر آپ سجدہ نے (سلام کے بعد) سجدہ سہو کیا اور پھر دوبارہ سلام پھیرا، اسی طرح ایک بار آپ نے بھول کر ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعت کے بعد ہی سلام پھیر دیا جب صحابہ نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو رکعت نماز پڑھ کے سلام پھیر دیا پھر سجدہ سہو کیا اور دوبارہ سلام پھیرا.

نمبـــــر دو: جب نماز کی رکعتوں میں شک ہو جائے لیکن نمازی اس پوزیشن میں ہو کہ کسی ایک عدد کو ترجیح دے سکے، (یعنی کسی ایک پر اس کا دل مطمئن ہو) تو راجح عدد کو بنیاد بنائے اور نماز مکمل کرے، پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کرے اور دوبارہ سلام پھیر دے.
یعنی اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے کہ تین رکعت پڑھی ہے یا چار لیکن تین رکعت پر دل مطمئن ہو تو چوتھی رکعت پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرے، اور دوبارہ سلام پھیر دے. اسی طرح اگر دو اور تین رکعت میں شک ہو جائے اور تین رکعت پر دل مطمئن ہو تو چوتھی رکعت پڑھ کے سلام پھیر دے پھر سجدہ سہو کرے اور دوبارہ سلام پھیر دے، کیونکہ بخاری مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جب تم میں سے کوئی نماز کے اندر شک میں پڑ جائے تو اسے چاہئے کہ صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کرے اور اسی کے مطابق اپنی نماز مکمل کرے اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرے.

نوٹ: سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا ہو تو التحیات، درود اور درود کے بعد کی دعا سے فارغ ہو کر دو سجدہ کریں اور بلا کچھ پڑھے فوراً سلام پھیر دے، اور سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا ہو تو صرف دو سجدہ کر کے سلام پھیر دیں پہلے اور بعد میں کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں.

سجدہ سہو کے اسباب کا بیان


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سوال :

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سجدہ سہو کن اسباب کی وجہ سے کیا جاتا ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نماز میں سجدہ سہو کے عموماً درج ذیل تین اسباب ہیں:

(۱) نماز میں اضافہ کا صدورہوجانا۔

(۲) یا نمازکمی کا وقوع ہو جانا

(۳) یانمازی کاشک میں مبتلا ہو جانا

اضافے کی مثال یہ ہے کہ انسان نماز میں رکوع یا سجدہ یا قیام یا قعدہ کا اضافہ کر دے۔ اور کمی کی مثال یہ ہے کہ نماز کے کسی رکن کو کم کر دے یا واجبات میں کسی واجب کی ادائیگی میں نقص واقع ہوجائے۔ اور شک کی مثال یہ ہے کہ نمازی اس شک میں مبتلا ہو جائے آیا اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر نماز میں رکوع یا سجدہ یا قیام یا قعدہ کا اضافہ کر دے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی کیونکہ اس نے نماز کو اس طرح ادا نہیں کیا جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ)) صحيح مسلم، الاقضية باب نقض الاحکام الباطلة ح:۱۷۱۸، ۱۸۔

’’جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا امر نہ ہو تو وہ مردود ہے۔‘‘

اگر بھول کر اضافہ ہو جائے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوگی، البتہ سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا ہوگا اس کی دلیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ظہر یا عصر کی نماز میںـ ایک بار دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا تھا اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر ااور سلام پھیرنے کے بعد دوسجدے کیے۔ صحیح البخاری، الصلاۃ، باب تشبیک الاصابع فی المسجد وغیرہ، حدیث: ۴۸۲۔

اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو عرض کیا گیا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ کیسے؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں کو موڑا، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے۔ صحیح البخاری، الصلاۃ، باب باب ماجاء فی القبلۃ ومن لم یر الاعادۃ… حدیث: ۴۰۴۔

اگر کمی کا تعلق نماز کے ارکان میں سے کسی رکن سے ہو تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

(۱) اسے یہ بات دوسری رکعت میں اس مقام پر پہنچنے سے پہلے یاد آئے تو اس صورت میں لازم ہوگا کہ وہ اس رکن کو ادا کرنے کے بعد باقی نماز کو ادا کرے۔

(۲) اگر اسے یہ بات دوسری رکعت میں اس مقام پر پہنچنے کے وقت یاد آئے تو یہ رکعت اس رکعت کے قائم مقام ہوگی جس میں اس نے رکن کو ترک کر دیا تھا اور اس دوسری رکعت کے بدلے میں اور رکعت پڑھنی چاہیے اور ان دونوں حالتوں میں اسے سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا چاہیے۔

پہلی صورت اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص پہلی رکعت میں پہلے سجدہ کے بعد ہی اٹھ کھڑا ہو اور نہ بیٹھا ہو نہ اس نے دوسرا سجدہ کیا ہو اب جب اس نے قراء ت شروع کی تو اسے یاد آیا کہ اس نے سجدہ نہیں کیا ہے اور نہ وہ دو سجدوں کے درمیان بیٹھا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ لوٹ کر دو سجدوں کے درمیان بیٹھے، پھر سجدہ کرے اور پھر کھڑے ہو کر باقی نماز ادا کرے اور سلام کے بعد سجدئہ سہو کرے۔

دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص پہلی رکعت میں پہلا سجدہ کرنے کے بعد اٹھ کھڑا ہو اور اس نے دوسرا سجدہ نہ کیا ہو اور نہ وہ دونوں سجدوں کے درمیان میں بیٹھا ہو اس کے بعد پھر اسے یہ بات اس وقت یاد آئی ہو۔ جب وہ دوسری رکعت میں دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھا ہو، اس حال میں اس کی یہ دوسری رکعت پہلی رکعت ہوگی اور اسے ایک رکعت اور پڑھنا ہوگی اور پھر سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا ہوگا۔

جب کسی واجب میں کمی رہ جائے اور وہ اس کی جگہ دوسری جگہ منتقل ہو جائے، مثلاً: وہ سجدہ میں ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی‘‘ پڑھنا بھول گیا اور سجدے سے سر اٹھانے کے بعد اسے یاد آیا کہ اس نے اسے نہیں پڑھا۔ اس نے بھول کر واجبات نماز میں سے ایک واجب کو ترک کر دیا ہے، تو اسے نماز کو جاری رکھنا چاہیے اور سلام سے قبل سجدہ سہو کر لینا چاہیے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد اول کو بھول گئے تھے تو آپ نے نماز کو جاری رکھا تھا، واپس نہیں آئے تھے اور آپ نے سلام سے پہلے سجدہ سہو کر لیا تھا۔

شک کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی کو کمی اور بیشی میں تردد ہوتا ہے، مثلاً: یہ کہ اسے تردد ہو کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اس کی دو حالتیں ہو سکتی ہیں:

(۱) کمی یا بیشی میں سے کوئی ایک صورت اس کے نزدیک راجح ہو تو جو صورت راجح ہو اسے اختیار کرکے نماز پوری کر لے اور سلام کے بعد سجدہ سہو کر لے اور اگر کوئی ایک صورت راجح نہ ہو تو پھر یقین پر انحصار کرے اور وہ کم تعداد ہے، اس کے بعد باقی نماز کو پورا کرنے کے بعد سلام سے پہلے سجدہ سہو کر لے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ وہ اس شک میں مبتلا ہوگیا کہ وہ تیسری رکعت پڑھ رہا ہے یا چوتھی؟ اسے یہ بات راجح معلوم ہوئی کہ یہ اس کی تیسری رکعت ہے، اس صورت میں وہ ایک رکعت اور پڑھ کر سلام پھیر دے اور پھر سجدہ سہو کر لے۔

دونوں صورتوں میں برابری کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو نماز ظہر ادا کرتے ہوئے یہ شک ہوا کہ یہ اس کی تیسری رکعت ہے یا چوتھی اور اس کے نزدیک یہ بات راجح نہ تھی کہ یہ تیسری رکعت ہے اور نہ ہی یہ بات راجح تھی کہ یہ چوتھی رکعت ہے تو اس صورت میں اسے یقین پر انحصار کرنا ہوگا اور ظاہر ہے کہ وہ کم تعداد ہے، لہٰذا وہ اسے تیسری رکعت قرار دے، پھر ایک رکعت اور پڑھے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ سجدہ سہو قبل از سلام اس وقت ہوگا، جب نمازی واجبات نماز میں سے کسی واجب کو ترک کر دے یا نماز کی رکعات کی تعداد میں اسے شک ہو جائے اور کوئی ایک پہلو اس کے نزدیک راجح نہ ہو۔ اور جب نماز میں اضافہ ہو جائے یا شک کی صورت میں کوئی ایک پہلو اس کے نزدیک راجح ہو تو پھر سجدہ سہو بعد از سلام ہوگا۔

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...