Saturday, January 27, 2024

 پیغمبر اسلام امت کے مرتد ہونے سے خوف زدہ تھے.

١۔ قرآن کریم کی آیتیں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام اپنی زندگی میں اسلامی معاشرہ کے مستقبل کے لئے بہت فکر مند تھے، اور مسلسل ناخوشگوار واقعات دیکھنے کے بعد اس احتمال نے انھیں زیادہ سوچنے پر مجبور کردیاتھا کہ کہیں کچھ لوگ ہمارے بعد اپنے جاہلیت کے ماحول کو پھر سے اختیار کرلیں اور سنت الہی کو بھول جائیں۔
یہ خیال اس وقت اور محکم ہوگیاجب جنگ احد میں پیغمبر کے مرنے کی خبر پھیلا کر لوگ میدان جنگ سے فرار ہوگئے اور پیغمبر نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اکثر مسلمانوں نے راہ فرار اختیار کرلی. اور پہاڑوں اور دوسرے مقامات پر پناہ لے لی اور بعض افراد نے چاہا کہ منافقوں کے سردار (عبد اللہ ابن ابی) سے بات کرکے ابوسفیان سے امان نامہ لے لیں. اور ان کا ایمان و عقیدہ اتنا پستی کی طرف آگیا کہ خداوند عالم کے متعلق بدگمانی کرنے لگے اورغلط فکریں کرنے لگے. قرآن مجید نے اس راز کا پردہ فاش کردیا (ارشاد قدرت ہے)
(طَائِفَة قَدْ َہَمَّتْہُمْ َنْفُسُہُمْ یَظُنُّونَ بِاﷲِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِیَّةِ یَقُولُونَ ہَلْ لَنَا مِنْ الَْمْرِ مِنْ شَیْئٍ )(١)
اور ایک گروہ جن کو اس وقت بھی (بھاگنے کی شرم سے) جان کے لالے پڑے تھے خدا کے ساتھ (خواہ مخواہ) زمانہ جاہلیت کی ایسی بدگمانیاں کرنے لگے (اور) کہنے لگے بھلا کیا یہ امر (فتح) کچھ بھی ہمارے اختیار میں ہے۔
قرآن کریم نے دوسری آیت میں پیغمبر کی رحلت کے بعد صحابہ کے درمیان اختلاف و کشیدگی کی بھی خبر دی ہے ارشاد قدرت ہوتا ہے: (وَمَا مُحَمَّد ِلاَّ رَسُول قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ َفَِیْن مَاتَ َوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی َعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَنْقَلِبْ عَلَی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَضُرَّ اﷲَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اﷲُ الشَّاکِرِینَ )(٢)
اور محمد ۖ تو صرف رسول ہیں ان سے پہلے اور بھی بہت سے پیغمبر گزر چکے ہیں پھر کیا اگر محمد ۖاپنی موت سے مرجائیں یا مار ڈالے جائیں تو تم الٹے پاؤں (اپنے کفر کی طرف) پلٹ جاؤ گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا (بھی) تو (سمجھ لو) ہرگز خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑے گا اور عنقریب خدا شکر کرنے والوں کو اچھا بدلہ دے گا۔
یہ آیت پیغمبر کے اصحاب کے دو گروہوں میں تقسیم ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے (ایک ''عصر جاہلیت کی طرف واپس جانا، دوسرے'' ثابت قدم اور شکر گذار ہونا) کہ پیغمبر کی رحلت کے بعد ممکن ہے مسلمان اختلاف اور گروہوں میں تقسیم ہو جائیں۔
٢۔ سقیفۂ بنی ساعدہ میں موجود افراد کا اگر جائز لیا جائے تو بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ اس دن کس طرح سے ایک دوسرے کے رازوں کا پردہ فاش ہو رہا تھا . اورایک بار پھر قومی اور خونی تعصب اور جاہلیت کی فکریں پیغمبر کے صحابہ کی زبانی زندہ ہوگئیں تھیں، اور یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ ابھی مکمل طور پر اسلامی تربیت ان کے اندر نفود نہیں ہوئی ہے اور اسلام وایمان صرف ان کے جاہلیت کے چہرے پر پڑا ہے۔
اس تاریخی واقعہ کی تحقیق کرنے کے بعد یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ سقیفہ میں جمع
______________________
(١) سورۂ آل عمران آیت ١٥٣
(٢) سورۂ آل عمران آیت ١٤٤
ہونے کا ہدف اور ان تقریروں اور لڑائیوں کا مقصد ذاتی مفاد کے علاوہ کچھ نہ تھا، اور ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ خلافت کے لباس کو خود پہن لے جب کہ حق یہ تھا کہ امت کی بہترین فرد اس خلافت کے لباس کو پہنے ،اور جو چیز اس مجمع یا انجمن سقیفہ میں بیان نہیں ہوئی تھی وہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت اور مفاد کا تذکرہ اور خلافت کوایسے شخص کے سپرد کرنا جو اپنی ذہانت و عقلمندی علم و دانش اور بہترین اخلاقی و معنوی روح کے ذریعے اسلام کی کشتی کو نجات کے ساحل تک پہونچاناتھا۔
ایسے حالات میںجب کہ اسلامی عقیدہ لوگوں کے دلوںمیں رسوخ نہیں کیا تھا اور جاہلیت کی رسم و عادت او رپیروی ان کے ذہنوں سے نہیں نکلی تھی اور ہر طرح کی خانہ جنگی، گروہ بندی، معاشرے کو بکھیر دینے اور بہت زیادہ افراد کے بت پرستی اور شرک کی طرف جانے کا امکان تھا۔
٣۔ان تمام چیزوں سے واضح و روشن حضرت علی علیہ السلام کی وہ گفتگو ہے جو آپ نے سقیفہ کے واقع ہونے سے پہلے کی تھی آپ نے اپنی گفتگو میں اتحاد اسلامی کی اہمیت اوراختلاف و تفرقہ کے برے انجام کی طرف اشارہ کیا ہے مثلاً جب ابوسفیان نے چاہا کہ حضرت علی کو بیعت لینے کے لئے راضی کرے اور اس کے ذریعے اپنے بدترین مقاصد کو عملی جامہ پہنائے تواس وقت امام نے مجمع کی طرف رخ کر کے فرمایا:
''فتنہ و فساد کی موجوں کو نجات کی کشتی سے توڑ دو اور تفرقہ و اختلاف سے پرہیز کرو اور فخر و مباہات ، تکبر و غرور کو دل سے نکال دو. اگر میں کچھ کہوں تو لوگ کہیں گے کہ حکومت کے لالچی ہیں اور اگر خاموشی سے بیٹھ جاؤں تو لوگ کہتے ہیں کہ موت سے ڈرتے ہیں. خدا کی قسم ابوطالب کے بیٹے کے نزدیک موت سے مانوس ہونا ماں کے پستان سے مانوس ہونے سے زیادہ بہتر ہے، اگر علم و آگاہی کے بعد خاموشی اختیار کریں تو گویا ہم بھی انھیں میں سے ہوگئے اور اگر تم بھی ہماری طرح ان چیزوںسے باخبرہوتے توتم بھی گہرے کنویںمیںڈالی ہوئی رسی کی طرح پریشان ولرزاں ہوتے۔''(١)
جس علم و آگاہی کے متعلق آپ گفتگو کر رہے تھے وہ اختلاف و تفرقہ کا وحشتناک نتیجہ تھا آپ جانتے تھے کہ خلافت کے لئے قیام یا خانہ جنگی کا ہوناا سلام کے مٹ جانے اورلوگوں کا جاہلیت کے
______________________
(١) نہج البلاغہ خطبہ ٥
عقیدے پر واپس ہو جانے کا باعث تھا۔
٤۔ جس وقت پیغمبر کے انتقال کی خبر نو مسلم قبیلوں کے درمیان منتشر ہوئی اسی وقت ایکگروہ اپنے بزرگوں کے مذہب کی طرف واپس جانے کے لئے تیار ہوگیا اور مرکزی حکومت کی مخالفت کے لئے آمادہ ہوگیا اور جزیہ دینے سے انکار کردیا. سب سے پہلے جو کام مرکزی حکومت نے انجام دیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ جو جنگ کے لئے آمادہ تھا ان کو تیار کیا تاکہ دوبارہ مرکزی حکومت کی اطاعت اور اسلامی قوانین سے انکار نہ کیا جا سکے. اور اس کے نتیجہ میں دوسرے قبیلے والوں کے ذہنوں سے اپنے اپنے مذہب کی طرف واپس جانے کا خیال ہمیشہ کے لئے نکل جائے گا۔
بعض قبیلوں کے مذہب اسلام سے پھر جانے کے علاوہ، یمامہ میں ایک اور فتنہ برپا ہوگیا اور وہ نبوت کا دعوی کرنے والے افراد تھے مثلاً مسیلمہ و سجاح و طلیحہ وغیرہ۔
ایسے حالات میں جب مہاجرین و انصار کے درمیان اتحاد کا خاتمہ ہوچکا تھااوراطراف کے قبیلے والے اپنے پرانے مذہب کی طرف جانے پر آمادہ تھے ،نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے نجد، اور یمامہ میں کھڑے ہوگئے ،ایسے ماحول میں امام کے لئے مناسب نہیں تھا کہ آپ بھی ایک اور محاذ قائم کرتے اوراپنے حق کے لئے قیام کرتے، امام اس خط میں جو آپ نے مصر کے لوگوںکے نام لکھا تھا اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
خدا کی قسم، میںنے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ عرب خلافت کو پیغمبر کے خاندان سے لے لیں گے یاہمیں اس کے لینے سے روک دیں گے مگر ہوا وہی، دیکھتے ہی دیکھتے لوگ فلاں شخص کی بیعت کے لئے ٹوٹ پڑے. یہ دیکھ کر میں نے اپنا ہاتھ روک لیا یہاں تک کہ میںنے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پھرنے والے اسلام سے پھر گئے اورحضرت رسول خدا کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ اسلام میں کوئی رخنہ یا خرابی دیکھتے ہوئے بھی اگر ہم نے اسلام اوراہل اسلام کی نصرت نہ کی تو (اس کوتاہی کی وجہ سے) میرے سر پر وہ مصیبت آپڑے گی جو تمہاری حکومت میرے ہاتھ سے نکل جانے (کی مصیبت) سے بھی بڑی ہوگی (وہ حکومت) جو حقیقت میں چند دنوں سے زیادہ نہیںہے اور اس کی بودوباش اسی طرح نابود ہوجائے گی جس طرح سراب نابود ہوجاتاہے، یا جیسے بادل چھنٹ جاتا ہے، غرض ان بدعتوں (کے ہجوم) میں ، میں اٹھ کھڑا ہوا یہاں تک کہ باطل کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ نیست و نابود ہوگیا اوردین کو اطمیان نصیب ہوا اور تباہی سے بچ گیا۔(١)
عثمان کی خلافت کے آغاز میں اس شوریٰ نے جو خلافت کے تعیین کے لئے بنائی گئی تھی جب عثمان کے حق میں رائے دیا اس وقت امام علیہ السلام اس شوریٰ کے عہدہ داروں سے مخاطب ہوئے اور کہا:
''تم خوب جانتے ہو کہ میں منصب خلافت کا تم سب سے زیادہ حقدار ہوں لیکن جب تک مسلمانوں کے امور کا نظم و نسق درست رہے گامیں خلافت سے کنارہ کشی کر سکتا ہوں اگرچہ میرے اوپر ظلم و ستم ہوتا رہے اور اگر میں خاموشی سے کام لوں تو صرف اس بنا پر کہ خدا کے نزدیک میرا اجر و ثواب ملتا رہے گا۔(٢)
ابن ابی الحدید کہتے ہیں:
جب علی ـ کو لوگوں نے خلافت سے معزول کردیاتوآپ نے مکمل خاموشی اختیار کرلی . ایک دن آپ کی محترم و باعظمت بیوی فاطمہ زہرا نے انھیں اپنے حق کو واپس لینے کے لئے قیام و تحریک کی خاطر متوجہ کیا تواسی وقت مؤذن کی آواز ''اشہد ان محمداً رسول اللہ'' بلند ہوئی آپ نے حضرت زہرا کی طرف رخ کر کے کہا: کیا تم پسند کرو گی کہ زمین پر سے یہ آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائے؟ فاطمہ (س) نے کہا: ہرگز نہیں. امام نے فرمایا: یہی بہترین راستہ ہے جسے میں نے اختیار کیاہے۔(٣)
اس موضوع کی اہمیت کے مد نظر اس سلسلے میں کچھ مزیدبحث کریں گے تاکہ امام کے مسلحانہ قیام کے نتائج کی صحیح سندوں کے ساتھ تحقیق کرسکیں۔
______________________
(١) نہج البلاغہ عبدہ، نامہ ٦٢
(٢) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ا٧
(٣) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج١١ ص ١١٣

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...