ستر کہاں سے کہاں تک ہے
١- بہت سارى احاديث ميں آيا ہے كہ مرد كا ستر گھٹنے اور ناف كے درميان ہے، اور گھٹنا اور ناف ستر ميں شامل نہيں.
1 - ابو داود اور ابن ماجہ رحمہما اللہ نے على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اپنى ران ننگى مت كرو، اور نہ ہى تم كسى زندہ يا مردہ كى ران ديكھو "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 3140 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1460 ).
.
2 - امام احمد نے محمد بن جحش رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم معمر كے پاس سے گزرے تو معمر كى رانيں ننگى تھيں اور ميں بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ تھا، چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:
" اے معمر اپنى رانيں ڈھانپ لو، كيونكہ رانيں ستر ميں شامل ہيں "
مسند احمد حديث نمبر ( 21989 )
.
3 - احمد ابو داود اور ترمذى نے جرھد ب اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم جرھد كے پاس سے گزرے تو ا نكى ران ننگى تھى، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" كيا تمہيں معلوم نہيں كہ ران ستر ميں شامل ہے ؟ "
مسند احمد حديث نمبر ( 15502 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 4014 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 2798 )
.
4 - امام ترمذى نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" ران ستر ميں شامل ہے "
سنن ترمذى حديث نمبر ( 2798 )
نماز میں ستر (لازمی لباس جو پردہ کرے)
پچھلے کچھ عرصہ سے مسجد میں نوجوانوں میں ستر کے ننگا ھونے کی شکایات بھی ملی ھیں اور بذات خود بھی مشاہدہ میں یہ بات آئی ھے کہ شرٹ چھوٹی ھونے اور پینٹ ناف سے کافی نیچے کرکے پہننے کی وجہ سے پیٹھ کا کچھ حصہ ننگا ھو جاتا ھے،
خصوصاً جب سجدہ کیا جاتا ھے تو پیٹھ یا پشت کافی زیادہ ننگی ھو جاتی ھے،
.
بقول اقبالؒ
وضع میں تم ہو نصارٰی تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہود
.
مرد اپنے لباس کو ٹخنے سے نیچے نہ کریں:
مر د کا اپنے لباس کو ٹخنے سے نیچے گرانا سخت گناہ ہے ، اس حوالے سے بیشمار صحیح حدیثیں سے موجود ہیں جن میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔
ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا
''جو کپڑا ٹخنے سے نیچے ہو جہنم میں لے جائے گا''(صحیح بخاری) ۔
ایک اورحدیث میں ہے کہ
'' ایک صحابی آپ ﷺ کے سامنے نماز ادا کرکے حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں اپنی نماز دہرانے کا حکم دیا، نماز دہرانے کے بعد صحابی دوبارہ حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے نماز دہرانے کے متعلق سوال کیا آپ ﷺ نے جواب دیا کہ تمہارا لباس تمہارے ٹخنے سے نیچے تھا اسلیئے تمہاری نماز نہیں ہوئی تھی'' (ابوداود)۔
آج کل بعض لوگ تواترکے ساتھ یہ غلط فہمیاں پھلا رہے ہیں کہ اسلام میں کپڑے خاص طور پر پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر کرنے کے لئے نیچے سے اوپر کی طرف فولڈ کرنا منع ہے۔ ایسی بات بالکل من گھڑت ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں ، صحیح حدیثوں کے ذخائر میں ایسی کوئی بات ہم تک نہیں پہنچی۔
.
مرد اور عورت کے لیے نماز کا لباس
نماز کی حالت میں مرد کا قابل ستر حصہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے ،البتہ ایک حدیث کی رو سے اس کے کندھوں پر بھی لباس کا کچھ ہونا ضروری ہے۔ان شرائط پر پورا اُترنے والا لباس مرد کی نماز کے لیے کافی ہے ،تاہم افضل یہ ہے کہ نماز کی حالت میں بھی اس کا لباس زینت کے مفہوم کو پورا کرنے والاہو،جیسا کہ آیت ()(سورۃ الاعراف،آیت 31)کا مفاد ہے۔اور عورت کے لیے ضروری ہے کہ نماز کی حالت میں اس کے سر پر چادر یا موٹا دوپٹہ ہو،یعنی عورت ننگے سر نماز نہیں پڑھ سکتی ،جب کہ مرد پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح مکمل پردے میں نماز پڑھے گی، تاہم نماز کی حالت میں اس کے لیے ہاتھ پیروں کو چھپانا اور چہرے کو چھپانا ضروری نہیں۔وہ ننگے چہرے اور ننگے ہاتھ پیروں کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہے۔
***************************************************************
.
نماز کیلئے ہر وہ لباس شرعى ہے جو چہرہ اور ہاتھوں كے علاوہ باقى سارے جسم كے ليے ساتر اور ڈھیلا ڈھالا ہو، اور جسم كے كسى عضو كو نمایاں نہ كرتا ہو۔
نماز کیلئے سارے بدن كو ڈھانپنے والے لباس كى شرط ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ جب ان سے دريافت كيا گيا كہ عورت كس لباس ميں نماز ادا كرے تو انہوں نے جواب ديا: " عورت كو نماز دوپٹے اور ایسے لباس میں ادا كرنى چاہيے جس ميں اس كے پاؤں كا اوپر والا حصہ بھى چھپ جائے " سنن ابو داود 639 )
.
اور پھر رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" اللہ تعالى بالغ عورت كى نماز اوڑھنى كے بغير قبول نہيں فرماتا "
سنن ابو داود 641 ) ،سنن ترمذى 377 ) ،سنن ابن ماجہ 655 ) ، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع 7747 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے۔
. اللہ تعالی نے بنی نوح انسان کو اپنا خلیفہ بناکر اس دنیا میں بھیجا اور اس کی تن پوشی کے لئے لباس کو پسند فرمایا کیونکہ عریانیت اللہ کے یہاں انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ ہمارے ماں باپ حضرت بی بی حوا اور حضرت آدم علیہ سلام بھی بلاشبہ حیادار تھے۔ جب ابلیس کے جال میں پھنس جانے کی وجہ سے ان کے جسم سے جنت کا لباس اتر گیا، تو وہ بہشت کے درختوں سے پتے توڑ توڑکر کر اپنے جسم کو چھپانے لگے اور اللہ تعالی سے دعا کرنے لگے کہ اے اللہ ہم سے خطا ہوگئی ؟''ہمیں معاف فرما''۔
ارشادباری تعالی ہے
''اے اولاد آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہاری ستر ڈھانکے اور تمہارے بدن کو زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے''(سورہ الاعراف:۲۶)۔
''اے اولاد آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکاکر جنت سے نکلوادیا اور ان سے ان کے کپڑے اتار وادئے تاکہ ان کے ستر کھول کر دکھادے وہ اور اس کالشکر تم سب کو ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم ان سب کو نہیں دیکھ سکتے'' (سورہ الاعراف:۲۷)۔
دوسری طرف ابلیس اور اسکے لشکر کو برہنگی، عریانیت اور بے حیائی بہت پسند ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ وہ ام الخبائث ہے جو کئی اور برائیوں کی نشو نما کرتی اور انہیں پالتی پوستی ہے۔ شیطان نے اس لئے سب سے پہلے انسان کے لباس پر حملہ کیا۔ آج بھی اس کا لشکر عریانیت پھلانے میں سرگرم ہے۔ کہیں عورت کو آزادی نسواں کا پرفریب نعرہ دیا اور اسے نقد جنس بناکر بازار میں لاکھڑا کردیا، کہیں برہندگی کو فطرت کا نام دے دیا، کہیں فیشن اور جدت کے نام پر انسان کوایسی مادر پدرآزادی دی کہ اسے اشرف المخلوقات کہ مقام سے گرا کر حیوانیت کے درجے پر لاکھڑا کیا، تو کہیں اسے احساس کمتری کی پاتال میں ایسا گرایا کہ وہ خود اپنی تہذیب سے متنفر اور بیزار ہوکر ابلیس کا تر نوالہ بن گیا. افسوس کہ مسلمان جنہیں تمام اقوام عالم کے لئے شرافت، شرم و حیا اور پاکیزگی کی مثال اور نمونہ ہونا چاہئے تھا بھی رسول ہاشمیﷺ کی ترکیب سے ہٹ کر روشن خیالی کے نام پر اس ابلسی تہذیب کو اپنے لئے باعث فخر و افتخار سمجھنے لگے ہیں اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے لباس کو تنگ نظری، قدامت پرستی اور تہذہب کہن قرار دیتے ہیں۔ انکی اس خام خیالی کے مطابق مرد کی کھلی ہوئی پنڈلیاں، سر کی ٹوپی اور پجامہ عصر حاضر کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی. کوئی انسے پوچھے عصر حاضر کے تقاضے کیا ہیں تو مغرب کی شرم و حیا، اخلاق، روحانیت اور پاکیزگی سے عاری معاشرے کی تصویر آپکے سامنے رکھ دیں گے.عورت کے حجاب بھی انکے لئے باعث شرمندگی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے کیونکہ نیم برہنہ عورت کے بغیر انکی روشن خیال (خام خیالی) کا تصور ناممکن ہے.
بقول اقبالؒ
وضع میں تم ہو نصارٰی تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہود
اللہ تعالی نے ہمیں شیطان کے فریب سے بچنے کی بار بار ہدایت کی ہے لیکن جن کے قلوب شیطان کی طرف راغب ہیں وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی ہدایت اور انکی عظیم سنتوں کے باوجود برہنگی اور بدتہذیبی کو بطور فیشن، اقوام عالم میں قبولیت کی سند اور عصر حاضر کے تقاضے سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں،
بقول علامہ اقبالؒ
روش مغرب ہے مدنظر وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
لباس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ یہ انسان کو دوسروں کی نظروں میں بے پردہ ہونے سے بچاتا ہے لیکن وہ لباس جو اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے، یا دوسروں پر برتری حاصل کرنے کے لئے یا کسی قوم کی مشابہت حاصل کرنے کے لیئے پہنا جائے قیامت کے روز وہ تمام حقائق سمجھا دیگا جو دنیا کی محبت میں پڑ کر سمجھ نہیں آتی۔
لباس کی کوئی خاص شکل یا ہیت شریعت مطہرہ نے متعین نہیں کی کہ فلاں لباس، فلاں ڈیزائن کا اور فلا چیز سے بنے ہوئے کپڑے کا استعمال کریں، ہر مقام، ماحول کی ضروریات، ثقافت اور روایات کے مطابق شرعی اصولوں کی روشنی میں تقویٰ کا لباس مسلمان خود اختیار کرلیتے ہیں البتہ کچھ حدود ایسی ضرور مقرر کی ہیں کہ ان کہ خلاف جانا ممنوع ہے اور ان حدود میں رہتے ہوئے آدمی جو وضع چاہے اختیار کرسکتا ہے۔ وہ حدود مندرجہ ذیل ہیں۔
لباس اتنا چھوٹا ،باریک یا چست نہ ہوکہ وہ اعضاء جسم ظاہر ہوجائیں جن کا چھپانا واجب ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
''اے اولاد آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارے ستر ڈھانکے '' (الااعراف : ۲۶)
(1) لباس ایسا ہونا چاہیے جو پورے بدن خاص طور پرستر کو ڈھانپے، یاد رہے مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک اورعورت کا ستر اسکا پورا بدن ہے ماسوائے چہرے، ہا تھ اور پاؤں کے۔
(2)ایسے تمام لباس جو اتنے باریک ہوں کہ ان کے پہننے کے باوجود پورا بدن یا بدن کا کچھ حصہ ظاہر ہوتا ہو یا یہ امکان ہو کے پسینے یا کسی اور وجہ سے بھیگ کر جسم کو ظاہر کردے گا سے اجتناب واجب ہے۔
(3)ایسے تمام لباس جو اتنے چست ہوں کہ ان کے پہننے سے بدن کے خدوخال اور وضع قطع ظاہر ہو کا پہننا بھی ہرگز جائز نہیں، اسکن فٹنگ اور جینس کی پینٹس کا بھی یہی معاملہ ہے کہ جسم کی خدوخال اور بناوٹ کو واضع کرتا ہے۔
کچھ اور نقات ایسے ہیں جو لباس میں تقوا پیدا کرتے اور جنکا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، چنانچہ ذیل میں ہم ان نقات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں نظر ڈال رہے ہیں.
چنانچہ لباس چہرے كے علاوہ باقى سارے بدن كے ليے ساتر ہونا ضرورى ہے، اور علمائے كرام كا اس ميں اختلاف ہے كہ آيا نماز ميں عورت كے ليے ہتھيلياں اور قدم چھپانے واجب ہيں يا نہيں ؟
جمہور علمائے كرام ہتھیلیوں كو چھپانا واجب نہیں سمجھتے ، جبکہ امام احمد سے اس بارے میں دو روایات ہيں: اور شيخ اسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے عدم وجوب كو اختيار كيا ہے، اور " الانصاف " ميں انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ: "یہی موقف درست ہے"
جبکہ قدموں کے بارے میں جمہور مالکی، شافعی، حنبلی انہیں ڈھانپنے کے قائل ہیں، اسی پر دائمی فتوی کمیٹی (6/178) کا فتوی ہے۔
اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" نماز ميں چہرے كے علاوہ عورت كا سارا جسم ستر ہے، جبکہ ہتھیلیوں کے بارے ميں علمائے كرام كا اختلاف ہے: بعض علماء نے انہيں بھى چھپانا واجب قرار ديا ہے، اور بعض نے كھلا ركھنے كى اجازت دى ہے، ان شاء اللہ اس مسئلہ ميں وسعت ہے، ليكن ننگا ركھنے سے چھپانا افضل ہے، تا كہ اس مسئلہ ميں علماء كرام كے اختلاف سے بچا جائے، جبکہ جمہور اہل علم كے ہاں نماز ميں قدموں کو چھپانا واجب ہے " انتہى
"مجموع فتاوى ابن باز "( 10 / 410 )
.
اور امام ابو حنیفہ ، ثورى، اور مزنى رحمہم اللہ نماز ميں عورت كے قدموں كو ننگا ركھنے كے قائل ہيں، شيخ الاسلام ابن تيميہ اور مرداوى نے " الانصاف " میں اسی موقف کو اختيار كيا ہے۔
شيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ "شرح الممتع":(2/161) میں كہتے ہيں:
.
" اس مسئلہ ميں كوئى واضح دليل نہيں ہے، اسى ليے شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:"آزاد عورت کو مکمل طور پر ستر ہے، صرف وہ اعضاء جو اپنے گھر ميں کھلے رکھ سکتی ہے، یعنی چہرہ ہتھيلياں اور قدم ستر نہیں ہیں"، اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ : "رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں عورتيں گھروں ميں قمیصیں پہنا كرتى تھيں، اور ہر عورت كے پاس دو كپڑے نہيں تھے اسى ليے جب اسے حيض آتا تو وہ اسے دھو كر اس لباس ميں ہى نماز ادا كرتى تھىں، تو اس طرح قدم اور ہتھيلياں نماز ميں ستر نہيں، اسکا مطلب یہ نہیں کہ قدم، اور ہاتھ پر نظر ڈالی جاسکتی ہے۔
.
اور اس بنا پر كہ اس مسئلہ ميں كوئى ايسى دليل نہيں جس پر نفس مطمئن ہو، ميں اس مسئلہ ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كى تقليد كرتا اور كہتا ہوں کہ: ظاہری طور پر یہی لگتا ہے، اگرچہ ہم يہ بات ٹھوس لفظوں میں نہیں کہہ سکتے، كيونكہ چاہے عورت كا لباس اتنا لمبا ہو كہ وہ زمين پر لگ رہا ہو ليكن سجدہ كرتے وقت اس كے پاؤں كا نیچے والا حصہ ننگا تو ہو ہی جائيگا " انتہى
.
مزيد تفصیل ديكھنے كے ليے آپ "المغنى " ( 1 / 349 ) ، المجموع ( 3 / 171 ) ، بدائع الصنائع ( 5 / 121 ) ، الانصاف ( 1 / 452 ) اور مجموع الفتاوى ابن تيميہ ( 22 / 114 ) دیکھیں۔
.
اور اگر لباس اتنا باريك ہو كہ وہ نيچے سے بدن كو ظاہر كرے، اور اس كے نيچے سے جلد كا رنگ ظاہر ہوتا ہو تو يہ لباس باعث پردہ نہيں ہو گا۔
"روضۃ الطالبين" از: نووى ( 1 / 284 ) اور المغنى ( 2 / 286 )
.
اس كى دليل ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" جہنمیوں کی دو قسمیں ميں نے ابھی تک نہیں دیکھیں، ايك وہ قوم جس كے پاس گائے كى دموں كى طرح دُرّے ہونگے وہ اس سے لوگوں كو مارتے ہونگے اور [دوسری قسم]لباس پہننے کے باوجود ننگی عورتیں۔۔۔ "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 2128 )
.
حدیث کے لفظ: " كاسيات عاريات " کے بارے میں امام نووى رحمہ اللہ "المجموع"(4/3998) میں كہتے ہيں: اس كى وضاحت ميں كہا گيا ہے كہ : "وہ اتنا باريك لباس پہنے جو اس كے بدن كا رنگ واضح كرے"اور يہى معنى پسندیدہ ہے۔ انتہى
اور ابن عبد البر رحمہ اللہ "التمہید"(13/204) میں كہتے ہيں:
" حدیث کے الفاظ: " كاسيات عاريات " كا معنى يہ ہے كہ: رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم كى اس جملہ سے مراد وہ عورتيں ہيں جو اتنا باريك لباس پہنتى ہيں جو ان كا بدن ظاہر كرے اور چھپائے نہ، وہ نام كے اعتبار سے تو لباس پہنے ہوئے ہيں، ليكن حقيقت ميں ننگى ہيں " انتہى
عورت كا لباس كھلا اور لمبا چوڑا ہونے كى دليل اسامہ بن زيد رضى اللہ عنہما کی حدیث ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے ايك قبطى لباس پہننے كے ليے دیا، جو انہيں دحيہ كلبى نے بطور ہديہ دیا تھا، چنانچہ ميں نے وہ لباس اپنى بيوى كو پہنا دیا تو رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ( تم وہ قبطى لباس كيوں نہيں پہنتے ؟ ) تو ميں نے عرض كيا: "وہ تو ميں نے اپنى بيوى كو دے دىا ہے"، تو رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: (اسے كہو كہ وہ اس كے نيچے شميض پہنے، مجھے خدشہ ہے كہ وہ اس كے جسم كى ہڈيوں كى ساخت اور حجم واضح كرے گى )
بیہقی نے سنن الكبرى ( 2 / 234 ) ميں روايت كيا اور البانى نے " جلباب المراۃ المسلمہ" ( 131 ) ميں حسن قرار ديا ہے۔
.
شيخ صالح الفوزان كہتے ہيں:
" ايسا تنگ لباس جو جسم كے اعضاء اور عورت كے جسم اور اس كے سرين اور پچھلے حصہ اور جسم كے سارے جوڑوں كے حجم كو ظاہر كرے پہننا جائز نہيں، تنگ اور چست لباس نہ تو مردوں كے ليے پہننا جائز ہے، اور نہ ہى مردوں كے ليے، ليكن عورتوں كے ليے ايسا لباس پہننے كى ممانعت زيادہ شديد ہے، كيونكہ ان كے ساتھ فتنہ اور زيادہ ہوتا ہے.
ليكن ايسے لباس ميں نماز ادا كرنے كے متعلق يہ ہے كہ: اگر كسى شخص نے ايسے لباس ميں نماز ادا كى اور اس كا ستر اس لباس ميں چھپا ہوا ہو تو اس كى نماز صحيح ہو گى؛ كيونكہ ستر چھپا ہوا ہے، ليكن ايسا تنگ لباس پہننے پر وہ گنہگار ہے؛ اس ليے كہ لباس تنگ ہونے كى بنا پر نماز كے قوانين ميں كچھ خلل پيدا ہوگا، يہ تو ايك جانب سے ہے، اور دوسرى جانب سے يہ فتنہ كا باعث بھى ہے، اور پھر ايسے لباس والے كى طرف نظريں بھى اٹھنے كا باعث بنے گا، خاص كر جب ايسا لباس عورت پہن لے تو اور بھى شديد فتنہ كا باعث بنے گى.
اس ليے عورت پر واجب اور ضرورى ہے كہ كھلا لباس پہن كر اپنے آپ كو چھپا كر ركھے، اور اس كے كسى بھى عضو كا حجم ظاہر نہ ہوتا ہو، اور نہ ہى اس كى طرف نظريں اٹھنے كا باعث بنے، اور نہ ہى اس كا لباس باريك اور شفاف ہو، بلكہ عورت ايسا لباس زيب تن كرے جو اس كے سارے جسم كے ستر كو چھپا كر ركھے" انتہى.
ديكھيں: المنتقى من فتاوى الشيخ صالح الفوزان ( 3 / 454 )
.
اور شيخ صالح الفوزان كہتے ہيں:
" ايسا تنگ لباس جو عورت كے جسم اور اعضاء اور اس كے پچھلے حصہ اور اعضاء كے خد وخال واضح كرتا ہو اس كا پہننا جائز نہيں، تنگ لباس نہ تو مردوں كے ليے اور نہ ہى عورتوں كے ليے پہننا جائز ہے، ليكن عورتوں كے ليے ليے تو اور بھى زيادہ شديد منع ہے، كيونكہ ان كے ساتھ فتنہ زيادہ ہوتا ہے۔
رہا مسئلہ نماز كا؛ تو جب انسان نماز ادا كرے اور اس كا ستر اس لباس كے ساتھ ڈھانپا ہوا ہو؛ تو اس كى نماز صحيح ہے؛ كيونكہ ستر ڈھانپا ہوا ہے، ليكن تنگ لباس ميں نماز ادا كرنے والا گنہگار ہو گا؛ اس ليے كہ اس نے لباس تنگ ہونے كى بنا پر نماز ميں مشروع اشياء ميں كچھ نہ كچھ خلل پيدا ہوا ہے ،یہ تو ایک اعتبار سے ، دوسرے اعتبار سے یہ ہے کہ تنگ لباس خاص طور پر خواتین کا لباس توجہ كا باعث بنےگا،اس لئے خواتین کیلئے کھلے ، ڈھیلے ڈھالے ، اور پورے جسم کو ڈھانپنے والے لباس لازمی طور پر زیب تن کریں، جو اسکے جسم کے کسی حصہ کو نمایاں مت کرے، اور نہ ہی دیکھنے والوں کیلئے جاذب نظر ہو، اسی طرح باریک شفاف، لباس کی بجائے، مکمل طور پر اچھی طرح جسم کو ضرور ڈھکے" انتہى
المنتقى من فتاوى شيخ صالح الفوزان ( 3 / 454 )
