Saturday, January 27, 2024
کہا جاتا ہے رجب کے کونڈے اندر ہی اندر پکتے اور تیار کئے جاتے ہیں ، انہیں اندر ہی کھایا جاتا ہے ، اس مخصوص حلوے کو چھت کے نیچے تیار کیا جاتا ہے اور چھت کے نیچے ہی کھایا جاتا ہے ، اسے باہر نہیں لے جایا جاسکتا۔ یہ بات محض اس حد تک تو بہر حال معقول ہے کہ ایسی چیزیں چھت سے باہر لے جاکر نہیں کھائی جاتیں بلکہ یہ’’ اندر کی چیز ‘‘ہے ، اسے اندر ہی رہنا چاہیئے ، باہر تو وہی چیز لائی جا سکتی ہے جو مذہبی ، اخلاقی، طبعی اور معاشرتی ہر اعتبار سے جائز اور ناقابلِ اعتراض ہو جبکہ یہاں کم از کم دینی و مذہبی اعتبار سے معاملہ اِسکے بر عکس ہے کیونکہ کونڈوں کا آغاز کسی شرعی دلیل پر نہیں ہوا بلکہ یہ تو محض ایک قصے یا افسانے میں ظہور پذیر ہوئے ہیں ، قرآن و سنت اور سلفِ امت کے یہاں یہ مروّجہ فعل ثابت نہیں ۔
رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...
-
Rahima رضي الله عنها ( Wife of Ayub عليه السلام) Rahima رضي الله عنها was the wife of Ayub . She is said to be from the offspring of Yusuf...
-
دنیا کی سزا : والدین کے نافرمان کے لئے *بلاشبہ تمام تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں ۔ہم اسی کی حمد بيان کرتے ہیں اور اُسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور...
-
الحجرات آية ۱۲ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّۖ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَ...