ایک مرتبہ وہ یہودی لڑکا بیمار ہوگیا اورکئی روز تک آپ کی خدمت کے لیے نہ آسکا۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا کہ وہ لڑکا جو صبح و شام آپ کی خدمت میں حاضر ہوتاتھا، چند دنوں سے نظر نہیں آرہا۔ اس کے بارے میں معلوم کروایا کہ وہ کہاں ہے؟ آپ کو بتایا گیا:وہ تو بیمار ہے، اپنے گھر میں بستر پر ہے۔ کائنات کی مصروف ترین ہستی کو جب معلوم ہوا کہ ان کا چھوٹا سا خادم بیمار ہے تو اس کے یہودی ہونے کے باوجود تیمار داری کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر تشریف لے جاتے ہیں۔یہ سنہری حدیث جسے میں آپ سے بیان کرنے جا رہا ہوں، آپ اس میں بڑا خوبصورت واقعہ پڑھیں گے، اس کے راوی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ اسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح البخاري میں روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کے گھر پہنچے تو اس یہودی لڑکے کا باپ بھی گھر میں موجود تھا ۔ اس بچے کی خوش قسمتی کے کیا کہنے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تیمار داری کے لیے تشریف لائے ہیں۔ یہ چارپائی پر لیٹا ہوا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں۔ اسے شفقت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اس کا حال پوچھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوگیا کہ اس بچے کاآخری وقت آ چکا ہے۔ اس پر نزع کا عالم طاری ہے۔ ذرا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لوگوں سے محبت اور خیر خواہی ملاحظہ کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ لڑکا دنیا سے جا رہا ہے ۔ ہو سکے تو اسے عذاب جہنم سے بچانے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ ا س کی زندگی کا چراغ گل ہونے سے قبل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کو مخاطب کیا اور فرمایا:(یَا فُلاَنُ قُلْ:لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰهُ) ’’اے بچے! لا الہ الا اللّٰه کہہ دو۔اس لڑکے نے جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو آنکھیں کھول کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ انور کو دیکھا۔ آپ اس سے فرما رہے ہیں:کہو:(أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّي رَسُولُ اللّٰہِ)اس لڑکے نے اپنی کروٹ بدلی، اپنے چہرے کو اپنے قریب کھڑے والد کی طرف کیااور سوالیہ نظروں سے والد کی طرف دیکھنے لگا۔ اجازت طلب کر نے لگا۔ اس کا باپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لایا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ یہ سچے نبی ہیں۔ اپنے بیٹے سے کہنے لگا:(أَطِعْ أبَاالْقَاسِمِ) ’’ابوالقاسم کی بات مان لو۔‘‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کہہ رہے ہیں اس پر عمل کرو۔ اس کے باپ نے جیسے ہی اجازت دی ، اس لڑکے کے ہونٹوں سے آواز آنے لگی:(أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ) ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘اِدھر اس کی زبان سے یہ کلمات نکلے اور اُدھر اس کی زندگی کے بقیہ لمحات تیزی سے ختم ہونے لگے۔ اس نے چند آخری سانسیں لیں اور اس دار فانی سے رخصت ہو گیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر سے باہر تشریف لائے۔ آپ مطمئن ہیں، آپ اللہ کاشکر، اللہ کی حمد اور تعریف بیان کر رہے ہیں، فرماتے ہیں:(اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِي أَنْقَذَہٗ بِي مِنَ النَّارِ) ’’اُس اللہ کا شکر ہے جس نے میری و جہ سے اس لڑکے کو جہنم کی آگ سے بچالیا ہے۔‘‘، ، صحیح البخاري، حدیث:1356، و سنن أبي داود، حدیث:3095، و مسند أحمد:260/3، و سنن النسائی الکبریٰ:356/4، 55/7۔قارئین کرام! اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں، ذرا غور کیجیے کہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کتنے اعلیٰ اخلاق والے تھے، آپ کتنے رحیم اور مشفق تھے کہ آپ مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ کافروں اور یہودیوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے والے تھے۔ بدر کے قیدی آئے تو حکم دیا کہ ان کو اچھا کھانا کھلانا ہے۔ اگر مریض ہے تو اس کی تیمار داری کر رہے ہیں اور انسانیت کی فلاح اور اس کی عزت و احترام اس حد تک ہے کہ آپ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو آپ جنازے کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ صحابی عرض کرتے ہیں:اللہ کے رسول! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے۔ محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:(أَلَیْسَتْ نَفْسًا) ’’کیا یہ انسان نہیں؟‘‘، اور ایک دوسری حدیث کے مطابق اس وقت تک کھڑے رہے جب تک جنازہ نگاہوں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔ ، صحیح البخاري، حدیث:1312، و صحیح مسلم، حدیث:961۔یہودی لڑکا آپ کا خادم تھا۔ وہ کوئی امیر کبیر شخص نہ تھا اور نہ ہی کسی قبیلے کاسردار تھا۔ آپ کائنات کے باسیوں کو، پوری نوع انسانی کوعملی سبق دینا چاہتے ہیں کہ اسلام میں اخلاق کس کو کہا جاتا ہے۔ اگر چھوٹا آدمی بھی بیمار ہو تو اس کی تیمار داری کرنی چاہیے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے فرما رہے ہیں:(صَلُّوا عَلٰی أَخِیکُمْ) ’’اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو۔‘‘ یہ مسلمان ہے۔ اس کو آپ جنت کی بشارت پہلے ہی دے چکے ہیں:’’اس اللہ کاشکر ہے کہ جس نے میری و جہ سے اسے جہنم سے بچا لیا۔‘‘، ، سنن الکبریٰ للنسائي:356/4، والمستدرک للحاکم:363/1۔قارئین کرام! یہ ہمارے پیارے نبی او ررسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو لوگوں کو جہنم سے بچا کر بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں، لیکن اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے ہیں تو آپ کی جو کیفیت ہے اسے سورئہ کہف آیت نمبر 6 میں پڑھ لیجیے:﴿ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ﴾’’آپ شاید ان کافروں کے پیچھے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے اس غم سے کہ یہ لوگ اس قرآن پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔‘‘، ‘‘
Friday, September 8, 2023
ایک یہودی لڑکا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا
الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نہ صرف مسلمانوں پر شفیق اور مہربان تھے بلکہ جو آپ پر ایمان نہیں لائے تھے، ان کے ساتھ بھی عمدہ سلوک کرتے تھے۔ ایک یہودی لڑکاجس کا گھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے قریب ہی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ آپ کے چھوٹے چھوٹے کام کرتا۔ آپ کے لیے وضو کا پانی لے آتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر یا مسجد میں جانے لگتے تو آپ کے نعلین مبارک سامنے رکھ دیتا۔ کسی کو پیغام دینا ہو تایا کسی کو کوئی چیز دینی یا لینی ہوتی تو یہ بھاگ کر جاتا اور آپ کا کام کر آتا۔اس لڑکے کے نام کی وضاحت روایات میں نہیں آئی اور اس کا نام معلوم نہ ہونے سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔
رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...
-
Rahima رضي الله عنها ( Wife of Ayub عليه السلام) Rahima رضي الله عنها was the wife of Ayub . She is said to be from the offspring of Yusuf...
-
دنیا کی سزا : والدین کے نافرمان کے لئے *بلاشبہ تمام تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں ۔ہم اسی کی حمد بيان کرتے ہیں اور اُسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور...
-
الحجرات آية ۱۲ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّۖ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَ...
