ہجرت کے موقع پر قریش نے نہ صرف سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کو مباح قرار دیا بلکہ سو سرخ اونٹوں کی پیش کش بھی کر دی۔ چنانچہ بریدہ اسلمی اسی لالچ میں ستر اسی افراد کو تیار کرتا ہے تاکہ آپ ﷺ کو زندہ یا شہید قریش کے حوالے کر کے سو سرخ اونٹ لے لیے جائے۔ چنانچہ اپنے قبیلہ سے نکل کر’’کراع الغمیم‘‘ کے علاقہ میں رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے۔
جہاں تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کا تعلق ہے تو وہ دعوت دین دینے میں اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ آپ نے اپنے اعلیٰ اخلاق سے لوگوں کے دلوں کو جیتا۔ انھیں نہایت محبت اور پیار سے دعوت دی۔
لوگوں کے سروں پر نہیں دلوں پر حکومت کی، چنانچہ وہ لوگ جو انعام تھے، آپ کے متبع بن گئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرکے جا رہے ہیں۔ کفار قریش نے آپ کا خون مباح قرار دے دیاہے۔ سو سرخ اونٹوں کا انعام کوئی معمولی نہ تھا۔ جرائم پیشہ لوگوں کے لیے تو یہ نہایت خطیر انعام تھا۔ معاذ اللہ ان سے کہا گیا کہ وہ زندہ یا مردہ آپ کو پیش کریں،پھر کتنے تھے جنھوں نے آپ کا پیچھا کیا؟ انعام کے لالچ میں آپ کا پیچھا کرنے والا ایک شخص بریدہ اسلمی بھی تھا۔ یہ اپنی قوم کا سردار تھا۔ ستر ساتھیوں سمیت (کُرَاعُ الْغَمِیم) کے علاقے میں ملتا ہے۔ یہ جگہ مکہ مکرمہ سے کم و بیش 75 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
قریش نے جس بڑے انعام کا اعلان کر رکھا تھا، یہ بھی اس انعام کے لالچ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تلاش میں نکلا تھا۔
جب یہ شخص قافلۂ حق کے قریب ہوا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:’’تم کون ہو؟‘‘ کہنے لگا:میں بریدہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فال نہیں نکالتے تھے مگر بعض الفاظ سے اچھا تفاؤل لے لیا کرتے تھے۔عربی زبان میں برد کے معنی ٹھنڈک کے ہوتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا:(یَاأَبَابَکْرٍ بَرَدَ أَمْرُنَا وَصَلُحَ) ’’ابوبکر! ہمارا کام ٹھنڈا اور درست ہوا۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا:(مِمَّنْ أَنْتَ؟) ’’تمھارا تعلق کس قبیلے سے ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا:قبیلہ اسلم سے ہوں۔اسلم چونکہ سلامتی سے ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ہم سلامت رہے۔‘‘
پھرسوال کیا:’’قبیلہ اسلم کی کس شاخ سے ہو؟‘‘ بریدہ کہنے لگا:بنو سہم سے۔سہم کے معنی حصہ کے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’تیرا حصہ نکل آیا، یعنی تجھ کو اسلام سے حصہ ملے گا۔‘‘
اب بریدہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:آپ کون ہیں؟
ارشاد فرمایا:’’محمد بن عبداللہ، اللہ کا رسول ہوں۔‘‘اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناتعارف کرایا تو بریدہ نہایت متأثر ہوا اور اپنی قوم کے ستر یا اَسّی آدمیوں سمیت مسلمان ہو گیا۔
قارئین کرام! اب دیکھیے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سفر کی حالت میں ہیں مگر اس عالم میں بھی آپ اپنے اخلاق کی بدولت ایک اہم شخص کو ا س کی قوم سمیت مسلمان بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ شخص نہ صرف مسلمان ہوتا ہے بلکہ اس نے خوشی سے اپنی پگڑی اتار کر نیزے سے باندھ لی جس کا سفید پھریرا ہوا میں لہراتا اور بشارت سناتا ہوا آپ کے آگے آگے چل رہا تھااور کہہ رہاتھا:لوگو! امن کا بادشاہ، صلح کا حامی، دنیا کو عدالت و انصاف سے بھرپور کرنے والا تشریف لا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس سفر مدینہ کی طرف جاری و ساری ہے۔ آپ راستے میں بھی دعوت و تبلیغ کا کام کرتے جا رہے ہیں۔،
، أسدالغابۃ:369-367/1، والرحیق المختوم:190،
السیرۃ النبویۃ لمہدي رزق اللّٰہ:283، 284، ووفاء الوفاء للسمہودي:243/1۔
مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو قبیلہ بنو اسلم کے دو چوروں سے ملاقات ہوئی۔ لوگ ان کو ذلیل پیشے کی بدولت ’’مہانان‘‘ بدنام زمانہ، ذلیل آدمی کہتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو دونوں نے اسلام قبول کر لیا۔ جب آپ نے ان کے نام دریافت کیے تو کہنے لگے:ہمارا نام تو ’’مہانان‘‘ ہے، یعنی ہم ذلیل لوگ ہیں کہ لوگوں کو لوٹتے ہیں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق کو ملاحظہ کیجیے، آپ نے ان کو ملامت کرنے کے بجائے فرمایا:’’تم ذلیل نہیں۔‘‘ (بَلْ أَنْتُمَا الْمُکْرَمَانِ) ’’بلکہ تمھارا نام مکرمان یعنی عزت والے ہے۔‘‘
آپ نے ان کو مدینہ شریف آنے کی دعوت دی۔،
، مسند أحمد:74/4، والسیرۃ النبویۃ للصلابي:465/1، 466۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاکوؤں، چوروں اوررسہ گیروں کے دلوں کو حسن تعامل کے ساتھ جیتا۔ ان کے گزشتہ غلط کاموں پر نکیر کرنے کے بجائے ان کو عزت اور احترام دیا تو انھوں نے قافلوں کو لوٹنے کے بجائے ان کی پاسبانی کے فرائض سرانجام دینے شروع کر دیے۔
