Thursday, March 13, 2025

زمانہ جاہلیت میں مصیبت سے بچنے کے لیے دھاگے باندھا کرتے تھے ، ان دھاگوں کو ''رتیمہ'' کہا جاتا ہے

 ☘ہاتھ پاؤں میں دھاگے باندھنا یا کڑا پہننا.☘


ہاتھ پاؤں یا گلے میں مختلف رنگوں کے دھاگے یازنجیر یا کڑے باندھنا  اگر کسی نفع کی امید یا نقصان سے بچاؤ کی نیت وعقیدہ سے ہو تو  اس عقیدہ کے ساتھ ہاتھوں میں دھاگہ یا زنجیر کا باندھنا حرام ہے؛  اس لیے کہ  نفع ونقصان پہنچانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ، اللہ ہی بھلائیاں عطا کرتے ہیں اور مصیبتوں سے بچاتے ہیں ،بلکہ بعض فقہاء نے تو اسے افعالِ کفر میں شمار کیا ہے ، ☘ہاتھ پاؤں میں دھاگے باندھنا یا کڑا پہننا.☘


ہاتھ پاؤں یا گلے میں مختلف رنگوں کے دھاگے یازنجیر یا کڑے باندھنا  اگر کسی نفع کی امید یا نقصان سے بچاؤ کی نیت وعقیدہ سے ہو تو  اس عقیدہ کے ساتھ ہاتھوں میں دھاگہ یا زنجیر کا باندھنا حرام ہے؛  اس لیے کہ  نفع ونقصان پہنچانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ، اللہ ہی بھلائیاں عطا کرتے ہیں اور مصیبتوں سے بچاتے ہیں ،بلکہ بعض فقہاء نے تو اسے افعالِ کفر میں شمار کیا ہے ، زمانہ جاہلیت میں لوگ گردن میں یا ہاتھ میں اپنے عقیدہ کے مطابق خود کو مصیبت سے بچانے کے لیے دھاگے باندھا کرتے تھے ، ان دھاگوں کو ''رتیمہ'' کہا جاتا ہے ، فقہاء نے لکھا ہے کہ: یہ ممنوع ہے، اور بعض فقہاء نے تو اسے کفریہ کاموں میں شمار کیا ہے :


'' ثم رتیمۃ... ھی خیط کان یربط فی العنق أو فی الید فی الجاہلیۃ لدفع المضرة عن أنفسہم علی زعمہم ہو منہ عنہ وذکر فی حدود الیمان أنہ کفر '' (رد المحتار ، ج:۶، ص: ۳۶۳


🌸رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں پیتل کا کڑا دیکھا تو فرمایا: تجھ پر افسوس ہے تو نے کیا کیا، اُس نے عرض کیا میں نے بیماری کی وجہ سے پہنا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے تیری بیماری میں اضافہ ہی ہو گا اس کو اُتار دے کیوں کہ اگر تو اس حالت میں ہی مر گیا تو کبھی فلاح نہیں پائے گا۔ 

(مسند احمد سند صحیح جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 446 حدیث نمبر 20422


🌸 *حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن حضرت عبداللہ نے میرے گردن میں دھاگا پڑا ہوا دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا یہ دھاگا ہے جس پر میرے لئے دم کیا گیا ہے (یعنی منتروں کے ذریعہ اس دھاگے کا گنڈہ بنوا کر میں نے اپنے گلے میں ڈال لیا ہے ) زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت عبداللہ نے (یہ سن کر ) اس دھاگے کو (میری گردن سے ) نکال لیا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور پھر کہا کہ اے عبداللہ کے گھر والو، تم شرک سے بے پرواہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ منتر منکے، اور ٹوٹکے شرک ہیں ۔ میں نے کہا آپ یہ بات کس طرح کہہ رہے ہیں (یعنی آپ گویا منتر سے اجتناب کرنے اور توکل کو اختیار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں جب کہ مجھ کو منتر سے بہت فائدہ ہوا ہے ) چنانچہ میری آنکھ (درد کے سبب ) نکلی پڑی تھی اور میں فلاں یہودی کے ہاں آیا جایا کرتی تھی اس یہودی نے جب منتر پڑھ کر آنکھ کو دم کیا تو آنکھ کو آرام مل گیا ۔ حضرت عبداللہ نے کہا کہ (یہ تمہاری نادانی و غفلت ہے ) اور وہ درد اس کا اچھا ہو جانا منتر کے سبب سے نہیں تھا بلکہ (حقیقت میں ) وہ شیطان کا کام تھا، شیطان تمہاری آنکھ کو کونچتا تھا (جس سے تمہیں درد محسوس ہوتا تھا) پھر جس منتر کو پڑھا گیا تو (چونکہ وہ ایک شیطان کا کام تھا اس لئے ) شیطان نے کونچنا چھوڑ دیا،  تمہارے لئے وہ دعا بالکل کافی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے کہ ۔ اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفاء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما (یعنی اے لوگوں کے پروردگار تو ہماری بیماری کو کھودے اور شفا عطا فرما (کیونکہ ) تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ شفا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے* ! ۔" (ابوداؤد )


🌸 *ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے ہاتھ میں (گنڈا) دم کیا ہوا دھاگہ بندھا ہوا دیکھا جو اس نے بخار دور کرنے کے لیے باندھا تھا آپ اس دھاگے کو کاٹ دیا اور قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی*

*وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ١٠٦؁*

ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ۔ یوسف:۱۰۶


 اللہ تعالی شرک کو کبھی معاف نہیں کرتا اسلئے مسلمانوں کے لیے ان شرکیہ امور سے بچنا واجب وضروری ہے۔


واللہ اعلم ، فقہاء نے لکھا ہے کہ: یہ ممنوع ہے، اور بعض فقہاء نے تو اسے کفریہ کاموں میں شمار کیا ہے :


'' ثم رتیمۃ... ھی خیط کان یربط فی العنق أو فی الید فی الجاہلیۃ لدفع المضرة عن أنفسہم علی زعمہم ہو منہ عنہ وذکر فی حدود الیمان أنہ کفر '' (رد المحتار ، ج:۶، ص: ۳۶۳


🌸رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں پیتل کا کڑا دیکھا تو فرمایا: تجھ پر افسوس ہے تو نے کیا کیا، اُس نے عرض کیا میں نے بیماری کی وجہ سے پہنا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے تیری بیماری میں اضافہ ہی ہو گا اس کو اُتار دے کیوں کہ اگر تو اس حالت میں ہی مر گیا تو کبھی فلاح نہیں پائے گا۔ 

(مسند احمد سند صحیح جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 446 حدیث نمبر 20422


🌸 *حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن حضرت عبداللہ نے میرے گردن میں دھاگا پڑا ہوا دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا یہ دھاگا ہے جس پر میرے لئے دم کیا گیا ہے (یعنی منتروں کے ذریعہ اس دھاگے کا گنڈہ بنوا کر میں نے اپنے گلے میں ڈال لیا ہے ) زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت عبداللہ نے (یہ سن کر ) اس دھاگے کو (میری گردن سے ) نکال لیا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور پھر کہا کہ اے عبداللہ کے گھر والو، تم شرک سے بے پرواہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ منتر منکے، اور ٹوٹکے شرک ہیں ۔ میں نے کہا آپ یہ بات کس طرح کہہ رہے ہیں (یعنی آپ گویا منتر سے اجتناب کرنے اور توکل کو اختیار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں جب کہ مجھ کو منتر سے بہت فائدہ ہوا ہے ) چنانچہ میری آنکھ (درد کے سبب ) نکلی پڑی تھی اور میں فلاں یہودی کے ہاں آیا جایا کرتی تھی اس یہودی نے جب منتر پڑھ کر آنکھ کو دم کیا تو آنکھ کو آرام مل گیا ۔ حضرت عبداللہ نے کہا کہ (یہ تمہاری نادانی و غفلت ہے ) اور وہ درد اس کا اچھا ہو جانا منتر کے سبب سے نہیں تھا بلکہ (حقیقت میں ) وہ شیطان کا کام تھا، شیطان تمہاری آنکھ کو کونچتا تھا (جس سے تمہیں درد محسوس ہوتا تھا) پھر جس منتر کو پڑھا گیا تو (چونکہ وہ ایک شیطان کا کام تھا اس لئے ) شیطان نے کونچنا چھوڑ دیا،  تمہارے لئے وہ دعا بالکل کافی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے کہ ۔ اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفاء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما (یعنی اے لوگوں کے پروردگار تو ہماری بیماری کو کھودے اور شفا عطا فرما (کیونکہ ) تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ شفا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے* ! ۔" (ابوداؤد )


🌸 *ابن ابی حاتم رحمتہ اللہ علیہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کے ہاتھ میں (گنڈا) دم کیا ہوا دھاگہ بندھا ہوا دیکھا جو اس نے بخار دور کرنے کے لیے باندھا تھا آپ اس دھاگے کو کاٹ دیا اور قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی*

*وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ١٠٦؁*

ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں ۔ یوسف:۱۰۶


 اللہ تعالی شرک کو کبھی معاف نہیں کرتا اسلئے مسلمانوں کے لیے ان شرکیہ امور سے بچنا واجب وضروری ہے۔


واللہ اعلم

رمضان کے اخری دس دن ضحیح احادیث سے

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری کرتے، اپنے گھر والوں کو بھی اس کے لیے...